اے پی بی ایف کا افراط زر میں4.8فیصد اضافے پر اظہار تشویش

اے پی بی ایف کا افراط زر میں4.8فیصد اضافے پر اظہار تشویش

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)آل پاکستان بزنس فورم نے اپریل کے دوران افراط زر کی شرح میں4.8فیصد کے اضافے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں ہونے والے اضافے کے باعث حکومت کو عام افراد تک بنیادی اشیاء کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کیلئے راست اقدامات کرنا ہونگے۔آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی کا کہنا ہے کہ عام افراد تک بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اپریل میں افراط زر کی شرح میں ہونے والا اضافہ حکومتی اقتصادی منیجرز کیلئے انتہائی تشویشناک ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اپریل میں گاجر،دالوں،کینو،کیلا،مرغی،آلو،اسکول فیسوں اور گھروں کے کرایوں سمیت دیگر اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا،ادارہ شماریات پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اپریل میں گزشتہ برس کی نسبت کنزیومر پرائس انڈیکس میں اضافہ دیکھا گیا ہے ،رپورٹ کے مطابق ہول سیل پرائس انڈیکس اور حساس قیمتوں کے اعشاریے بھی اوپر کی جانب جارہے ہیں جس کے باعث عام افراد کیلئے ضرورت کی بنیادی اشیاء کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے ،ادارہ شماریات پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر افراط زر کی شرح میں1.4فیصد،ہول سیل پرائس انڈیکس میں0.89فیصداور حساس قیمتوں کے اعشاریے میں0.91فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ،رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران سالانہ بنیادوں پر نان فوڈ اور نان انرجی بنیادی افراط زر کی شرح5.8فیصد کی سطح پر رہی جبکہ اپریل 2015میں یہ شرح 4.4فیصد کی سطح پر تھی،ابراہیم قریشی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک کی آمد آمد کے باعث افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پایا جائے تا کہ عوام کو بنیادی اشیاء کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -