نیب نے 45ارب روپے کی ریکوری کی ہے،چیئرمین نیب

نیب نے 45ارب روپے کی ریکوری کی ہے،چیئرمین نیب

  

اسلام آباد (این این آئی) چیئر مین نیب چودھری قمرزمان نے کہا ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ نے صرف ڈھائی سال کے دوران 45ارب روپے کی ریکوری کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں، نیب کی انسداد بدعنوانی کی جامع اور فعال حکمت عملی کا اعتراف ٹرا نسپیئرنسی انٹرنیشنل ،عالمی اقتصادی فورم اور پلڈاٹ نے بھی کیا ہے۔ادارے کی تمام کمزوریوں کا جائزہ لیکر اس کے تمام شعبوں کو ازسرنو فعال کیا ہے۔ اپنے ایک بیان بیان میں چیئرمین نیب ؂نے کہا کہ بدعنوانی ہر برائی کی جڑ ہے اور قومی احتساب بیورو کسی بھی قیمت پر بدعنوانی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔ نیب نے بڑی تعداد میں لوٹے گئے پیسے واپس لیکر قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں موجودہ مدت میں نیب نے انسداد بدعنوانی کی جامع اور فعال حکمت عملی اختیار کی ہے جس میں کرپشن کے خلاف آگاہی اس کی روک تھام اور ملک سے اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے اقدامات شامل ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی بنیادی توجہ مالیاتی کمپنیوں کے فراڈ ‘ بینک فراڈ ‘ بینکوں کے نادہندگان‘ اختیارات کے ناجائز استعمال اور ریاست کے فنڈزمیں حکومتی ملازمین کی جانب سے خرد برد شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کی تمام ادارہ جاتی کمزوریوں کا جائزہ لے کر اس کے تمام شعبوں کو ازسرنو فعال کیا گیا ہے۔اس کے مقدمات نمٹانے کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 10 ماہ کیا گیا ہے۔نیب نے سی آئی ٹی کا نیا نظام متعارف کرایا ہے ۔ جس میں ڈائریکٹر ‘ ایڈیشنل ڈائریکٹر ‘ انوسٹی گیشن آفیسر اور سینئر لیگل قونصل شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب نے راولپنڈی میں جدید آرٹ فارنزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے۔نیب کے تمام ریجنز کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کے لئے (کیو جی سسٹم ) متعارف کرایا گیا ہے۔جس میں سالانہ بنیادوں پر تمام علاقائی دفاتر اور ہیڈ کوارٹر کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے اندرونی احتساب کے میکانزم کا نظام بھی متعارف کرایا ہے اس وقت تک 84افسران میں سے 23 کی ملازمت سے برخاستگی سمیت بڑی سزائیں دی گئی ہیں جبکہ 34 کو معمولی سزائیں دی گئیں۔ کسی بھی ادارے میں اندرونی طور پر احتساب کی یہ سب سے بڑی مثال ہے اورایک ریکارڈ ہے۔انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے ‘ وزارت مذہبی امور ‘ خوراک و زراعت ‘ قومی صحت ‘ ایف بی آر ‘ پی آئی ڈی کے علاوہ صوبائی سطح پر صحت ‘ تعلیم اور ہاؤسنگ میں پریونشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ا 2014,2015-16 کی نسبت شکایات،انکوئریز اور انوسٹی گیشنز کی تعداد تقریبا دو گنا ہوچکی ہے قومی احتساب بیورو پر عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ نیب نے 22ارب روپے مضاربہ غبن میں 12ریفرنس دائر کئے اور اس سلسلے میں 1.73ارب روپے کی ریکوری کی ہے اب تک مضاربہ غبن کیس میں مفتی احسان الحق،مفتی ابرار الحق،حافظ محمد نواز،معین اسلم،عبیداللہ،مفتی شبیر احمد عثمانی،سجاد احمد،آصف جاوید،غلام رسول ایوبی،محمد حسین احمد،حامد نواز،محمد عرفان،بلال خان بنگش،محمد نعمان قریشی،سید اکشید حسین،محمد عادل بٹ،محمد ثاقب،عمیر احمد اور خان محمد سمیت34ملز موں کو گرفتار کیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -