بھارت سے دوستی اور بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعہ آزادی کی تحریک میں خنجر گھونپا جارہا ہے،حافظ سعید کی نظر بندی کا مسئلہ عوامی عدالت میں لے جائیں گے:دفاع پاکستان کونسل

بھارت سے دوستی اور بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعہ آزادی کی تحریک میں خنجر گھونپا ...
بھارت سے دوستی اور بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعہ آزادی کی تحریک میں خنجر گھونپا جارہا ہے،حافظ سعید کی نظر بندی کا مسئلہ عوامی عدالت میں لے جائیں گے:دفاع پاکستان کونسل

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کے مرکزی قائدین نے یکجہتی کشمیر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سے دوستی اور بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعہ جدوجہد آزادی کی تحریک میں خنجر گھونپا جارہا ہے، حکمرانوں نے قائداعظم کی کشمیر پالیسی کو ترک کر دیا، افغانستان میں بھارتی فوج داخل کر کے مشرق و مغرب سے پاکستان کو سینڈوچ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ امریکہ، بھارت اور ان کے اتحادی سی پیک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، مولاناعبدالغفور حیدری اور گوادرمیں مزدوروں پر حملے انہی سازشوں کا حصہ ہیں، حافظ محمد سعید کی نظربندی کا مسئلہ عوامی عدالت میں بھی لے جائیں گے، کشمیریوں سے اصل یکجہتی تحریک میں عملی تعاون کرنا ہے، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں بھی جلد بڑے پروگرام ہوں گے،  کشمیری لازوال قربانیوں کی داستان رقم کر رہے ہیں۔ ان کی مددوحمایت کیلئے سڑکوں پر نکلنا ہو گا، کلبھوشن کی پھانسی کے مسئلہ پر بیرونی دباﺅ قبول نہ کیا جائے۔

مقامی ہوٹل میں ہونے والی کانفرنس سے دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، لیاقت بلوچ،محمد علی درانی، اجمل خان وزیر، خرم نواز گنڈا پور، مولانا فضل الرحمن خلیل،مولانا امیر حمزہ،قاری محمد یعقوب شیخ ،علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر،حافظ خالد ولید،حافظ عبدالغفار روپڑی ، مولانا عبدالرﺅف فاروقی ،شاہ عبدالعزیز ،ابوالہاشم ربانی،شیخ نعیم بادشاہ، قاری ضمیر احمد منصوری ،نذیر احمد خان و دیگر نے خطاب کیا۔ قبل ازیں مرکز القادسیہ چوبرجی میں دفاع پاکستان کونسل کے قائدین کا اجلاس بھی ہوا جس میں جمعیت علماءپاکستان کے صد ر پیر اعجاز ہاشمی نے بھی شرکت کی۔اس موقع پرقائدین نے اتفاق رائے سے شیخ نعیم بادشاہ کو ڈی پی سی لاہور کا کوآرڈینٹرمقرر کیا ۔اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری اور گوادر میں مزدوروں پر حملے کی بھی شدید مذمت کی گئی اور سانحہ ماڈ ل ٹاﺅن کے مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ امریکہ اور اس کے اتحادی سی پیک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ہماری تاریخ نظربندیوں سے بھری پڑی ہے، حافظ محمد سعید نے سال 2017ءکو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے نام کیا تو انہیں گرفتار کر لیا گیا، انہیں نظربند کر کے لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی بھی توہین کی گئی جو جماعةالدعوة اور اس کی قیادت کے حق میں واضح فیصلے دے چکی ہیں، حکمران کلبھوشن کو دہشت گرد کہنے کیلئے تیار نہیں ہیں، جدوجہد آزادی کشمیر کی مددوحمایت کے جرم میں حافظ محمد سعید و دیگر کو نظربندکرنا کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ  11جون کو اسلام آباد میں بڑا سیمینار ہو گا، اسی طرح پشاور ، بلوچستان اور دیگر شہروں میں بھی بڑے پروگرام ہوں گے، ہم تمام مذہبی وسیاسی قیادت کو دعوت دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام پسندوں کیخلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے،دفاع پاکستان کونسل استحکام پاکستان کیلئے جدوجہد کر رہی ہے، تحفظ نظریہ پاکستان کیلئے بھرپور جدوجہد کی ضرورت ہے، اس ملک میں لبرل ازم کی باتیں کی جارہی ہیں اور قادیانیوں کے نام پر یونیورسٹیوں کے شعبہ جات منسوب کئے جارہے ہیں،ہمیں دین اسلام کے تحفظ کیلئے متحد ہونا ہو گا۔ دفاع پاکستان کونسل انتخابی پلیٹ فارم نہیں ہے، یہ صلیبی، یہودی اور ہندو سازشوں کا توڑ کرنے کیلئے ہے، آنے والے دنوں میں بہت بڑے خطرات ہیں، اس حکومت سے کسی قسم کامطالبہ کرنا فضول ہے،  یہ کشمیر کی آزادی کیلئے کچھ نہیں کریں گے،  ان کی پالیسیوں سے ملکی استحکام کیلئے خطرات پیدا ہو رہے ہیں، پہلے بھی کشمیر آزاد ی کی جدوجہد سے آزاد ہوا تھا اب بھی میدانوں میں نکلنے سے کشمیر کو آزادی ملے گی۔مولانا سمیع الحق نے کہاکہ امریکہ کیخلاف لڑنے والے افغان طالبان دہشت گر د نہیں ہیں، افغانستان میں امریکہ شکست کھا چکا ہے، وہ نہتے مسلمانوں پر بمباری کرے، جنازوں پر فائرنگ کرے اسے کوئی دہشت گرد نہیں کہتا،شمالی کوریا نے امریکہ کی ناک میں دم کر رکھا ہے، حکمران امریکیوں کی دہشت گردی کیخلاف بولنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

جماعةالدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ بھارت سے دوستی والے رویہ نے مسئلہ کشمیر کو بہت نقصان پہنچایا ہے، حکمران تحریک آزادی کشمیر کی مدد کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں، قائداعظم کی کشمیر پالیسی کو ترک کر دیا گیا ہے، جدوجہد آزادی کشمیر کو دہشت گردی قرار دیاجارہا ہے، حافظ محمد سعید کو کشمیریوں کی مدد کے جرم میں نظربند کیا گیا۔ کشمیری لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کر رہے ہیں، وہ پاکستانی پرچم میں اپنے بیٹوں کو دفن کر رہے ہیں ا ور حکمران تحریک آزادی کشمیر کو دہشت گردی سمجھتے ہیں، کشمیریوں سے اصل یکجہتی ان کے خون سے خون ملانااور ان کی مددکرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکمران کوئی شرمندگی محسوس کئے بغیر ہندوستان سے بیک چینل ڈپلومیسی کی باتیں کر رہے ہیں ، دفاع پاکستان کونسل کشمیریوں کی ہر ممکن مددکرے گی، افغانستان میں مودی بھارتی فوج داخل کر کے مشرق اور مغرب سے ہمیں سینڈوچ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یہ سب سازشیں دم توڑ جائیں گی،  آزادی کشمیر سے بھارت کا وجود بکھر جائے گا۔

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ کشمیریوںنے بھارتی بالا دستی کو قبول نہیں کیا، ان کی لازوال قربانیوں اور الیکشن بائیکاٹ نے ثابت کر دیا کہ وہ آزادی چاہتے ہیں، حکومت بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعہ کشمیریوں کی تحریک میں خنجر گھونپ رہی ہے،حافظ محمد سعید کی نظربندی سے تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچا اور پاکستان پہلے سے زیادہ بحرانوں سے دوچار ہے، ان کی نظربندی کیخلاف بھرپور تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مغربی سرحدوں کو بھارت و امریکہ کے تعاون سے غیر محفوظ کیا گیا، ایران کا بارڈربھی غیر محفوظ اور بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے، ڈان لیکس کا قوم کو کچھ معلوم نہیں ، پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں قومی کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا، حافظ محمد سعید کی نظربندی کا فائدہ بھارت کو ہواہے،  حافظ محمد سعید کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ،اس نظربندی کے تسلسل کو قائم رکھنا آئینی،انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔

 سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ جدوجہد آزادی کشمیر کی حمایت پر حافظ محمد سعید کو نظربند کیا گیا، کشمیریوں سے یکجہتی کے لےے سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت ہے،کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں،حکمران سی پیک بنانا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کا پانی بھول رہے ہیں،کشمیر کے تحفظ اور اس مسئلہ کو اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خطے میں تنہا کشمیر کی حمایت نے نہیں کیا بلکہ حکمران جب سے مودی کے یار بن رہے ہیں، مودی اس خطے میں آپ کو تنہا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حافظ محمد سعید کی نظربندی کے مسئلہ کو عوامی عدالت میں لے کر جانا چاہئے۔

مسلم لیگ(ق)کے سینئر نائب صدر محمد اجمل خان وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں دو دن میں مولانا عبدالغفور حیدری اور مزدوروں پر حملے کئے گئے،سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کو فنڈنگ کون دے رہا ہے ، ڈان لیکس کے اگلے ماہ ہاٹ آف ایشیا کانفرنس تھی، اس کے بعد حافظ محمد سعید کو نظربند کر دیا گیا،  حافظ محمد سعیدکا کوئی جرم ہے تو میڈیا کے سامنے لائیں،عدالتوں میں بتائیں ۔انہوں نے کہا کہ جندال پاکستان آتاہے ، اسکے پاک فوج کے بارے میں جو خیالات ہیں سب کو پتہ ہیں۔ پانامہ کے لئے جے آئی ٹی بنی توچمن میں حملہ ہو گیا، کنٹرول لائن پر فائرنگ ہوئی۔ اچانک ملک میں دہشت گردی کیوں شروع ہوتی ہے؟یہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ؟ ہمیں اس کا جواب چاہئے۔انہوں نے کہا کہ حافظ محمد سعید جلد ہمارے درمیان ہوں گے۔

پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک فرد ذمہ دار ہے اور کشمیر میں بہنے والا خون ہمارے اوپر قرض ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بیس کروڑ پاکستانی کشمیر کے لئے جانیں قربان کرنے کو تیار ہوں گے تو پھر کشمیر کی آزادی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، دفاع پاکستان کونسل کو کامیاب کشمیر کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، کشمیر کے آزادی پاکستان کے بقا و دفاع کے لئے لازم ہے۔

انصار الامة پاکستان کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ ستر سال سے کشمیر کی آزادی کی باتیں کر رہے ہیں سوچنا یہ ہے کہ اس میں رکاوٹ کیا ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ ہماراصرف کلمہ کا رشتہ نہیں بلکہ معیشت کا رشتہ ،دفاع کا رشتہ بھی کشمیر کے ساتھ ہے کیونکہ پاکستان کا پانی کشمیر سے آتا ہے۔

جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہی ظہیر نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کے قائدین عوام کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں یہ دفاع پاکستان کے پاسبان،نظریہ پاکستان کے محافظ ہیں جو کشمیر کے بیٹیوں کی پکار پر میدان عمل میں نکلنے والے ہیں۔حکمرانوں نے ضمیر کو گروی رکھ دیا ہے ۔

تحریک حرمت رسولﷺ کے کنوینر مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ حافظ محمد سعید کی نظربند ی پر سیدہ آسیہ اندرابی نے کہا کہ نوے ہزار شہداءکا ہمیں اتنا دکھا نہیں ہوا جتنا حافظ محمد سعید کی نظربندی پر ہواہے، کشمیر میں طالبات پتھر اٹھا کر بھارتی فوج کا مقابلہ کر رہی ہیں۔خطے کے حالات بدل چکے ہیں،سی پیک بن رہا ہے، چین نے کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دیا ، نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے چیئرمین قاری محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ حافظ محمد سعید کی کشمیر پالیسی وہی ہے جو بانی پاکستان کی تھی ۔کشمیر ی عوام بھی اسی پالیسی پر کاربند ہیں۔حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ صرف کاروبار کیا جائے، نظریاتی و جغرافیائی سرحدیں مٹا دی جائیں،حکمرانوں کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔افواج پاکستان کے ساتھ مل کرملک کا دفاع کریں گے۔

تحریک آزادی جموں کشمیر کے سیکرٹری جنرل حافظ خالد ولید نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی جاری ہے اور پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔حکمران بھارت سے دوستی کی بجائے کشمیریوں کی عملی مدد کریں۔بانی پاکستان نے کشمیر کو شہہ رگ کہا تھا ہمیں اس شہہ رگ کی حفاظت کرنی ہے ۔جماعت اہلحدیث کے امیر حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ اسلامی ممالک پر فرض ہے کہ وہ کشمیریوں کی مدد کریں۔اسلامی ممالک کا اتحاد آگے بڑھے۔اگر کلبھوشن کو چھوڑا گیا تویہ ملک سے غداری ہو گی اسے فوری پھانسی دی جائے۔جمعیت علماءاسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرﺅف فاروقی نے کہا کہ کشمیری مسلمانوںپر مظالم کئے جا رہے ہیں لیکن عالمی برادری خاموش اور اندھی ہو چکی ہے۔سلامتی کونسل خاموشی اختیار نہ کرے۔جمعیت علماءاسلام کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل شاہ عبدالعزیز نے کہا کہ امت مسلمہ کے مسائل کا واحد حل جہاد میں ہے۔کشمیر قربانیوں سے آزاد ہو گا مذاکرات سے نہیں۔

متحدہ جمعیت اہلحدیث کے رہنما،دفاع پاکستان کونسل لاہور کے کوآرڈینیٹر شیخ نعیم بادشاہ ،جماعةالدعوة لاہور کے مسئول ابوالہاشم ربانی، جمعیت اتحاد العلماءپاکستان کے سیکرٹری جنرل قاری ضمیر احمد منصوری ،تحریک جوانان پاکستان لاہور کے رہنما نذیر احمد خان ودیگر نے کہا کہ بھارت کشمیر کی تحریک کو دبانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے،مودی نے حریت رہنماﺅں کو نظربند کیا تو ہماری حکومت نے کشمیر کی آواز اٹھانے والے حافظ محمدسعید کو نظربند کیا، ہم پروفیسر حافظ محمد سعید کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مزید :

قومی -