شیل کے پیٹرول پمپ پر لڑکیوں اور لڑکوں پر مشتمل 2گروپوں میں جھگڑا فیس بک پر لائیو نشر ہو گیا، ایک لڑکے نے پستول نکالی لی اور پھر۔۔۔

شیل کے پیٹرول پمپ پر لڑکیوں اور لڑکوں پر مشتمل 2گروپوں میں جھگڑا فیس بک پر ...
شیل کے پیٹرول پمپ پر لڑکیوں اور لڑکوں پر مشتمل 2گروپوں میں جھگڑا فیس بک پر لائیو نشر ہو گیا، ایک لڑکے نے پستول نکالی لی اور پھر۔۔۔

  

لٹل راک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی ریاست کنساس میں شیل کے پیٹرول پمپ پر لڑکے اور لڑکیوں پر مشتمل 2 گروپوں کا جھگڑا فیس بک پر براہ راست نشر کرنے والے لڑکے کو گولی مار دی گئی۔

اگر مردوں کے جسم پر یہ ایک چیز ہوتوخواتین ان کی طرف اس طرح بھاگی آتی ہیں جیسے شہد کی مکھی پھولوں کی طرف، سائنسدانوں نے ایساانکشاف کردیا کہ ہرمرد یہ کام ضرور کرے گا

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مذکورہ لڑکا شیل پیٹرول پمپ کی کار پارکنگ میں لڑکے اور لڑکیوں پر مشتمل 2 گروپوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کو فیس بک پر براہ راست نشر کر رہا تھا۔

یہ لڑائی مبینہ طور آرکنساس میں واقع شیل کے ایک پیٹرول پمپ پر رات 9 بجے ہوئی۔ 10 منٹ کے اس ویڈیو کلپ میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ایک گروپ ممبر کے پاس پستول بھی ہے اور اس کے کچھ ہی دیر بعد موبائل فون نیچے گر جاتا ہے اور فائرنگ کی آواز آتی ہے۔

موبائل نیچے گرنے کے بعد بھی براہ راست نشریات جاری رہتی ہیں اور کچھ ہی دیر بعد فون کا مالک اسے دوبارہ اٹھاتا ہے اور اپنی گاڑی کی جانب دوڑ لگا دیتا ہے۔ گاڑی میں بیٹھ کر وہ خود کی ویڈیو بناتے ہوئے کہتا ہے کہ ”مجھے کمر پر گولی لگی ہے۔“ اس کی گاڑی میں بیٹھا ایک مسافر بھی یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ ”میرے سر سے خون نکلنا بند نہیں ہو گا۔“

رپورٹ کے مطابق گولی لگنے والی شخص کی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے 17 سالہ لڑکے کے سر پر پستول کے ساتھ مسلسل وار کئے گئے اور پھر کچھ ہی دیر بعد ایک مرتبہ پھر فائرنگ کی آواز سنائی دیتی ہے تاہم اس دوران کسی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں۔

ویڈیو بنانے والا 22 سالہ نوجوان اور اس کے ساتھ موجود 17 سالہ لڑکا طبی امداد کیلئے یونیورسٹی آف آرکنساس کے میڈیکل سائنس ہسپتال چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق پولیس ویڈیو ثبوت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

لیفٹیننٹ سٹیون میکلاناہن کا کہنا ہے کہ ” نوجوان میں ایک ایسے ٹرینڈ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو ہم نہیں دیکھنا چاہتے، ملزموں کو پہنچاننے سے لے کر عینی شاہدین کے انٹرویز لینے تک، یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔پولیس نے تاحال کوئی گرفتار نہیں کی مگر واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔“

ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -