پی ایس پی کا آج عوامی مسائل کے حل کیلئے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کا اعلان

پی ایس پی کا آج عوامی مسائل کے حل کیلئے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کا اعلان

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاک سر زمین پارٹی کے چیئر مین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ہم نواز شریف سے سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ پاکستان کے وزیراعظم ہیں یاصرف پنجاب کے؟ کر اچی ملک کو 70فیصدسرمایہ دیتا ہے اس کے ابتر حالات کی بہتری کیلئے وزیرا عظم نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، ہمارے جائز مطالبات پر ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، اب وقت گزر گیا مسائل کے حل کے لیے اب وزیراعلی کے محل کی طرف ملین مارچ ہوگا،عوام ہمارے ساتھ ہیں کل کا دن حکمرانوں کے مظالم سے یوم نجات ہوگا،نئے دن کے ساتھ طلوع ہونے والا سورج امید کی نئی کرن لے کر آئے گا، اگر 10 لاکھ لوگ نکل پڑے تو حکمران ہمارے حقوق دینے پر مجبور ہو جائیں گے،اتوارکو احتجاج میں تمام برادری، مذہب، فرقے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شرکت کریں گے عوام کا سمندرکرپٹ حکمرانوں کو بہا لے جائے گا. ہم کوئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے یہ عوام کے بنیادی مسائل کا حل چاہتے ہیں،حکمرانوں نے ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ دیا تھا لیکن ہم متحد ہو چکے ہیں صرف عوامی مسائل پر سیاست ہو گی، ہم نے بار بار حکومت سے عوامی مسائل کے حل کے لیے رابطہ کیا6اپریل کو سولہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا ملکی تاریخ میں پہلی بار پی ایس پی کی قیادت نے 18 روزپریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر گزارے دو بار حکومتی وفد نے رابطہ کیالیکن مسائل حل کرنے کی بجائے ٹوپی ڈرامہ کرنے کی کوشش کی گئی، ریڈ زون ایسی معتبر جگہ نہیں جہاں انسان اپنے حقوق نہ ملنے پر احتجاج نہیں کر سکتے پانی مانگنا جرم ہے تو ہر ظلم سہنے کے لیے پی ایس پی کی قیادت تیار ہے۔ ان خیالات اظہار انہوں نے ہفتہ کو پی ایس پی کے مرکز پاکستان ہاوئس میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ اس موقع پرپی ایس پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل رضاہارون، سینئر وائس چیئر مین انیس ایڈووکیٹ و دیگر قائدین اور مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران موجود تھے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ میں اپنے سولہ نکاتی ایجنڈے سے پیچھے ہٹ کر اپنی اور کراچی کے شہریوں کی زندگیوں سے نہیں کھیل سکتا18روز میں شہر کے ایک ایک گھراپنا پیغام پہنچاکر شہریوں کو جنھجوڑا، شہری اداروں پر سندھ حکومت قابض ہے ہم نے جو کہا اس پر عمل نہ ہوا تو لوگ اس شہر کو چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکمران کمزور اور بزدل ہیں کیونکہ وہ ظالم ہیں شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں انتظار کروں گا آپ ایف ٹی سی پہنچیں اتوارکی شام چار بجے وزیراعلی کے محل کی طرف پرامن مارچ کیا جائے گا ۔اتوارکو یوم نجات ہے آنے والے کل کے مستقبل کے لیے او ہمارا ساتھ دیں۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت وفاق سے اختیارات اور این ایف سی ایوارڈ لیتی ہے لیکن شہری انتظامیہ کو اختیارات اور وسائل منتقل نہیں کرتی لیکن اب کراچی کے لوگ فیصلہ کر چکے ہیں کہ مرنا ہی ہے تو سسک سسک کے نہیں بلکہ ایک ہی مرتبہ مریں گے۔ کراچی کے بیشتر علاقوں میں مہینوں پانی نہیں آتا،ان حالات میںآرمی کے آپریشن کر نے سے دہشتگردی ختم کیسے ہو گی جب کہ لوگ پیاس اور بھوک سے مر رہے ہیں اگر ہم سب ظلم پر خاموشی سے مر گئے تو ہماری قبروں پر بھی عذاب اترے گا،ہم جینے کے بنیادی حقوق مانگ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ وزیر اعلٰی کو پانی کی لائنوں کا اختیارات چاہیے تو یوسی ناظم بن جائیں، میں نے یہ شہر بنایا ہے مجھے پتہ ہے یہ کیسے ٹھیک ہو گا. اگر ہمارے 16 مطالبات نہیں تسلیم کئے گئے تو کراچی رہنے کے قابل نہیں رہے گا.انہوں نے کہاکہ کراچی کے ٹرانسپورٹرز سے اپیل کرتا ہوں کہ FTC برج تک مفت ٹرانسپورٹ فراہم کریں. رکشہ، ٹیکسی ڈرائیور سب اپنے علاقوں سے عوام کو لے کر آئیں انہوں نے کہاکہ کراچی کی عوام کا پانی انہی کی لائنوں سے چوری کر منرل واٹر کے نام پربیچا جارہا ہے، ایک مرتبہ اختیارات میئر کے دفتر منتقل ہو جائیں مئیر سے کام ہم کروا لیں گے وسیم اختر کے لئے نہیں عوام کے میئر آفس کے لئے اختیارات مانگ رہے ہیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -