دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول، قسط نمبر 28

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول، قسط نمبر 28
دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول، قسط نمبر 28

  

میری آنکھ کھلی تو میں نے خود کو ایک نفیس اور نرم و نازک بستر پر پایا۔ ناعمہ بستر پر میرے قریب بیٹھی پریشان نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ میری آنکھیں کھلتے دیکھ کر ایک دم سے اس کے چہرے پر رونق آگئی۔ اس نے بے اختیار پوچھا:

’’آپ ٹھیک ہیں؟‘‘

’’میں کہاں ہوں؟‘‘، میں نے جواب دینے کے بجائے خود ایک سوال کردیا۔

ستائیسویں قسط، دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول,یہاں کلک کریں۔

’’آپ میرے پاس میرے خیمے میں ہیں۔ صالح آپ کو اس حال میں یہاں لائے تھے کہ آپ بے ہوش تھے۔‘‘

’’وہ خود کہاں ہے؟‘‘

’’وہ باہر ہیں۔ ٹھہریں، میں انہیں اندر بلاتی ہوں۔‘‘

اس کی بات پوری ہونے سے قبل ہی صالح سلام کرتا ہوا اندر داخل ہوگیا۔ اس کے چہرے پر اطمینان کی مسکراہٹ تھی۔ میں اسے دیکھ کر اٹھ بیٹھا اور پوچھا:

’’کیا ہوا تھا؟‘‘

’’تم بے ہوش ہوگئے تھے۔‘‘

’’باخدا میں نے اپنے رب کا یہ روپ پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ خدا کے بارے میں میرے تمام اندازے غلط تھے۔ وہ اس سے کہیں زیادہ عظیم ہے جتنا میں تصور کرسکتا تھا۔ مجھے اب اپنی زندگی کے ہر اس لمحے پر افسوس ہے جو میں نے خدا کی عظمت کے احساس میں بسر نہیں کیا۔‘‘

میری بات سن کر صالح نے کہا:

’’یہ غیب اور حضور کا فرق ہے۔ دنیا میں خدا غیب میں ہوا کرتا تھا۔ آج پہلا موقع تھا کہ خدا نے غیب کا پردہ اٹھاکر انسان کو مخاطب کیا تھا۔ تم نصیبے والے ہو کہ تم نے غیب میں رہ کر خدا کی عظمت کو دریافت کرلیا اور خود کو اس کے سامنے بے وقعت کردیا تھا۔ اسی لیے آج تم پر اللہ کا خصوصی کرم ہے۔‘‘

’’مگر یہ بے ہوش کیوں ہوئے تھے؟‘‘، ناعمہ نے گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے پوچھا۔

’’دراصل ہوا یہ تھا کہ ہم عرش کے بائیں طرف مجرموں کے حصے میں کھڑے تھے۔ اُسی وقت فرشتوں کا نزول شروع ہوگیا اور حساب کتاب کا آغاز ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ غضب کے عالم میں گفتگو شروع کی تھی اور اس ناراضی کا اصل رخ بائیں ہاتھ والوں کی طرف ہی تھا، اس لیے سب سے زیادہ اس کا اثر اسی بائیں طرف ہورہا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنی صفات سے کبھی مغلوب نہیں ہوتے، اس لیے اس غضب میں ہونے کے باوجود بھی انہیں احساس تھا کہ اس وقت ان کا ایک محبوب بندہ الٹے ہاتھ کی طرف موجود ہے۔ اس لیے انہوں نے عبد اللہ کو بے ہوش کردیا۔ وہ اگر ایسا نہ کرتے تو عبد اللہ کو اس قہر و غضب کا سامنا کرنا پڑجاتا جو بائیں جانب والوں پر اس وقت ہورہا تھا۔‘‘

صالح کی بات سن کر بے اختیار میری آنکھوں سے اپنے رب کریم کے لیے احسان مندی کے آنسو جاری ہوگئے۔ میں بستر سے اترا اور سجدے میں گرگیا۔ میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلنے لگے:

’’معبود تو نے مجھے کب کب یاد نہیں رکھا۔ ماں کے پیٹ سے آج کے دن تک تیری کسی مصروفیت نے تجھے مجھ سے غافل نہیں کیا اور میں؟ میں نے کبھی تیری کریم ہستی کی قدر نہ کی۔ میں نے کبھی تیرے کسی احسان کا شکر ادا نہ کیا۔ میں نے کبھی تیری بندگی کا حق ادا نہ کیا۔ تو پاک ہے۔ تو بلند ہے۔ ہر حمد تیرے ہی لیے ہے اور ہر شکر تیرا ہی ہے۔ مجھے معاف کردے اور اپنی رحمتوں کے سائے میں لے لے۔ اگر تو نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا، میں برباد ہوجاؤں گا۔‘‘

میں دیر تک یہی دعا مانگتا رہا۔ ناعمہ نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر کہا:

’’اب آپ اٹھیے۔ آپ نے تو عمر بھر اللہ کی مرضی اور پسند کی زندگی گزاری ہے۔ میں آپ کو جانتی ہوں۔‘‘

ناعمہ کی بات سن کر میں خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اسے دیکھتے ہوئے بولا:

’’تم ابھی خدا کے احسانوں اور اس کی عظمت کو نہیں جانتیں۔۔۔ وگرنہ کبھی یہ الفاظ نہ کہتیں۔‘‘

’’عبد اللہ ٹھیک کہہ رہا ہے ناعمہ!‘‘، صالح نے میری تائید کرتے ہوئے کہا۔

’’انسان کا بڑے سے بڑا عمل بھی خدا کی چھوٹی سے چھوٹی عنایت کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ خدا عبد اللہ سے زبان چھین لیتا تو یہ ایک لفظ نہیں بول سکتا تھا۔ ہاتھ چھین لیتا تو لکھ نہیں سکتا تھا۔ ہر نعمت اور ہر توفیق اسی کی تھی۔ انسان کچھ بھی نہیں۔ سب کچھ خدا ہے۔‘‘

’’آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں نے اس پہلو سے غور نہیں کیا تھا۔‘‘، ناعمہ نے اعتراف میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

’’اب ہمیں کہاں جانا ہے؟‘‘، میں نے صالح سے دریافت کیا۔

’’حساب کتاب شروع ہوچکا ہے۔ تمھیں وہاں پہنچنا ہوگا۔ لیکن پہلے ایک اچھی خبر سنو۔‘‘

’’وہ کیا ہے؟‘‘

’’جب حساب کتاب شروع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے امت مسلمہ کے حساب کا فیصلہ کیا ہے۔ اور جانتے ہو اس عمل میں تمھاری بیٹی لیلیٰ نجات پاگئی۔‘‘

’’کیا؟‘‘، میں حیرت اور خوشی کے مارے چلّا اٹھا۔

’’ہاں! صالح ٹھیک کہتے ہیں۔‘‘، ناعمہ بولی۔

’’میں اس سے مل چکی ہوں۔ وہ اپنے باقی بھائی بہنوں کے ساتھ دوسرے خیمے میں موجود ہے۔ وہاں سب آپ کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘

’’اور جمشید؟‘‘، میں نے صالح سے اپنے بڑے بیٹے کے متعلق پوچھا۔

جواب میں ایک سوگوار خاموشی چھاگئی۔ مجھے اپنے سوال کا جواب مل چکا تھا۔ میں نے کہا:

’’پھر میں واپس حشر کے میدان میں جانا پسند کروں گا۔ شاید کوئی راستہ نکل آئے۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔‘‘، صالح بولا اور پھر میرا ہاتھ تھام کر خیمے سے باہر آگیا۔ (جاری ہے)

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول، قسط نمبر 29 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

جب زندگی شروع ہوگی -