اندرونی سیاسی جھگڑے اپنی جگہ لیکن خارجہ پالیسی اور قومی معاملات پر ہم ایک پیج پر ہیں:شفقت محمود

اندرونی سیاسی جھگڑے اپنی جگہ لیکن خارجہ پالیسی اور قومی معاملات پر ہم ایک ...
اندرونی سیاسی جھگڑے اپنی جگہ لیکن خارجہ پالیسی اور قومی معاملات پر ہم ایک پیج پر ہیں:شفقت محمود

  

لاہور(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شفقت محمودنے کہاکہ اندرونی سیاسی جھگڑیں اپنی جگہ لیکن خارجہ پالیسی اور قومی معاملات پر ہم ایک پیج پر ہیں,  شہبازشریف اور حمزہ شہبازوالے نوٹس ابھی موصول نہیں ہوئے جب ہونگے تو دیکھیں گے, حکمرانوں کی مہربانی سے لوڈشیڈنگ انتہا کو پہنچ چکی  ,جھوٹے وعدے کرنے پر شہبازشریف کانام’’  ڈرامہ شریف‘‘ رکھا ہے ، حکمرانوں کے گھروں میں بلاتعطل بجلی فراہم ہو رہی ہے یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

 گارڈن ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےشفقت محمود  نے کہاکہ 11 جون کو انٹرا پارٹی الیکشن کا عمل شروع ہوجائے گا، پہلے مرحلے میں مرکز کے الیکشن منعقد ہوں گے ،مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی بادشاہتوں میں جعلی انٹرا پارٹی الیکشن ہوتے ہیں اور   ہاتھ کھڑے کروا کر عہدے دیئے جاتے  اور جعلی سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرواتے ہیں،لیکن تحریک انصاف میں ایسا  نہیں ہوتا ۔شفقت محمودنے کہاکہ جے آئی ٹی اور  سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے ، جے آئی ٹی کے ممبران اچھی شہرت رکھتے ہیں ، کچھ ادارے وزیراعظم کے نیچے کام کررہے ہیں لیکن تحفظات کے باوجود جے آئی ٹی کو تسلیم کرتے ہیں، جے آئی ٹی کی پندرہ روزہ رپورٹ بھی پبلک ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی کی انکوائری 60 روز میں مکمل ہونی چاہئے اور اس میں تاخیر ہوئی تو بداعتمادی پیدا ہوگی، جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد حالات کا جائزہ لیں گے ، دھرنے کی کی باتیں قبل ازوقت ہیں۔ شفقت محمود نے کہاکہ الیکٹرول ریفارم کے لئے پی ٹی آئی نے بہت زیادہ تجاویز کمیٹی میں پیش کی ہیں ،ان میں کچھ پر عملدر آمدہوا  اور کئی تجاویز پر ابھی عملدرآمد ہونا باقی ہے ،اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے راستے میں(ن)لیگ روڑے اٹکارہی  اور اس معاملے کو پش پشت ڈال رہی ہے ، (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی سمجھتی ہیں کہ اورسیزپاکستانیوں کا زیادہ تر تعلق تحریک انصاف سے ہے اس لئے وہ اورسیز کو ووٹنگ کاحق دینے سے بھاگ رہے ہیں مگر سمند ر پار پاکستانیوں کوووٹ دینے کاحق ملنا چاہے ،بائیومیٹرک کے ذریعے ووٹنگ کے معاملے پر بھی تیزی آنی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ ڈان لیکس رپورٹ کو عام کرنا چاہئے اور پتہ چلناچاہئے کہ سیکیورٹی لیکس میں اصل چہرے کونسے ہیں؟ ۔

مزید :

قومی -