عبدالغور حیدری پر خود کش حملہ در اصل پاکستان کی پارلیمان پر حملہ ہے :مولانا سمیع الحق

عبدالغور حیدری پر خود کش حملہ در اصل پاکستان کی پارلیمان پر حملہ ہے :مولانا ...

  

نوشہرہ ،صوابی ،چارسدہ ،بٹ خیلہ (نمائندگان پاکستان )جمعیت علماء اسلام کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے سانحہ مستونگ اور مولانا عبدالغفور حیدری پر حملے کی سخت مذمت کی اورمعصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے کہا ایسے اقدامات کا کوئی مسلمان تو کیا کوئی درندہ صفت انسان بھی سوچ نہیں سکتا، مولانا سمیع الحق نے کہاکہ عبدالغفور حیدری پرحملہ پاکستان کی پارلیمان پر حملہ ہے۔ مولانا نے کہا کہ دہشت گرد ایسے بزدلانہ حملے کرکے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ مولانا سمیع الحق نے کہاکہ دشمن پاکستان میں انتشار پھیلانے کا خواہاں ہے ہمیں اندرونی و بیرونی دشمنوں پر نظر رکھنا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے انقلابی منصوبوں کی وجہ سے بلوچستان دشمنوں سے ہضم نہیں ہوپارہا ہے، آس پاس کے پاکستان دشمن ممالک اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ بلوچستان اورپاکستان کی تباہی پر تلے ہوئے ہیں مگر حکومت انہیں بے نقاب کرنے میں ناکام ہورہی ہے، مولانا سمیع الحق نے کہاکہ دفاع پاکستان کونسل میں شامل تمام دینی جماعتیں اور خود ہماری جماعت جمعیۃ علماء اسلام ایسے ہر سفاکانہ اور بزدلانہ دہشت گردی کی ہمیشہ مخالف رہی ہے، بلکہ حتی الواسع تمام فرقہ وارانہ اور تفرقہ انگیز کاروائیوں کے مٹانے میں سرگرم رہتی ہے ۔مولانا نے کہاکہ ریاست کی ذمہ داری ہے ایسے واقعات کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کرے اور واقعہ میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما اور صوبائی نائب امیر مولانا مفتی کفایت اللہ اور صوبائی نائب و ضلعی امیر صوابی مولانا عطاء الحق درویش نے مستونگ کوئٹہ میں ڈپٹی سپیکر سینیٹ آف پاکستان اور مرکزی سیکرٹری جنرل جے یو آئی مولانا عبدالغفور حیدری اور ان کے قافلے پر خود کش حملے اور اس کے نتیجے میں 28افراد کی شہادت اور چالیس سے زائد زخمی ہونے کے واقعہ کی شدید مذمت کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بعض قوتیں انتشار اور انارکی پیدا کر رہی ہے تاکہ علماء حق پاکستان میں دین اسلام کی سر بلندی اور نظام اسلام کے نفاذ کے لئے عملی جدوجہد کے راستے سے بعض رکا جا سکے لیکن اس ملک میں جے یو آئی اور علماء حق اپنے اس سفر سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس قسم کے مزموم حرکتوں سے علماء ڈرنے والے نہیں۔ ہفتہ کو مرکزی کونسل کے رکن نور الا سلام کے والد حاجی عبدالوہاب خان کی وفات پر فاتحہ خوانی کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ اضا خیل نوشہرہ میں جمعیت علماء اسلام نے پاکستان کی تاریخ میں جن عالمی اجتماع عام کا انعقاد کیا تھا اور اس کے پاکستان سمیت دنیا بھر میں جو اثرات سامنے آئے ہیں اس اثرات کو زائل کرنے کے لئے مستونگ میں یہ حرکت کی گئی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین کے مطابق نظام اسلام اور اسلام کی سر بلندی کے لئے جے یو آئی اور علماء کا پر امن جدوجہد ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جاری رہے گاہم اس جدوجہد میں تشدد اور اشتعال کے قائل نہیں پُر امن جدوجہد ہمارا حق ہے اور یہ جاری رہے گا انہوں نے صوبہ بھر کے امراء اور نظماء سے اپیل کی کہ آج اتوار کو اپنے اپنے اضلاع میں اس واقعہ کے خلاف پُر امن احتجاج کریں۔ انہوں نے تمام شہداء کے لئے مغفرت اور عبدالغفور حیدری کے لئے تمام زخمیوں کی صحت یابی کے لئے خصوصی دُعا کی۔ ضلعی امیر مولانا عطاء الحق درویش نے کہا کہ آج اتوار کی صبح صوابی میں بھی بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا جائیگا ضلعی تر جمان محمد ہارون حنفی نے ضلع بھر کے کارکنان سے اس مظاہرے میں بھر پور شرکت کی اپیل کی # اہلسنت والجماعت کا سینٹ کے ڈپٹی چےئرمین اور جے یوآئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری پر قاتلانہ حملے کی مذمت ۔ سانحہ مستونگ کھلی دہشتگردی ہے ۔ مولانا عبدالغفور حیدری غیر متنازعہ شخصیت کے مالک ہے ۔اشتیا ق احمد ۔ تفصیلات کے مطابق اہلسنت والجماعت کے ضلعی صدر اشتیاق احمد نے سانحہ مستونگ کو کھلی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا عبدالغفور حیدری جیسے غیر متنازعہ شحصیت پر خود کش حملہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ مولانا صاحب پر حملے میں ہمسایہ ممالک کے ملوث ہونے کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایران نے واضح طو ر پر پاکستان میں تحریبی کاروائی کی دھمکی دی تھی ۔ انہوں نے خارجہ پالیسی تبدیل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ خارجہ پالیسی کی تبدیلی کے بغیر پاکستان کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے اور نہ عوام کے مال وجان کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے سانحہ مستونگ میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مولانا عبدالغفور حیدری پر خود کش حملے کے خلاف جے یوآئی چارسدہ آج احتجاجی مظاہرہ کریگی ۔ مظاہرے کیلئے تمام تیاریاں مکمل ۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت ضلعی امیر مولانا محمد ہاشم خان منعقد ہوا۔ اجلاس میں جنرل سیکرٹری مفتی گوہر علی شاہ ، نائب امیر مولانا الہی جان ، ڈ پٹی جنرل سیکرٹری حنیف اللہ حسرت ، مولانا طیب ، سید منتظر شاہ ، مولانا شوکت علی ، حاجی عبدالرحمان ، مفتی طاہر اللہ ،سالار پیر اکبر ، ضلعی ترجمان عطاء اللہ خان اور دیگر ذمہ داران نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور ڈپٹی چےئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری پر مستونگ میں خود کش حملے کی شدید مذمت کی گئی ۔ اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری پر خود کش حملے کے خلاف آج جے یوآئی ضلع چارسدہ کے زیر اہتمام فاروق اعظم چوک میں احتجاجی مظاہرے کا فیصلہ کیا گیا اور اس حوالے سے تمام تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ احتجاجی مظاہرے کیلئے تینوں تحصیلوں سے جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان صبح آٹھ بجے جامع مسجد پشاور روڈ پہنچنے نگے اور جلو س کی شکل میں فاروق اعظم چوک پہنچنے نگے ۔ اجلاس میں 18مئی کو شبقدر میں تحصیل ناظم ظفر علی خان کی جمعیت علمائے اسلام میں شمولیتی جلسہ کی کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیااور جلسہ کے تیاریوں کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ۔ جمعیت علماء اسلام تحصیل بٹ خیلہ کے امیرلطیف الرحمان اورسرپرست اعلیٰ مولاناجاوید نے بلوچستان کے صوبہ مستوج میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی راہنماڈپٹی چئیرمین سینٹ عبدالغفوری حیدری کے قافلے پرخودکش حملے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ واقعے میں ملوث ملزمان کوفوری طورپرگرفتارکرکے قرارواقعی سزادی جائے اوواقعے میں شہیداورزخمی ہونے والو ں کے ساتھ مالی ا مدادکیاجائے انہوں نے کہاکہ مرکزی قائد مولانافضل الرحمان کے کال پرآج بٹ خیلہ میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاجائے گااورہم اپنے قائدین کے کال پرکسی بھی مالی وجانی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -