سپریم کورٹ، حافظ سعید 5رہنماؤں کی نظری بندی میں توسیع کے ریفرنس پر فیصلہ موخر

سپریم کورٹ، حافظ سعید 5رہنماؤں کی نظری بندی میں توسیع کے ریفرنس پر فیصلہ موخر

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی ) سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں قائم نظر بندیوں پرنظرثانی کے بورڈ نے جماعۃالدعوۃ کے امیرحافظ سعید سمیت 5 راہنماؤں کی نظر بندیوں میں توسیع سے متعلق وفاقی حکومت کے ریفرنس پر فیصلہ 15مئی تک موخرکردیا۔نظر ثانی بورڈ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ جماعۃالدعوۃ کے امیر حافظ سعید اور دیگر راہنماؤں پروفیسر ظفر اقبال، مفتی عبدالرحمن عابد، عبداللہ عبید اور قاضی کاشف نیاز کے خلاف ٹھوس مواد موجود ہے تو وہ 15مئی کو پیش کیا جائے جس کے بعد نظر بندیوں میں توسیع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔یہ راہنماء 30اپریل 2017ء سے نظر بند ہیں اور آئینی طور پر حکومت 90روز سے زائد کسی شہری کو نظر بند رکھنا چاہتی ہو تو اس کے لئے ریویو بورڈ سے منظوری لینا ضروری ہے ،اسی آئینی تقاضے کے تحت گزشتہ روز ان راہنماؤں کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ریویو بورڈ میں پیش کیا گیا ۔دوران سماعت فاضل بورڈ نے سرکاری وکلاء سے کہا کہ حافظ سعید ودیگر راہنماؤں کے خلاف کسی قسم کا کوئی مواد ہے توعدالت میں پیش کریں وگرنہ کشمیریوں کے حق میں جن تقاریر پرآپ اعتراض کر رہے ہیں یہ باتیں تو سبھی سیاستدان کرتے ہیں۔ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم سے ساری دنیا آگاہ ہے ،ان کے حق میں آوا ز بلند کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3رکنی ریویو بورڈ نے سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں کیس کی سماعت شروع کی توسرکاری وکیل نے کہا کہ حافظ سعید و دیگر راہنماؤں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت نظربند کیا گیا ہے۔ان کی تقریروں سے مسئلہ کشمیر خراب ہو رہا ہے اوربین الاقوامی سطح پر پاکستان پر دباؤ بڑھتا ہے اورعالمی سطح پر کہا جارہا ہے کہ حافظ سعید دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں،جس پر فاضل جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ اقوام متحدہ نے تو یہ قراردادیں بھی پاس کر رکھی ہیں کہ کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق استصواب رائے کا حق دیا جائے‘ ان پر آج تک کیا عمل درآمد ہوا ہے؟۔آپ عدالت کو اس بات پر مطمئن کریں کہ آپ کے پاس حافظ سعید و دیگر راہنماؤں کی نظربندی کا کیا جواز ہے اور عدالت ان کے خلاف کس مواد کی بنیاد پر نظربندی میں توسیع کرے؟۔سرکاری وکلاء نے حافظ سعید ودیگر راہنماؤں کے خلاف مزیدثبوت پیش کرنے کے لئے بورڈ سے مہلت طلب کی جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ ان کے پاس اگر حافظ سعید و دیگر راہنماؤں کے خلاف کوئی مواد ہے تو 15مئی تک ہر صورت پیش کریں۔مذکورہ راہنماؤں کی پیشی کے موقع پرپولیس کی بھاری نفری موجود تھی اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

مزید :

صفحہ آخر -