فائرنگ سے زخمی ہونے والے 18 ماہ کے بچے کا معمہ حل نہیں ہوسکا

فائرنگ سے زخمی ہونے والے 18 ماہ کے بچے کا معمہ حل نہیں ہوسکا

  

کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی کے علاقے بہار کالونی میں زخمی ہونے والے 18 ماہ کے بچے کا معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا ہے اور سرکاری افسران اپنے پیٹی بھائی کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جب کہ ماں کہنا ہے کہ بچہ باپ کی فائرنگ سے زخمی ہوا جو اہم سرکاری افسر کے لیے کام کرتا ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے بہار کالونی میں 18 ماہ کا بچہ کا پر اسرار طور پر گولی لگنے کے باعث زخمی ہو گیا تھا جسے مقامی اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔بچے کی ماں کا دعویٰ ہے کہ بچہ اپنے ہی باپ کی گولی سے زخمی ہوا ہے جو ایک اعلی پولیس افسر کے لیے کام کرتا ہے اور جس نے حادثے کے دن گھریلو جھگڑے کے دوران مجھ پر فائرنگ کی جس سے بچہ شہباز زخمی ہوگیا۔زخمی بچے کی ماں کا کہنا تھا کہ اس کے شوہر طارق نے اس سے پانچویں شادی کی ہے اور اب چھٹی شادی کی تیاریاں کررہا ہے جس پر گھر میں جھگڑا ہوا اور فائرنگ کی وجہ سے 18 ماہ کا بیٹا شہباز زخمی ہو گیا جسے نجی اسپتال داخل کیا گیا لیکن علاج کے لیے 4 لاکھ روپے نہ ہونے کی وجہ علاج روک دیا گیا۔واقعہ کی میڈیا پر کوریج کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے اسپتال کا دورہ کیا اور بچے کی ماں سے تفصیلات معلوم کیں جب کہ ڈاکٹرز سے بھی تفتیش کی گئی دوسری جانب طارق کے گھر سے 4 مہنگی ایس ایم جیز اور 2 پستول بھی ملے ہیں جس کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔زخمی بچے کی ماں نے اعلی مقتدر حلقوں سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے شکایت کی کہ پولیس اس کیس میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے اور طارق کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے کیوں کہ وہ ایک اعلی پولیس افسر کے لیے کام کرتا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -