انسانی حقوق کی پامالی کی روک تھام میں وکلاء کا تعاون مثالی نتائج فراہم کر سکتا:غلام علی خان

انسانی حقوق کی پامالی کی روک تھام میں وکلاء کا تعاون مثالی نتائج فراہم کر ...

  

ڈیرہ اسماعیل خان (بیورورپورٹ)ڈائریکٹر انسانی حقوق خیبر پختونخواہ غلام علی خان نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کی روک تھام میں وکلاء اور معاشرہ کا مشترکہ تعاون مثالی نتائج فراہم کر سکتا ہے اس ضمن میں شعور بیداری مہم قابل ستائش ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت انسانی حقوق حکومت پاکستان کی جانب سے خواتین سے متعلق خصوصی قوانین بارے وکلاء کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کے دوران کیا ورکشاپ سے وزارت انسانی حقوق کے ریسورس پرسن شرافت علی ایڈوکیٹ،ڈسٹرکٹ اٹارنی ڈیرہ فرحاجسکندر بلوچ نے بھی خطاب کیا ،اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار کے صدرزین العابدین ایڈوکیٹ اور جنرل سیکرٹری محمد اصغر بلوچ ایڈوکیٹ کے علاوہ مردو خواتین وکلاء شریک تھے انہوں نے کہا انسانی جان انتہائی قیمتی ہے ہمیں اس بات کا بھرپور ادراک ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کی روک تھام کے لئے قوانین کی موجودگی کے باوجود اس پردرست سمت میں عمل درآمد نہیں ہورہا اس بارے میں معاشرے کے تمام افراد کو مشترکہ کوششیں کرنی ہونگی انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار موجودہ حکومت نے تعلیمی اور صحت پالیسی کی طرح انسانی حقوق کی پالیسی بنائی جس کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں انسانی حقوق سے متعلق حکمت عملی بنائی جارہی ہے اور اس مقصد کیلئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے 750ملین روپے کی رقم فراہم کی ہے انہوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام سیڈا کنونشن کے تحت اقوام متحدہ کی ضروریات کے مطابق ملک بھر میں تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا جارہا ہے انہون نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق کے تحت انسانی حقوق کی پامالی کی صورت میں متاثرہ افراد کے لواحقین کی مالی مدد کی جاتی ہے اس مقصد کیلئے ریلیف اینڈ ریوالونگ فنڈ قائم ہے جبکہ انڈومنٹفنڈکے زریعے انسانی حقوق کی پامالی سے متاثرہ افراد کو مفت قانونی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے اس موقع پر ڈسٹرکٹ اٹارنی فرحان سکندر بلوچ نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اس نوعیت کے تربیتیسیشنکے انعقاد پر ہم وزارت انسانی حقوق کے مشکور ہیں انہوں نے کہا کہ وکلاء کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کے لئے مستقبل میں بھی اس نوعیت کی تقاریب کا انعقاد کیا جائیگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -