دنیا بھر میں کئی اداروں پر شدید سائبر حملہ، ہزاروں مقامات پر کمپیوٹر لاک

دنیا بھر میں کئی اداروں پر شدید سائبر حملہ، ہزاروں مقامات پر کمپیوٹر لاک

  

لندن (اے پی پی) دنیا بھر میں کئی اداروں کو تاوان وصول کرنے کی خاطر شدید سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ہزاروں مقامات پر کمپیوٹر لاک ہو گئے ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان اداروں سے کمپیوٹر کھولنے کے لیے تین سو ڈالر بِٹ کوئن کی شکل میں تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔امریکہ، برطانیہ، چین، روس، سپین، اٹلی اور تائیوان سمیت 74 ملکوں میں اس حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔سائبر سکیورٹی کے ماہرین ان واقعات کو ایک مشترکہ حملے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک ماہر نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے ہزاروں کمپیوٹروں میں وانا کرائی نامی رینسم ویئر دیکھا ہے۔ رینسم ویئر وہ کمپیوٹر وائرس ہوتا ہے جس کی مدد سے وائرس کمپیوٹر یا فائلیں لاک کر دیتا ہے اور اسے کھولنے کا معاوضہ مانگا جاتا ہے۔ ایک اور ماہر نے کہا ہے کہ رینسم ویئر 74 ملکوں میں دیکھا جا چکا ہے اور اس فہرست میں مزید ملک شامل ہو رہے ہیں۔بعض ماہرین کے مطابق اس کمپیوٹر انفیکشن کا تعلق ایک ہیکر گروپ 'دی شیڈو بروکرز' سے ہے جس نے حال ہی میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے ہیکنگ ٹولز چرا کر نشر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مائیکروسافٹ کمپنی نے گذشتہ مارچ میں اسی قسم کے حملے سے بچنے کے لیے ایک پیچ جاری کیا تھا لیکن بہت سے کمپیوٹروں میں یہ انسٹال نہیں ہو سکا۔ برطانیہ کا ادارہ صحت این ایچ ایس بھی اس حملے کا نشانہ بنا ہے۔اس کے علاوہ یورپ کے کئی اور ادارے بھی زد میں آئے ہیں۔ ٹیلی کام کمپنی ٹیلی فونیکا نے ایک بیان میں کہا کہ اسے سائبر حملوں کے واقعات کا پتہ چلا ہے لیکن اس سے اس کے گاہک اور سروسز متاثر نہیں ہوں گے۔بجلی فراہم کرنے والی کمپنی آئبرڈرولا اور گیس نیچرل بھی متاثرین کی فہرست میں شامل ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -