چیف جسٹس کا سپیشل کورٹس اور ٹربیونلز میں مقدمات نمٹانے کی سست رفتار پر اظہار تشویش

چیف جسٹس کا سپیشل کورٹس اور ٹربیونلز میں مقدمات نمٹانے کی سست رفتار پر اظہار ...

  

اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہفتہ کو قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی اور انصاف تک رسائی پروگرام کے بورڈ آف گورنر کے الگ الگ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں(تارکین وطن)کی شکایات وصول کرکے ان کے ازالہ کیلئے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں خصوصی سیل قائم کئے جائیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز سے مقدمات نمٹانے کے حوالے سے تجاویز طلب کرلی ہیں ۔ چیف جسٹس نے اسلام آباد جیل کی تعمیر میں تاخیر کا بھی سختی سے نوٹس لے لیا ہے ۔چیف جسٹس نے سپیشل کورٹس اور ٹریبونلز کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لیا اور ان عدالتوں میں بڑے پیمانے پر زیر التوامقدمات اور مقدمات نمٹانے کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کیا ۔ پانچ گھنٹے طویل دونوں باڈیزکے اجلاس کئی سال کے وقفے کے بعد عدالت عظمی کے کانفرنس روم میں منعقد ہوئے ۔ گزشتہ روز اجلاس کے آغاز میں اپنے افتتاحی کلمات میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ عدلیہ ریاست کا اہم ستون ہے جبکہ دیگر دونوں ستونوں انتظامیہ اور مقننہ کی کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے اور جدید دنیا میں ان تینوں اہم ستونوں کے بغیر ریاست کے وجود کا تصور نہیں ہے ۔ انہوں نے جلد اور سستے انصاف کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں قوانین میں بہتری ناگزیر ہے اور لااینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس مینڈیٹ ہے کہ ملکی قوانین کو جدید ڈھانچے میں ڈھالنے کیلئے قوانین کا جائزہ لینے کا عمل مسلسل جاری رکھے۔چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ قوانین غیر موثرہوجاتے ہیں اس لئے ان میں بہتری کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس مقصد کیلئے ہمیں لااینڈ جسٹس کمیشن کو فعال کرنا ہوگا تکہ وہ اپنا مینڈیٹ پورا کرسکے۔انہوں نے ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز سے کہاکہ وہ لااینڈ جسٹس کمیشن کے مقاصد کے بہتر حصول کیلئے اپنی تجاویز دیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ معاشرے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے عدالتیں عام شہری کو انصاف نہیں فراہم کررہیں اس لئے اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا اور انصاف کی جلد فراہمی کے نظام کو بہتر بنا کر اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا۔انصاف تک رسائی پرو گرام میں بورڈ آف گورنر کے تمام ارکان سابق جج سپریم کورٹ جسٹس ریٹائرڈ میاں شاکراللہ جان،پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان بشمول چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ محمد انورخان کاسی،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نورمحمدمسکانزئی، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس یحیی آفریدی،سیکرٹری خزانہ طارق باجوہ،سیکرٹری قانون کرامت حسین نیازی اور رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف نے شرکت کی۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی میں مذکورہ ججوں و افسران کے علاوہ نامزد چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس شیخ نجم الحسن نے بھی شرکت کی ۔ انصاف تک رسائی پرو گرام کی گورننگ باڈی نے کم ترقی یافتہ علاقوں میں خصوصی عدالتوں کے قیام کیلئے ہائیکورٹس کو فنڈز جاری کرنے کی تجویز باضابطہ منظور ی دی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ترقی پذیر علاقوں میں زور دیا کہ انصاف تک رسائی پرو گرام کے فنڈز کو اس اہم مقصد کیلئے زیر استعمال لایا جائے۔ انصاف تک رسائی پرو گرام کی گورننگ باڈی نے ملک کے 106اضلاع میں ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیاں قائم کرنے کیلئے فنڈز کے اجراکی تجویز کی بھی منظوری دی تاکہ ان مستحق لوگوں کو قانونی امداد فراہم کی جاسکے جو پیسوں کی کمی کی وجہ سے عدالتوں پنے حقوق کا دفاع کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ چیف جسٹس نے ہائیکورٹس کے چیف جسٹسسز سے کہاکہ وہ ضلعی عدالتوں کو اپنے وسائل انصاف کی فراہمی کے اہم مقصد کیلئے بروئے کار لانے کی ترغیب دیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگر اچھے فیصلوں پر عمل نہ ہوتو وہ بے معنی ہوجاتے ہیں اس لئے بطور سربراہان عدلیہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے فیصلوں پر اسی جذبے کے ساتھ عمل بھی کریں۔ تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز نے فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے مقصد کے حصول میں اپ نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی مادر وطن کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ماڈل جیل کے قیام کا جائزہ لیا اور اس میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے خصوصی عدالتوں،ٹریبونلزکی کارکردگی کا جائزہ لیا جہاں بڑے پیمانے پر کیس زیر التوا ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی خصوصی عدالتوں،ٹریبونلزسے چھ ماہ کی کارکردگی رپورٹ طلب کرے اور اس کا جائزہ لیا جائے ۔ چیف جسٹس نے ہائیکورٹس کے چیف جسٹسسز اور چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت سول عدالتوں سے سپریم کورٹ تک کی تمام عدالتوں میں جلد مقدمات نمٹانے کے حوالے سے اپنی ٹھوس تجاویز دیں۔ چیف جسٹس نے عزم کا اظہا رکیا کہ عدلیہ اورانصاف سے تعلق رکھنے والی دیگر تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس تسلسل کے ساتھ منعقد کیا جائے گا تاکہ ملک میں انصاف کے معیار کو بہتر بنایاجا سکے۔

مزید :

صفحہ آخر -