ماں تجھے سلام

ماں تجھے سلام
ماں تجھے سلام

  

دنیا میں ماں کے سوا کوئی سچا اور مخلص رشتہ نہیں ہے ۔ماں ایک پیاری شفیق اور بے لوث محبت کرنے والی عظیم ترین ہستی ہے، جس کی شفقت اورمحبت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر ہم دنیا کے تمام دکھ درد بھول جاتے ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر نے اپنی محبت میں سے جو اسے ہم گناہگار انسانوں کے ساتھ ہے اس کا ایک چھوٹا سا قطرہ شائد ماں کے دل میں ٹپکا دیا ہے جس کی برکت سے ماں ہمیں محبت کی اتھاہ گہرائیوں سے چاہتی ہے اور ہمارے دکھ درد اٹھاتی ہے ہمارے لئے قربانیاں دیتی ہے اور اپنی اولاد کو کبھی بھی دکھ نہیں پہنچنے دیتی ، ماں کے شفیق ہاتھ اپنے بچوں کے لئے ہمیشہ خدا کے حضور ہی اٹھے رہتے ہیں۔

ماں کے عالمی دن کو منانے کا مقصد عوام الناس کو ماں کے رشتے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دینا ماں کی محبت اجاگر کرنا اور اس عظیم ہستی کے لیے عقیدت، شکرگزاری کے جذبات کو فروغ دینا وغیرہ ہے ۔ ہمارے ہاں اس دن کو منانے پر اعتراض بھی کئے جاتے ہیں ۔اس بات کو بعد میں کرتے ہیں ۔ ماؤں کا دن منانے کا آغاز ایک امریکی خاتون اینا ہاروس کی کوشش کا نتیجہ ہے ۔ اینا ہاروس چاہتی تھیں کہ اس دن کو ایک مقدس دن کے طور پر سمجھا اور منایا جائے ۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں 8 مئی 1914 ء کو امریکا کے صدر ووڈرو ولسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو سرکاری طورپر ماؤں کا دن قرار دیا۔

پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ہر سال مئی کے دوسرے اتوار (اس سال 14مئی 2017 ) کو ماؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ چند ممالک میں ماں کا عالمی دن مئی کے دوسرے اتوار کی بجائے کسی اور دن منایا جاتا ہے ،مثلاََناروے میں فروری کے دوسرے اتوارجارجیا 3مارچ،افغانستان اور کئی ممالک میں 8مارچ ،برطانیہ میں مئی کے آخری اتوار ،وغیرہ جس گھر میں والدین ہوں ، وہ گھر رحمت خداوندی کا آستانہ ہوتا ہے ماں باپ کی دعاؤں سے بلائیں ٹلتی ہیں مسلمانوں کا ہر لمحہ ماں باپ کے لئے وقف کیاگیاہے حتیٰ کہ عمر بھر کی عبادت و ریاضت اور نیکیاں والدین کی رضا سے منسوب ہیں ۔

موجودہ دور نفسا نفسی کا ہے، اس میں اب ہم سب اپنی روایات سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور افسوس کا مقام ہے ہم دین اسلام کے فرائض سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں، ان میں سے ایک والدین سے حسن سلوک بھی ہے کہ مغرب کی اندھا دھند تقلید میں ہمارے ہاں بھی اولڈ ہاوس بن رہے ہیں والدین کو اولاد ان کے گھر سے ہی نکال رہی ہے یا خود ان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتی ہے ۔اور اس بے حسی ،ظلم ،پر ذرا بھی شرمسارنہیں ہے موجودہ عہد میں والدین سے بد سلوکی،بد زبانی،طعنے دل دکھانے والی باتیں تو ایک معمول بن چکا ہے۔ اولاد اتنی مصروف ہو گئی ہے ان کے پاس ماں باپ کے پاس بیٹھنے،باتیں کرنے کا وقت نہیں ہے۔مغرب میں اولاد اپنے ماں باپ کو اولڈ ہومز میں داخل کروا دیتے ہیں ،مغرب کی پیروی میں ایسا اب پاکستان میں بھی کیا جا رہا ہے ،پاکستان جو کہ ایک اسلامی ملک ہے اس میں بھی اولڈ ہوم بن چکے ہیں ،جہاں بوڑھے اپنے دکھ درد ،داستان حیات سنا سنا کر وقت گزاری کرتے ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے علما ء ،اساتذہ،اور پرنٹ و الیکڑانک میڈیا کے ساتھ ساتھ شوشل میڈیا وغیرہ پر حقوق العباد پر زیادہ سے زیادہ کام کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل اپنے اسلامی فرائض کو جان سکے۔سب سے اہم یہ ہے کہ آخرت کے حساب کتاب کا احساس دلایا جائے یہ ہی دانائی ہے کہ آخرت کا خوف ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ والدین سے بد سلوکی گناہ کبیرہ ہے اور شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے ۔اسلام میں والدین کے حقوق اللہ کے حقوق کے بعد بیان کئے گئے ہیں ،ایک حدیث کے مطابق تین بار ماں کے حق کے بعد چوتھی بار باپ کا حق بتایا گیا ۔اور یہ کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے ۔ ماں جو مشقت اپنی اولاد کے لیے اس کے بچپن میں اٹھاتی ہے اگر اولاد ساری زندگی بھی خدمت میں گزار دے تو بھی ماں کا حق ادا نہ ہو ۔

عا م طور پر کہا جاتا ہے کہ مدر ڈے یا فادر ڈے مغربی تہذیب کا حصہ ہیں ،اسلام کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ،وغیرہ یہ سب درست کہا جاتا ہے لیکن ایک بار ذرا سوچئے کہ اولڈ ہاوس تو ہمارے ملک میں بھی بن رہے ہیں ،اور یہ بھی کہ اگر ذرا تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو علم ہوتا ہے کہ آخری عمر میں ہمارے ہاں بھی ،ہمارے ملک میں ،خاندان میں ، ضعیف والدین کا کیا حال ہے؟ اس لیے ایسے حالات اگر کسی ایک دن کوئی اگر اپنے والدین سے اظہار محبت کرے تو اس میں کیا خامی ہے ۔

آئے روزاخبارات میں ایسے بہت سے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں جس میں بیٹے ماں کو جائیداد کیلئے قتل کر دیتے ہیں۔ بد نصیب اولاد ماں کو معاشی بوجھ سمجھ کر سڑکوں کے کناروں یا پھر اولڈ ہومز میں چھوڑ جاتے ہیں۔یہ کسی اور ملک کی نہیں ہمارے اپنے ملک کی کہانیاں ہیں ۔بے شک یہ مغربی رسم ہے لیکن مجھے اپنی نئی نسل سے کہنا ہے کہ آئیں آج صرف ایک دن صرف ایک دن مغرب کی پیروی میں اپنی ماں کے ساتھ گزاریں ،اس کے ساتھ بیٹھیں ،اس سے میٹھے لہجے میں بات کریں ، کیونکہ ہماری نئی نسل میں والدین کی طرف عزت دینے کا رجحان کم ہوتا نظر آ رہا۔ اکثر لوگ ماں ،باپ کے احسان کو بھول کراْن کی محنت اور محبت کو فراموش کردیتے ہیں ۔بعض لوگ اپنے والدین کے اخراجات خوشی سے اْٹھاتے ہیں لیکن اْن کیلئے وقت نہیں نکال پاتے ۔

دوسری طرف والدین کے اخراجات چار چار بیٹے مل کر نہیں اٹھا سکتے ۔ایسے لوگوں کو ماں کے عالمی دن کے موقع پر بتانا چاہتا ہوں کہ ماں ،باپ کو پیسوں یادوسری چیزوں سے زیادہ اْولاد کے وقت،محبت اور خدمت کی ضرورت ہوتی ہے ۔وہ روکھی سوکھی کھا کر خوش رہ سکتے ہیں اگر ان کو عزت دی جائے ،ان سے محبت کی جائے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -