کوٹری ،مال بردارٹرینوں میں تصادم ،درجنوں بوگیاں تباہ،آمدورفت متاثر

کوٹری ،مال بردارٹرینوں میں تصادم ،درجنوں بوگیاں تباہ،آمدورفت متاثر

  

حیدرآباد(بیورو رپورٹ)کوٹری کے قریب کراچی سے حیدرآباد آنے والی دو مال بردار ٹرینوں میں ہولناک تصادم کے نتیجے میں 2 درجن بوگیاں تباہ ہو گئیں جس کی وجہ سے دونوں پٹڑیوں پر ٹرینوں کی آمدورفت بند ہو گئی، کراچی سے چلنے والی دو ٹرینیں منسوخ کرکے دی گئیں جبکہ چار ٹرینوں کو حیدرآباد سے چلایا جا رہا ہے، ریلوے کے اعلیٰ حکام نے ہفتے کو 7 بجے تک ٹریک بحال ہونے کا دعویٰ کیا ہے تاہم موقع پر کام کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ رات گئے تک بمشکل ریلوے ٹریفک بحال ہو سکے گا، وزیر ریلوے خواجہ سعید رفیق نے چین سے رابطہ کرکے ریلوے انتظامیہ کو امدادی کام جلد مکمل کرکے ریلوے ٹریفک بحال کرنے کی ہدایت کی ہے۔کوٹری کے قریب ہفتے کو صبح طلوع آفتاب کے قریب بولاری اور میٹنگ ریلوے اسٹیشن کے درمیان دو مال بردار ٹرینوں میں ٹکر ہو گئی قریب ہی واقع بستیوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ٹرینیں ٹکرانے کے نتیجے میں زبردست دھماکہ ہوا جو دور دور تک سنا گیا، تصادم کے نتیجے میں دو درجن کے قریب بوگیاں پٹڑیوں سے اتری گئیں اور ایک دوسرے میں دھنس گئیں جس کی وجہ سے اپ اور ڈاؤن ٹریک پر ریلوے ٹریفک معطل ہو گیا اور کراچی جانے والی ٹرینیں حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر روک لی گئیں جبکہ کراچی سے چلنے والی دو ٹرینیں عوام ایکسپریس اور ہزارہ منسوخ کر دی گئیں، فوری طور پر امداد ٹرین طلب کی گئی اور کرین کے ذریعے تباہ شدہ بوگیوں کو ہٹانے کا کام شروع کیا گیا اور دوپہر کے بعد دوسری ٹرین بھی پہنچ گئی اور شام گئے تک بوگیوں کو ٹریک سے ہٹانے کا کام جاری تھا۔ریلوے حکام کے مطابق تیل سپلائی کرنے والی ریلوے ٹرین کراچی سے کوٹری کی طرف آ رہی تھی کہ پیچھے سے آنے والی کنٹینر بردار ٹرین کے ڈرائیور نے مبینہ طور پر اب سگنل نہیں دیکھا اور ٹرین پوری رفتار سے چلتی ہوئی آگے جانے والی تیل سپلائی کرنے والی ٹرین سے ٹکرا گئی، اس ہولناک ٹکر کے نتیجے میں دو درجن کے قریب بوگیاں تباہ ہو کر پٹڑی سے اتر گئیں جو زیادہ تر ایک دوسرے میں دھنس گئیں اور کنٹینرز ٹوٹ پھوٹ گئے اور ان کا سامان دور تک بکھر گیا جبکہ کنٹینر بردار ٹرین کا انجن بھی بری طرح تباہ ہو گیا اور اس کے اور بوگیوں کے پرزے دور دور تک بکھر گئے، تاہم خودقسمتی سے کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا صرف کنٹینر بردار ٹرین کا فائرمین معمولی زخمی ہوا، فوری طور پر امدادی ٹرین طلب کی گئیں بعد میں دوپہر میں ایک اور ٹرین بھی پہنچ گئی اور اس طرح بوگیاں کاٹ کر ٹریک سے ہٹانے اور تباہ شدہ ٹریک بحال کرنے کا کام ہفتے کو شام گئے تک جاری تھا، حادثے کے بعد زیادہ تر ٹرینیں حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر روک لی گئیں جہاں سہولتیں محدود ہیں اس لئے متاثر ہونے والے 10 ہزار سے زائد مسافروں کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا، شام گئے تک بھی عورتوں بچوں بزرگوں کی حالت بہت خراب تھی کیونکہ گرمی کی شدت کی وجہ سے لوگ پہلے ہی سخت پریشانی کا شکار تھے اور اب انہیں گھنٹوں مزید اذیت برداشت کرنا پڑے گی۔ریلوے حکام کے مطابق کراچی سے چلنے والی عوام ایکسپریس اور ہزارہ ایکسپریس منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ علامہ اقبال ایکسپریس، پاکستان ایکسپریس، قراقرم ایکسپریس اور بزنس ٹرین حیدرآباد سے بالائی کے لئے چلائی جا رہی ہیں، ریلوے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار سے ٹرینیں کراچی سے آئے جائیں گی اور دو روز میں ٹرینوں کا شیڈول بحال ہو جائے گا۔ریلوے کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ آج جن مسافروں کی ٹرینوں میں ریزرویشن تھی ان کو حیدرآباد سے کراچی کا کرایہ واپس کیا جا رہا ہے جن لوگوں کو آج بالائی علاقوں کے لئے سفر کرنا ہے وہ اگر دوسرے ذرائع سے حیدرآباد پہنچ جائیں تو ان کے لئے تمام سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں، جو سفر منسوخ کرنا چاہتا ہے اس کو مکمل کرایہ واپس کیا جا رہا ہے، جائے حادثہ پر کام کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ بوگیاں ہٹانے کے بعد پتہ چل سکے گا کہ ٹریک کو کس قدر نقصان پہنچا ہے اور تباہ شدہ ٹریک بھی تبدیل کرنے کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت بحال ہو سکے گی اور یہ کام رات تیسرے پہر تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ادھر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے جو وزیراعظم کے ساتھ چین کے دورے پر ہیں ریلوے کے اعلیٰ حکام سے فون پر رابطہ کرکے ان سے حادثے کی تفصیلات معلوم کی ہیں اور ہدایت کی ہے کہ جلد از جلد ریلوے ٹریک درست کرکے ٹرینوں کی آمدورفت بحال کی جائے، اس حادثے میں ریلوے کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -