ماں کے دودھ میں سائنسدانوں نے ایسی چیز ڈھونڈ نکالی کہ سب سے خطرناک بیماری کا علاج ہونے لگا

ماں کے دودھ میں سائنسدانوں نے ایسی چیز ڈھونڈ نکالی کہ سب سے خطرناک بیماری کا ...
ماں کے دودھ میں سائنسدانوں نے ایسی چیز ڈھونڈ نکالی کہ سب سے خطرناک بیماری کا علاج ہونے لگا

  

سٹاک ہوم(مانیٹرنگ ڈیسک) دورحاضر میں جہاں دیگر کئی بری روایات نے جنم لیا ہے وہیں اس رجحان نے بھی تقویت پکڑی ہے کہ ماﺅں نے بچوں کو اپنا دودھ پلانے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے اور انہیں ڈبے کے دودھ پر پالنے لگی ہیں۔ تاہم اب سویڈن کی لنڈ یونیورسٹی (Lund University)کے سائنسدانوں نے ماں کے دودھ کا ایک ایسا فائدہ بتا دیا ہے کہ کوئی ماں اپنے بچے کو اپنے دودھ سے محروم نہیں کرنا چاہے گی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اپنی تحقیق میں سائنسدانوں نے ماں کے دودھ میں ایک ایسے جزو کا پتہ چلایا ہے جو بچوں کو تمام عمر کینسر کے مرض سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”ماں کے دودھ میں موجود اس جزو کا نام ’ہیملٹ‘ (Hamlet)ہے جو بچوں میں ٹیومر پیدا ہونے سے روکتا ہے اور اگر ٹیومر پیدا ہو جائے تو دیگر خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر اس ٹیومر کے خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ بالخصوص یہ جزو مقعد اور رحم کے کینسر کے خلاف انتہائی مزاحمت رکھتا ہے اور تمام عمر بچوں کو اس مرض سے مدافعت فراہم کرتا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ کیتھرینا سوانبورگ کا کہنا تھا کہ ”ہیملٹ نامی یہ جزو جادوئی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ یہ صرف ٹیومر کے خلیوں کو نشانہ بناتا ہے اور انہیں یکسر ختم کر دیتا ہے۔اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں الفا لیکٹالبومین (Alpha-Lactalbumin)نامی پروٹین بھی پایا جاتا ہے۔ یہ بھی کینسر کے خلاف مدافعت کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔“

مزید :

تعلیم و صحت -