جنرل بس سٹینڈ پراپرٹی کی کرایہ پر نیلامی، ڈی سی او اور میئر میں ٹھن گئی

جنرل بس سٹینڈ پراپرٹی کی کرایہ پر نیلامی، ڈی سی او اور میئر میں ٹھن گئی

  

ملتان ( سپیشل رپورٹر) مئیرملتان چوہدری نوید الحق آرائیں نے ڈپٹی کمشنر ملتان نادر چٹھہ کی جانب سے نیلام عام روکنے بارے بھیجے گئے خط کے جواب میں کہا ہے کہ گورنمنٹ آف پنجاب نے جنرل بس اسٹینڈ ملتان ہمراہ پراپرٹی بمطابق پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے مطابق زیر انتظام(بقیہ نمبر45صفحہ7پر )

میونسپل کارپوریشن ملتان دے دیا ہے ۔جسکے مطابق تمام تر آمدنی کے ذرائع جن میں اڈا فیس، کرایہ اڈا ،دوکانات ،پلاٹ ،پٹرول پمپ ،ٹرک اسٹینڈ و دیگر کے حوالہ سے میونسپل کارپوریشن ملتان نے اپنی آمدنی کو بہتر بنانے اور بجٹ سال 2017-18میں آمدنی کے تخمینہ کے لیے جنرل بس اسٹینڈ پر واقع ملکیہ دوکانا ت،پلاٹ،پٹرول پمپ کے حوالہ سے اخبار اشتہار کے مطابق مورخہ12.5.17کو نیلام کرایہ داری کیلیے بوسن ہال میں منعقد کیا گیا ۔جس میں کرایہ داری کے حصول کے لیے اوپن نیلام عمل میں لایا گیا تھا ۔اب ڈپٹی کمشنر ملتان نے مئیر ملتان کو نیلام عام روکنے کے لیے چٹھی جاری کی ہے جس میں مختلف ضابطوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔اس لیٹر میں پنجاب لوکل گورنمنٹ پراپرٹی رول 2003کی شق نمبر 16Aرول نمبر 9,2(DG)کا ذکر کیا گیا ہے اور اسکے علاوہ سول ایڈ منسٹریشن ایکٹ کے سیکشن نمبر 17کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ نیلامی کو منسوخ کرنے کے لیے تحریر کیا گیا ہے ،جبکہ میونسپل کارپوریشن ملتان کی جانب سے اپنی ملکیہ پراپرٹی کو فروخت نہیں بلکہ اپنی آمدن میں اضافہ کے لیے سال 2017-18کرائے داری پر دینے کے لیے نیلام عام کیا جارہا ہے ۔ڈپٹی کمشنر کیاجانب سے بھیجے گئے لیٹر کے جواب میں مئیر ملتان نے واضح کیا ہے کہ پنجاب سول ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2017کے سیکشن 17کا اطلاق کسی طور مونسپل کارپوریشن ملتان کی ملکیہ پراپرٹی کو کرایہ داری پرنیلام کرنے کے لیے نہ ہوتا ہے مزید یہ کہ جنرل بس اسٹینڈ کی پراپرٹی 1982 سے ملکیہ و مقبوضہ میونسپل کارپوریشن چلی آرہی ہے جوکہ لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ 1894کے عین مطابق ہے اور پلاٹ نمبر 57,58,59,60نیو خان روڈ رنرز کے باالکل ساتھ اور خان برادر ٹرانسپورٹ سروس کے زیر انتظام رہا ہے ۔جس گرین بیلٹ کا ذکر لیٹر میں کیا گیاہے وہ روڈ کشادگی میں روڈ کا حصہ بن چکا ہے اور اس گرین بیلٹ کا وجود ہی نہیں ہے ۔میونسپل کارپوریشن نے ماسٹر پلان کی کاپی اور نیو خان روڈ رنر ز کی رجسٹر ی ڈپٹی کمشنر ملتان کو ارسال کردی ہے کہ وہ جاری کردہ چٹھی کو فوری طور پر واپس لیں تاکہ تمام امور خوش اسلوبی سے مکمل ہو سکیں ۔دریں اثناء وزیر اعلی پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کو بھی بجھوا دی گئی ہیں۔اس حوالے سے سابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات چوہدری عبدالوحید آرائیں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے اور ایک ایسی فرمائشی چٹھی کو بھیجا گیا ہے جسکا اطلاق کسی طور پر میونسپل کارپوریشن پر نہیں ہوتا ،انہوں نے کہا کہ ملتان کی تعمیر وترقی کے لیے کسی دباؤ کو خاطرمیں نہیں لایا جائے گا اور اگر ملتان کی ترقی روکنے کی کوشش کی گئی تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اہل شہر کی خدمت ہمارا نصب العین ہے اور عوام کو بلدیاتی اداروں کے ثمرات پہنچانے کے لیے ہرممکن کوششیں جاری رکھیں گے ۔اس حوالے سے کسی دباؤ کو کسی خاطر میں نہیں لایا جائے گا ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -