مشال خان کے قتل میں ملوث اصل ملزم کیوں گرفتار نہیں ہو سکے ؟

مشال خان کے قتل میں ملوث اصل ملزم کیوں گرفتار نہیں ہو سکے ؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

خیبر پختونخوا کی حکومت کے بار بار اصرار کے باعث ہم نے مان لیا تھا کہ صوبے کی پولیس غیر سیاسی ہوگئی ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس غیر سیاسی پولیس کو اب اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی، وہ ایسی پولیس ہے جس کی چار دانگ عالم میں یہ شہرت بن چکی ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر پر نہ صرف نظر رکھتی ہے بلکہ جہاں کہیں جرم ہوتا ہے فوراً اس کی تہہ تک پہنچتی ہے۔ مجرموں کو گرفتار کرتی ہے، ان کے مقدمات کے چالان بناتی ہے، عدالتوں میں پیش کرتی ہے اس سے آگے عدالتوں کا کام ہے وہ کسی کو سزا سنائیں یا نہ سنائیں۔ خیبر پختونخوا ایسا صوبہ ہے جہاں قبائلی معاشرت کی جڑیں بہت مضبوط ہیں، دشمنیاں بھی سال ہا سال چلتی ہیں، وقتی اشتعال پر بھی قتل ہو جاتے ہیں، قریبی رشتے دار تک معمولی معمولی باتوں پر قتل کردیتے ہیں۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ صوبے کے باہر قتل یا جرائم نہیں ہوتے یا کم ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پولیس جرائم پیشہ لوگوں سے کوئی رو رعایت نہیں کرتی، غیر جانبداری کے ساتھ تفتیش کرتی ہے۔ سیاسی دباؤ کے بغیر جس نتیجے پر پہنچتی ہے اس کی روشنی میں آزادانہ فیصلے کرتی ہے، یہ سارے کام اسی وقت ہوسکتے ہیں جب پولیس کے سربراہ کو ان کے فیصلوں میں آزادی حاصل ہو اور ان پر دباؤ نہ پڑے، مقدمات کے سلسلے میں دباؤ ضروری نہیں حکمرانوں یا حکومت میں شامل لوگوں کی طرف سے ہو، یہ دباؤ مختلف شکلوں میں ہوسکتا ہے مثلاً کسی مقدمے میں اگر کوئی ایسا شخص یا اشخاص ملوث ہوں جن کا خاندان بااثر ہو یا مالی حیثیت اتنی ہو کہ وہ تفتیش پر اثرانداز ہوسکے، غیر سیاسی پریشر گروپ بھی اپنے اپنے انداز میں مقدمات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں غرض افراد معاشرہ یا تنظیمیں کسی نہ کسی انداز میں تفتیش پر اثرانداز ہوتی ہیں اور نتیجے کے طور پر ایسا مقدمہ بنتا ہے جس میں سزا کم ہو یا سرے سے ہی نہ ہو، یا مقدمے میں ایسے جھول رہ جائیں یا جان بوجھ کر چھوڑ دیئے جائیں کہ بالآخر ملزم سزا سے بچ جائیں کیونکہ عدالتی نظام میں ٹھوس شہادتوں کی اہمیت ہوتی ہے، جن کے بغیر کسی کو سزا نہیں ملتی اور اگر لوئر کورٹ سے سزا ہو جائے تو اعلیٰ عدالتیں چھوڑ دیتی ہیں۔ ہم نے یہ رائے قائم کرلی تھی کہ خیبر پختونخوا اگرچہ کسی ترقی یافتہ ملک کا صوبہ نہیں ہے مگر پولیس کی حد تک اس کا کلچر پوری طرح بدل چکا ہے اور پنجاب میں جس تھانہ کلچر کو بدلنے میں آج تک کامیابی نہیں ہوسکی وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں نہ صرف بدل چکا ہے بلکہ لوگ اپنی آنکھوں سے یہ تبدیلی دیکھ بھی رہے ہیں اور محسوس بھی کر رہے ہیں۔ اسی لئے تو عمران خان نے پورے وثوق کے ساتھ وزیراعظم کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کے خرچے پر خیبر پختونخوا میں آئیں اور دیکھیں کہ صوبے میں ’’نیا پاکستان‘‘ کس طرح بن گیا ہے لیکن ایک بیان نے ہماری توجہ کھینچی ہے جو عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کے والد کی جانب سے جاری ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے مشال خان کے اصل قاتل گرفتار نہیں کئے، ابھی تک صرف اداکار پکڑے ہیں، ہدایت کار اور سہولت کار نہیں پکڑے۔ مثال خان کو یونیورسٹی کے اندر مشتعل ہجوم نے انتہائی دل آزار انداز میں قتل کردیا تھا اس کی جو ویڈیو سامنے آئی اسے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم پانے والے میچور طالب علم اس حد تک گرسکتے ہیں کہ ایک انسانی جان کو کسی استحقاق کے بغیر قتل کردیں۔ مشال خان پر الزام کی نوعیت جتنی بھی سنگین ہو، اس کیلئے قانون کے اندر طے شد طریق کار موجود تھا لیکن مشتعل ہجوم نے خود ہی مدعی، خود ہی گواہ، خود ہی منصف کا کردار ادا کیا اور انتہائی سزا دے ڈالی۔

یہ جرم تو سرزد ہوگیا، ہونی ہوگئی، پولیس آگے بڑھ کر اسے نہ روک سکی لیکن اب مجرموں کو گرفتار کرنا اور انہیں قانون کے حوالے کرنا تو پولیس کی ذمہ داری ہے اور چونکہ واقعہ خیبر پختونخوا میں ہوا ہے جہاں نیا پولیس کلچر قائم ہوچکا ہے اور پولیس غیر سیاسی ہوچکی ہے وہاں کسی حکمران یا کسی دوسرے دباؤ کو بالائے طاق رکھ کر مجرموں کو گرفتار کرکے مقدمہ عدالت کے سپرد کردینا چاہئے تھا جو قانون کے مطابق اور شہادتوں کی روشنی میں فیصلہ کرتی لیکن مقتول کے والد کو گلہ ہے کہ اصل قاتل پکڑے ہی نہیں گئے۔ معلوم نہیں پولیس کے پاس اس کا کوئی جواب ہے یا نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جو لوگ پکڑے گئے ہیں اور جنہیں متاثرہ فریق اداکار قرار دے رہا ہے کیا وہ بے قصور ہیں؟ اور ان کے ہدایت کار اور سہولت کار کیوں نہیں پکڑے جا رہے، وقوعہ کی ویڈیوز موجود ہیں جن کی روشنی میں گرفتاری چنداں مشکل نہیں ہے، اگر اداکار پکڑے گئے ہیں تو ان سے تفتیش کرکے ہدایت کار اور سہولت کار بھی پکڑے جاسکتے ہیں لیکن ایسے لگتا ہے صوبے کی پولیس ابھی تک سیاسی اثرات سے پوری طرح آزاد نہیں ہوسکی اور ایسے دعوے محض خوش خیالی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مجرموں کو بغیر رو رعایت کے گرفتار کرنا زیادہ مشکل نہ تھا، ان کا تعلق اگر یونیورسٹی سے ہے تو سب لوگ سامنے ہیں، وہ طالب علم ہیں تو یونیورسٹی میں آتے ہوں گے۔ اگر یونیورسٹی کے ملازم ہیں تو بھی سروس کے تقاضوں کے تحت انہیں یونیورسٹی آنا پڑتا ہوگا اس لئے گرفتاری نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ سیاسی تقاضوں کے تحت پولیس اصل مجرموں پر ہاتھ نہ ڈال رہی ہو یا نہ ڈالنا چاہتی ہو یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ بعض گرفتاریوں کیلئے اس کے پر جلتے ہوں۔ اس بات کا جواب بہرحال پولیس سربراہ کے ذمے ہے کہ اصل ملزم گرفتار کیوں نہیں ہو رہے، یہ وضاحت بھی ہونی چاہئے کہ مقتول کے والد کے موقف میں کتنی صداقت ہے‘ یہ بھی تو ممکن ہے صدمے کی کیفیت کی وجہ سے وہ ایسے لوگوں کو بھی مجرم سمجھے بیٹھے ہوں جو حقیقت میں مجرم نہ ہوں۔ بہرحال پولیس کے ذمے جواب فرض ہے اور ہوسکے تو حکومت کے متعلقہ حضرات بھی وضاحت کرسکتے ہیں کیونکہ اس الزام نے تو اس دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ صوبے کی پولیس غیر سیاسی ہوچکی ہے اور فیصلے میرٹ پر ہونے لگے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -