کوٹ ادو کے سکولوں میں سینکڑوں بچوں کے کم خورا ک کا شکار ہونیکا انکشاف

کوٹ ادو کے سکولوں میں سینکڑوں بچوں کے کم خورا ک کا شکار ہونیکا انکشاف

  

کوٹ ادو ، پیر جہانیاں(نامہ نگار) آئی ایم ایف تاجکستان کے سابق کنٹری ڈائریکٹر اور ماہر معاشیات ڈاکٹر سرمد خواجہ نے میڈیا کو بتایا کہ تحصیل کو ٹ ادو کے سکولز کے بچوں کی صحت کے انکشافات کے مطابق 847بچوں میں سے433 بچے طویل مدت سے بھوک میں مبتلا ہیں۔ 89(بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

بچوں کے وزن اوسط سے بہت کم ہیں. 68 بچوں کا وزن وقد اوسط سے بہت کم ہے ۔اس لئے ان کو ہنگامی مدد کی ضرورت ہے۔کیونکہ ان کیلئے موت کا خطرہ 3گنا بڑھ گیا ہے ۔ان سکولز میں 10 سالہ بچہ ہندوستانی بچہ سے 1.3کلو گرام اور 31 سینٹی میٹر قد میں کم ہے جبکہ بچی 6 کلوگرام اور 37 سینٹی میڑ کم ہے۔یہ باتیں نیشنل پریس کلب میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں،دانشوروں،وکلاء اور ماہرین تعلیم نے بتائی ہیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب حکومت کے 2014 سروے کے مطابق 5سال سے کم عمر والے% 68 بچے مظفر گڑھ میں بھوک میں مبتلا ہیں۔جبکہWHO کے مطابق15% سے زائدسخت بھوک میں ہوں تو وہ ایمرجنسی کی صورت ہوتی ہے۔ وہ اس لئے کہ اگرچہ معشیت5%سے زیادہ بڑھ رہی ہے ۔اس کے فائدے امیروں کو ہورہے ہیں ۔ اس طرح امیروں اور غریبوں میں تفریق بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ امیر اسلام آ باد ،کراچی اورجہلم کی سڑکوں کو کاروں سے بھر رہے ہیں ۔سٹاک مارکیٹ ہر روز بڑھ رہی ہے ۔ مڈل کلاسز کیلئے مارکیٹیں ڈیزائنر شاپس سے بھری پڑی ہیں یہاں صرف تین سے نو فیصد لوگ غریب ہیں ۔ جبکہ دیہات میں زیادہ تر لوگ غریب ہیں ۔ 3اضلاع میں75% لوگ غریب ہیں جبکہ 28 اور اضلاع میں60%سے زیادہ غریب ہیں 2013-15کے دوران غریبو ں کی تعداد 47 اضلاع میں بڑھ گئی ہے اس میں مظفر گڑھ بھی شامل ہے ۔جہاں 65%لوگ گودوں کے ظلم کا شکار ہیں ۔چنانچہ3سکولز جن کا سروے کیاگیا۔غریب ترین موضع ٹھٹھہ گرمانی سے تعلق رکھتے ہیں جو کوٹ ادو اور مظفر گڑھ سے دور ہیں ۔یہاں کے مزدور کو اوسطاََ7000 روپے تنخواہ ملتی ہے ۔اور ان کی بچیوں کو 100 روپے دن کے ملتے ہیں 2010 کے اعداد وشمار کے مطابق 29گودے 400ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔انکی آمدنی 200 کروڑ سے زائد ہے813گودوں کی آمدنی 400کروڑ ہے۔900گودے اتنی زمین کے مالک ہیں جتنی 172ہزار کسان ہیں۔سرمد خواجہ نے کہا کہ اگر حکومت انگریزوں کے 400کروڑ کی گرانٹ سے آٹے کھانے کا تیل بنانے والی ملوں کو subsidy دے تاکہ وہ ان میں وٹامن Aڈال سکیں۔پریس کانفرنس میں مظہر اقبال جگلانی، نواب مضطر، تحریک متاثرین شوگر ملز کے مرکزی رہنما وسیم عباس، رانا شیراز بشیر، میاں سلیم جوئیہ بھی موجود تھے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -