مدارس ملک میں شرح خواندگی بڑھانے کیلئے کوشاں ہے:قاری محمد حنیف جالندھری

مدارس ملک میں شرح خواندگی بڑھانے کیلئے کوشاں ہے:قاری محمد حنیف جالندھری

  

پشاور( سٹاف رپورٹر ) مدرسہ ریفارمز کی بات نہیں مانتے ، ایجوکیشن ریفامز کی بات کی جائے، حکومت رجسٹریشن کہتی ہے کرتی نہیں( مولاناقاری محمد حنیف جالندھری) خود کش حملوں کے خلا ف 2004 ؁ میں سب سے پہلا وفاق المدارس نے دیا ، امسال وفاق المدارس کے سالانہ امتحانات میں تین لاکھ طلبہ وطالبات شریک ہونگے۔تفصیلات کے مطابق جامعہ عثمانیہ پشاور میں وفاق المدارس کا ایک اعلی سطح اجلاس زیرِ ِ صدارت مرکزی نائب صدر نائب مہتمم دارالعلوم حقانیہ مولانا انوارالحق منعقد ہوا جس میں صوبہ بھرسے وفاق المدارس کے مسؤلین ، امتحانی کمیٹی کے اراکین ، مجلس عاملہ کے اراکین نے شرکت کی ۔ اجلاس میں وفاق المدار س کے زیرا نتظام 21اپریل سے شروع ہونے والے سالانہ امتحانات کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔بعد ازاں وفاق المدارس کے ناظم اعلی مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح عالمی سطح پر اسلام کو ہدف بنایاجاتا ہے اسی طرح دینی مدارس کو دہشت گردی اور تشدد پسندی سے جوڑنے کی ناکام کوششیں شروع ہیں ۔ حکومتی اور عالمی سطح پر منفی مہم کے باوجود مدارس اور طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے سالانہ دوسے تین لاکھ طلبہ وطالبات کا اضافہ ہورہا ہے یہ مدارس پر عوام اور قوم کی اعتماد کی دلیل ہے ۔ اس سال وفاق المدارس پاکستان کو اکہتر ہزار حفاظ دے رہے ہیں دنیا کے کسی اور ملک میں اتنے تعداد میں حفاظ تیار نہیں ہوتے یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا عزاز ہے۔اس سال دس ہزار بچے اور بچیاں عالم بن کر وفاق المدارس سے فارغ ہورہے ہیں ۔ مدارس ملک میں شرح خواندگی بڑھانے میں اپنا کردار اداکرتے رہینگے۔ وفاق المدارس بین الاقوامی ادارہ بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ دینی علوم حاصل کرنے کے لیے بیرون ممالک سے لوگ پاکستان آتے ہیں ۔دینی مدارس کی آزادی اور حریت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔انہو ں نے کہا کہ جس طرح دہشت گردی اور انتہا پسندی کا تعلق اسلام سے جوڑنا غلط ہے بالکل اسی طرح مدارس سے ان چیزوں کا تعلق جوڑنا غلط ہے ۔ مدارس اسلام کی بقاء کا ذریعہ ہے ۔دینی مدارس اور حکومتی سطح پر جوباتیں طے ہوئی ہیں اس کی خلاف ورزیاں حکومت کرتے ہیں مدارس نہیں ۔مدارس کی رجسٹریشن میں سب سے بڑی روکاٹ خود حکومت ہے ۔ حکومت رجسٹریشن کہتی ہے کرتی نہیں ۔ الٹاالزام مدارس پر لگاتے ہیں ۔چاروں صوبوں سے مدارس رجسٹریشن کا قانون منظور شدہ ہے ۔ اس قانون پر حکومت عمل درآمد نہیں کرتی ۔حکومت سنجیدگی کا مظاہر ہ کرے ۔ قوم سے سچ بولے۔ حکومت چاہتے ہیں کہ مدارس سکول بن جائے ۔ مدارس ملک کی نظریے اور جغرافیہ کے چوکیدار ہیں ۔ حکومت سے پزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مدارس ریفامز کی بات نہ کی جائے بلکہ ایجوکیشن ریفامز کی بات کی جائے۔ عمومی نظام تعلیم کی طرف توجہ دی جائے جب دونوں طرف اصلاحات ہوجائے تب مسٹر اور ملاکا فرق ختم ہوجائے گا۔ یہ ملک کلمہ اور حضور ﷺ کے نام پر بنا ہے اگر یہاں حضور ﷺ کی ناموس وعزت محفوظ نہ ہو ں تو پھر یہاں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ ریاست کی ذمہ اری ہے کہ سوشل میڈیا پر جن لوگوں نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے اس کو عبرتناک سزا دی جائے۔ اگر اس مسئلہ میں حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو پھر غازی علم دین اور ممتاز قادری جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خود کش حملوں کے خلاف2004 ؁ میں سے پہلا واضح مؤقف وفاق المدارس کا آیا اور اس کے خلاف فتوی جاری کیا۔پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مسلح جدوجہد کرنا ،ہتھیار اٹھانا غیر شرعی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن مدارس کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں ۔تقریب میں جمعیت علماء اسلام کے راہنما مفتی کفایت اللہ اور وفا ق المدارس کے صوبائی ناظم مولانا حسین احمد نے بھی خطاب کیا ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -