وہ حکمران جو نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کا خون ”چوستا “ تھا، وجہ ایسی کہ سن کر آپ کی ہنسی نکل جائے گی

وہ حکمران جو نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کا خون ”چوستا “ تھا، وجہ ایسی کہ سن کر ...
وہ حکمران جو نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کا خون ”چوستا “ تھا، وجہ ایسی کہ سن کر آپ کی ہنسی نکل جائے گی

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بلاشبہ جمہوریت ہی بہترین طرزحکومت ہے۔ آمریت جتنی بھی بھلی ہو، خستہ حال ترین جمہوریت کا بھی نعم البدل نہیں ہو سکتی، کیونکہ زہر کبھی گندے پانی کا متبادل نہیں ہوا کرتا۔ آمر اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں، وہ جو مظالم کریں، جتنی عیاشیاں کریں، کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہوتا۔ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں دنیا کی مختلف اقوام پر مسلط رہنے والے کچھ آمروں کی ایسی ہی عادتیں بیان کی ہیں جن کے متعلق جان کر آپ بھی ورطہء حیرت میں پڑ جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق ترکمانستان کے سابق صدر سپارمورت نیازوف (Saparmurat Niyazov)نے ’روح نامہ‘ کے نام سے ایک مذہبی کتاب لکھی تھی جو ملک کے ہر طالب علم کے لیے پڑھنی لازمی قرار دی گئی تھی۔ وہ اپنی کتاب کے متعلق اس قدر جنونی تھا کہ اس نے یہ کتاب خلاءمیں بھی بھیجی تھی تاکہ خلائی مخلوق بھی اسے پڑھے۔ یہ کتاب ایک راکٹ کے ذریعے خلاءمیں بھیجی گئی۔

رومانیہ کے سابق صدر نکولائی کیاﺅسیسکو روزانہ نیا لباس زیب تن کرتے اور نئے جوتے پہنتے تھے اور سٹاف کو حکم دے رکھا تھا کہ روزانہ گزشتہ روز والا’پرانا‘لباس اور جوتے جلا دیئے جائیں۔ جیسے ہی وہ لباس اور جوتے اتارتے تھے سٹاف انہیں ایک مخصوص جگہ پر لیجا کر آگ کی نذر کر دیا کرتا تھا۔

معمر قذافی کو کس امریکی خاتون سے جنون کی حد تک ” عشق“ تھا اور وہ اس کا اظہار کھل کر کرتے تھے، جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے

شمالی کوریا کا سابق مطلق العنان حکمران اور موجودہ حاکم کم جونگ ان کا باپ کم سنگ خوبصورت اور نوجوان رہنے کے لیے نوجوان لڑکے لڑکیوں کا خون حاصل کرکے اپنے جسم میں منتقل کروایا کرتا تھا۔ وہ ایسے لڑکے لڑکیوں کا خون حاصل کرتا جن کی عمر 20سال کے لگ بھگ ہوتی۔ کم سنگ نے اپنی تعریف میں ایک گیت بھی لکھوایا جو بعدازاں شمالی کوریا کے خلائی سٹیشن پر بھیجا گیا اور وہاں چلایا گیاتاکہ خلائی مخلوق بھی اسے سن لے اور کم سنگ کی زمین پر موجودگی سے آگاہ ہو جائے۔

برما کا سابق حکمران ’نے ون‘ (Ne Win)ڈولفن مچھلی کے خون سے نہایا کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس سے وہ نوجوان رہے گا اور اس کا جسم طاقتور ہو گا۔

ڈومینیکن ری پبلک کا آمر رافیل تروجیلو 30سال تک اپنی قوم پر مسلط رہا اور اس دوران اس نے ظلم و بربریت کی نئی داستان رقم کی۔ وہ اس قدر ہوس پرست تھا کہ ملک کی جو خاتون بھی اسے اچھی لگتی وہ اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتا تھا، خواہ خاتون شادی شدہ ہوتی یا غیرشادی شدہ۔ جو شوہر یا باپ اپنی بیوی یا بیٹی کو رافیل کے پاس بھیجنے سے انکار کرتے انہیں گرفتار کرکے بہیمانہ تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -