بے امان جمہور کی  بے جان جمہوریت

بے امان جمہور کی  بے جان جمہوریت
بے امان جمہور کی  بے جان جمہوریت

  

جمہور یت اور حکومت  عوام کی خدمت  اور مقصدیت کھو چکی ہے- جمہور کے دل سے جمہوریت اور حکمرانوں کے ہاتھوں سے حکومت پھسل رہی ہے- سالوں یاد رکھا جانے والا فیصلہ سنایا جا چکا ہے- جس طرح کہا گیا تھا کاش یہ قومی سوچ کے دھارے کو بدلنے میں بھی ممد و معاون ثابت ہوکیونکہ مہنگائی- بےروزگاری اور توانائی کی کمی سے دوچار عوام کو چندان فکر نہیں کہ سربراہِ مملکت کون ہے وہ شاید جانتے ہیں کہ انتخابات کے نتیجے میں اگر نظام نہ بدلے تو جمہوریت اورآمریت کے  درمیان فرق بیان کرنے والی بحث بے کار ، بے معنی اور فضول ہے- ملکی ادارے تو تباہ ہو چکے ہیں جن کے بارے میں  عدلیہ کے محترم ججز کی رائے کیا تھی  سب کو معلوم ہے – اب تو اس ترازو پہ سب کی نظر لگی ہے کہ انصاف کا یہ علمبردار  میزان ہی کچھ ملکی حالت بدلے اور سب کو بلا تفریق غیرے  ایک جیسا عدل و انصاف مہیا کرے تاکہ ہر کس عام و خاص کی قسمت بدلے اور شائد اس سے ہی ملکی مسائل حل ہو سکتے ہیں-     

ہرروز کی تقاریر اور وعدے وعید سن کر عوام یہ سوچتی ہے کہ وہ ان دعوؤں اور جمہوریت کا کیا کرے جس میں مرد، عورت، بچہ ، بوڑھا، محنت کش ، بیمار اور کسی طالبعلم کو بھی اماں حاصل نہیں- وہ جمہوریت جس میں جمہور کا ہر فرد  ہر وقت اپنی جان و مال،عزت و آبرو کو درپیش خطرات کو محسوس کرے اور لب نہ کھولے- جرم اور مجرم کھل کھیلیں کوئی سزا کے مستوجب نہ ہوں تو ناانصافی  کے اس معاشرے کو پھر بھی جمہوری قرار دیا  جائے کیا درست ہوگا- سفید پوش بسیار محنت اگر حق و حلال کی کمائے  اپنے بچوں کو  اعلیٰ تعلیم دلوائے اور ایک اچھا شہری بنائے مگر وہ دین و دنیا کے محافظوں کے ہاتھوں ہی موت کے گھاٹ اتر جائے تو پھر وہ کیوں نہ ایسی جمہوریت میں پچھتائے  کہ جس میں ہر چور اچکا  بڑا چوہدری کہلائے- کیا ہو اس قوم کا جس کے اسکول ، کلیات و جامعات  ایک ایسی جنونیت اور انتہا پسندی کے قابو آ جائیں کہ والدین اپنے جگر گوشوں کو ان میں حسنِ تعلیم سے بہرہ ور ہونے کیلئے بھیجنے سے بھی گھبرائیں – امن و دین کے گہوارے مدارس  و مساجد  جن میں  مقیم شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ پائیں  - درس گاہیں خون سے رنگین قتل گاہیں بن جائیں تو پھر ملک کے حاکم ہی بتائیں کہ اس جمہوریت کا کیا ہم چاٹیں یا ہم کھائیں- جمہوریت جس میں ہر کسی کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہوتا ہے  لیکن جب لبوں پہ قفل  لگانے کے قانون  اور احکامات ایک جمہوری حکومت جاری کردے اور ایک ڈاکٹر  اپنے مطالبات کی آواز میڈیا کے ذریعے  پہنچانے کو بھی ترسے جیسا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے جاری مراسلے میں لگائی گئی  پابندی پکار پکار کے جمہوریت سے پوچھ رہی ہے  کہ اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر میرا نام آمریت کیوں ہے مجھے بھی کسی ایسے ہی اچھے نام سے لکھا اور پکارا جائے تو میں کیا لکھوں اور کیا بیان کروں- جی ہاں ہمیں اپنے برابر کھڑے دوسرے انسان کی اواز کب پسند آتی ہے ۔ جس معاشرے میں آواز سننے سے گلا دبا دینا زیادہ آسان ہو وہ کہاں کی جمہوریت ہے- بربریت ، وحشت اور جنونیت کبھی بھی جمہوری معاشروں کی اقدار نہیں ہوتیں-                                                                                                                           

صرف چند مفادات کے حصول کی خاطر ہم بھول گئے ہیں کہ یہ زندگی چند روزہ ہے اور پھر ایک حقیقی عدالت بھی لگے گی- جس میں سب برابر ہوں گے  پھر یہاں  آج کا انساں ایک منصف  بنا کیوں انصاف سے گریزاں ہے- کل کی پکڑ  سے آج کی ذمہ داری اور اس کی ادائیگی آسان ہے – کیوں جب گھروں کے چراغ گل ہوتے ہیں تو ہمارے ضمیر کی عدالت نہیں لگتی – کیوں ہم غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط بنانے پہ تل جاتے ہیں- کیوں ہم سر عام ہوتی ہوئی  کسی قتل گری کی راہ نہیں روکتے ہم تو اس منظر کو فلماتے ہیں اور پھر بیچتے بھی ہیں- سیالکوٹ میں دو بھائیوں کے قتل اور تماشائی قانون  کے مناظر کب ابھی ان آنکھوں کو بھولے ہیں- شاید بالواسطہ یا بلا واسطہ حرام کھا کے ہماری قومی غیرت و حمیت کہیں کھو چکی ہے یا شاید ہم سب میں چھپا ایک آمر اس جمہوریت کی آڑ میں خود کو زیادہ محفوظ سمجھتا ہے  اور جس کو اس کی سمجھ نہیں  یا تو وہ ایک بے بس انسان ہے یا حالاتِ زمانہ کی ماری وہ ذی روح   ہے جسےاب  جمہوریت نے بے زبان  کر دیا ہے- لفاظی کے ہم اتنے ماہر اور  طاق ہیں  کہ  کسی جرم پہ پردہ ڈالنے  کو کہاں کوئی دشواری پیش آتی ہے- اس جمہوریت میں گناہ گار تو دندناتا پھرتا ہے اور بے گناہ پابندِ سلاسل ہے یا تختوں پہ جھول رہا ہے- اس جمہوریت میں ہم  جرم کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچا سکتے اور یہ تباہی کو وہ رستہ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے اشارہ کیا تھا کہ تم سے پہلے قومیں اسی نا انصافی کے ہاتھوں تباہ ہو گئیں- اگر ہمیں اپنی اور اپنے بچوں کی فکر ہے تو اس جمہوریت کی آڑ میں چھپی آمریت کے خلاف علم ِ حق بلند کرنا ہوگا اور صحیح جمہوریت یعنی جمہوریتِ مدینہ کو اپنانا ہوگا-                                                                                                             

 ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

                                                                                            

مزید :

بلاگ -