توہین رسالتؐ قوانین میں ہرگز اجازت نہیں دینگے ،علی محمد خان

توہین رسالتؐ قوانین میں ہرگز اجازت نہیں دینگے ،علی محمد خان

  

شیرگڑھ (نامہ نگار)ممبر قومی اسمبلی علی محمد خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ افغانستان کا جہاد لڑنا ضیاء الحق کا عظیم کارنامہ ہے افغان جہاد کو فساد کہنے والے اسلام کے دشمن ہے پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیاہے لیکن یہاں کے قوانین اسلامی نہیں پی ٹی آئی ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں لیکن توہین رسالت قوانین میں تبدیلی کی ہرگز اجازت نہیں دیگی دین سمجھنے والوں کے پاس اقتدار نہیں اور ارباب اقتدار دین کو سمجھنے سے بے خبرہیں دنیا میں دو ممالک نظرئے کی بنیاد پر قائم ہوئے ہیں پاکستان اسلام کے نام پر جبکہ اسرائیل یہودی ایجنڈے کی تکمیل کے نام پر قائم ہوا ہے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے ایجوکیشن، ہسپتال اور پولیس نظام میں کافی حد تک بہتری لائی ہے جبکہ دوسرے محکموں میں اصلاحات لانے میں لگے ہوئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوند خوڑ کے مقام پر دارالعلوم تعلیم الاسلام میں 21واں سالانہ جلسہ دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے ممتاز سکالر مولانا عبدالقیوم حقانی ، مولانا عرفان الحق حقانی اوردارالعلوم ہذٰا کے مہتمم مولانا محمد اسرائیل نے بھی خطاب کیااس موقع پر 25طلباء کی دستار بندی کی گئی انہوں نے کہاکہ قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے قیام کے وقت اسلام کے صحیح سیاسی وسماجی اور سنہری اصولوں پر عمل کرنے کی تاکید کی اور بعد میں ہمارے حکمرانوں نے آئین بھی اسلامی بنایا لیکن بدقسمتی سے یہاں انگریزوں کے قوانین لاگو ہیں پاکستان کے عوام ابھی بھی اسلامی نظام کے نفاذ کے حق میں ہیں اسلامی نظام سے چور، قاتل ،سود خور،منشیات فروش اور ظالم وغیرہ ڈرتے ہوں گے انہوں نے کہا کہ سابق فوجی حکمران ضیاء الحق سے لاکھ سیاسی اختلافات ہوں گے لیکن انہوں نے افغان جہاد لڑ کر اسلام کی بڑی خدمت کی انہوں نے کہا کہ افغان جہاد کو فساد کہنے والے اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی دو تین سیاسی پارٹیاں سزائے موت کی سزا کو ختم کرناچاہتے ہیں اور کچھ توہین رسالت میں ترمیم کی باتیں کرتے رہتے ہیں پی ٹی آئی ملک میں تبدیلی کی حامی ہیں لیکن توہین رسالت اور اسلامی قوانین میں ایک بھی ترمیم نہیں ہونے دیگی انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور مغربی ممالک پاکستان میں ایک سازش کے تحت مسلمانوں میں فحاشی وعریانی کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ پاکستان کو عسکری اور فکری لحاظ سے بھی تنزلی کی طرف دھکیل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاستدان، علماء کرام اور عوام کو متحد ہوکر ان تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرناہوگا اور علم اور ٹیکنالوجی میں ان ممالک سے آگے جانا ہوگا تب ہم اصل میں مسلمان کہلانے کے لائق ہوں گے کیونکہ علم اصل میں مسلمانوں کا میراث مانا جاتا ہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -