”دبلی پتلی لڑکیوں کو یہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی “ بڑے یورپی ملک نے ایسااعلان کر دیا کہ سن کر آپ کو یقین نہ آئے گا

”دبلی پتلی لڑکیوں کو یہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی “ بڑے یورپی ملک نے ...
”دبلی پتلی لڑکیوں کو یہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی “ بڑے یورپی ملک نے ایسااعلان کر دیا کہ سن کر آپ کو یقین نہ آئے گا

  

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس میں 2015ءمیں ایک قانون منظور کیا گیا تھا جس کے تحت غیرصحت مند اور انتہائی دبلی پتلی فیشن ماڈلز پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ماڈلز کو اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے مناسب وقت دینے کے بعد اب یہ قانون نافذالعمل ہو گیا ہے۔آج کے بعد فرانس میں ماڈلز کو اپنی جسمانی صحت سے متعلق ڈاکٹروں کا سرٹیفکیٹ دکھانا ہو گا جس میں ان کی جسامت کے لحاظ سے وزن کی تفصیل درج ہو گی۔فرانس کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد خوراک کے عدم توازن اور نام نہاد خوبصورتی کے غیرصحت مندانہ طریقوں سے نمٹنا ہے۔

اس قانون کے تحت ماڈلز کے فوٹوشوٹس کے حوالے سے بھی قدغنیں لگائی گئی ہیں۔ اب جو ماڈل اپنی تصاویر میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کوئی تبدیلیاں کرے گی وہ اس کے متعلق بتانے کی پابندی ہو گی۔ ڈیجیٹل تبدیلی والے فوٹو شوٹس پر ایک لیبل لگایا جائے گا جس پر درج ہو گا کہ انہیں ڈیجیٹل طریقے سے تبدیل کیا گیا ہے اور ماڈل کا حلیہ تبدیل کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس نئے قانون کی خلاف ورزی کرنے والی ماڈلز کو 75ہزار یورو(تقریباً 85لاکھ 91ہزار روپے) جرمانہ اور 6ماہ قید کی سزا ہو گی۔

فرانس کے صحت اور سماجی بہبود کی وزیر مارسول ٹورانی کا کہنا ہے کہ ”طے شدہ معیار پر مبنی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے غیر حقیقی طور پر خوبصورت بنائی گئی تصاویر دیکھ کر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خود تحقیری میں مبتلا ہوجاتے ہیں، ان کی خود اعتمادی میں کمی ہوتی ہے اور یہ سب ان کی صحت پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔“واضح رہے کہ فرانس پہلا ملک نہیں ہے جہاں دبلی اور کم وزن ماڈلز کے خلاف قانون منظور ہوا۔ اس سے پہلے اٹلی، سپین اور اسرائیل یہ قانون منظور کروا چکے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -