احتساب کا سراب

احتساب کا سراب
احتساب کا سراب

  

جن ملکوں میں عدالتیں درست طور پر کام کر رہی ہوں اور انصاف دے رہی ہوں، وہاں احتساب کے علیحدہ سے ادارے نہیں ہیں۔ یہ تو ان ملکوں میں ہیں جہاں فوج مارشل لاء لگاتی رہی ہے ، یا جہاں عوام میں مقبول سیاست دانوں کو سیاسی میدان سے آٗوٹ کرنے کے لئے مختلف طریقے سوچے جاتے ہوں جیسے ’’بنگلہ دیش ماڈل‘‘ یا ’’انتخاب سے پہلے احتساب‘‘، وغیرہ وغیرہ۔

جمہوری ملکوں مثلاً امریکہ، یورپ کے تقریباً تمام ممالک، جاپان وغیرہ ہوں یا ہمارے پڑوس میں بھارت ، ایران، ترکی اور دوسرے ممالک، کہیں بھی احتساب کے نام پر علیحدہ سے کوئی ادارہ نہ پہلے کبھی تھا اور نہ اب ہے کیونکہ ان ملکوں میں عوام کا عدالتوں پر اعتماد ہے اور عدالتیں ہی انصاف دیتی ہیں ۔سیاسی مخالفین کا بازو مروڑنے کے لئے احتساب کے نام پر ادارے قائم نہیں کئے جاتے۔

جہاں تک حکمرانوں کے احتساب کا تعلق ہے تو جمہوری ملکوں میں اس کا اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے جو ہر چار یا پانچ سال بعد اس کا استعمال اپنے ووٹ کی صورت میں کرتے ہیں ، اگر مطمئن ہوں تو اسی حکومت کو برقرار رکھتے ہیں اور اگر نہ ہوں تو اس کی جگہ دوسری حکومت لے آتے ہیں۔ ان ملکوں میں کوئی ایسی خلائی مخلوق بھی نہیں ہوتی جسے اس قسم کی ذمہ داریوں کی زحمت اٹھانا پڑے۔ ہر کوئی اپنا اپنا کام کرتا اور چین کی بانسری بجاتا ہے۔

چند دن پہلے ڈاکٹر مہاتیر محمد چھٹی مرتبہ ملائشیا کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تو خوشی اور تشویش کے ملے جلے جذبات نے مجھے گھیر لیا۔

خوشی کیوں؟ کیونکہ کون ہے جو ڈاکٹر مہاتیر محمد کی قائدانہ صلاحیتوں کو نہیں جانتاکہ بطور وزیر اعظم انہوں نے ملائشیا کو اوسط درجہ سے اٹھا کر صف اول کے ممالک میں لا کھڑا کیا اور آج بھی پاکستان میں بہت سے لوگ انہیں رول ماڈل لیڈر کہتے ہیں۔وہ ملائشیا کے چوتھے وزیر اعظم تھے جو 1981 سے 2003 تک لگاتار 22 سال ملک کے وزیر اعظم رہے۔

اور تشویش کیوں؟ ملائشیا میں کیا قحط الرجال ہو گیا ہے کہ قبر میں پاؤں لٹکائے تقریباً 93 سالہ شخص کو وزیراعظم چنا گیا ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد1946 سے عملی سیاست میں ہیںیعنی 72 سال سے۔

شائد یہ اتنی بھی تشویش کی بات نہیں ، لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد ایک ایسا الیکشن جیت کر وزیراعظم بنے ہیں جس میں انہوں نے کرپشن کے خلاف احتساب کا نعرہ بلند کیا۔

ڈاکٹر مہاتیر محمدنے 1946 سے 2016تک پورے 70 سال اپنی سیاست UMNO پارٹی (یونائیٹڈ ملائشین نیشنل آرگنائزیشن)سے کی جس کا ایجنڈا ترقی اور خوش حالی تھا ، اسی پارٹی سے وہ 1964 سے پارلیمنٹ کے ممبر اور وزیر اور 1981 سے وزیراعظم رہے تھے اور سب جانتے ہیں کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد ترقی اور خوش حالی کا دوسرا نام تھا۔

لیکن اب 2016 میں انہوں نے نئی پارٹی PPBM بنائی جس کا ایجنڈا کرپشن کے خلاف احتساب ہے اور اسی نعرہ پر انہوں نے حالیہ الیکشن جیتا۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد نے احتساب کا نعرہ لگا کر الیکشن تو جیت لیا ہے لیکن لگتا ہے ان کے پاس ترقی اور خوش حالی کا ایجنڈا ختم ہو چکا ہے کیونکہ جس سیاسی پارٹی کے پاس سیاسی یا اقتصادی ایجنڈا نہیں ہوتا وہ عام طور پر احتساب کا غلغلہ بلند کرتی ہے۔

پاکستان کی تانگہ پارٹیاں بھی احتساب کی گردان کرتی رہتی ہیں کیونکہ ان کے پاس عوام کو کہنے یا دینے کے لئے کچھ اور نہیں ہوتا۔ ملک کا آئین توڑ کر مارشل لاء لگانے والے فوجی جرنیلوں کا بھی یہ محبوب مشغلہ ہوتا ہے ، لیکن یہ ان کی مجبوری بھی ہوتی ہے کیونکہ ایک ناجائز حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے کوئی نہ کوئی جواز تو ڈھونڈنا ہوتا ہے۔ ویسے تو پاکستان میں احتساب کا پہلا قانون Accountability Act 1947 آزادی کے فورا بعد آ گیا تھا جس کا مقصد بدعنوانی پر قابو پانا تھا لیکن اس کا زیادہ تر استعمال حکومتوں نے سیاسی مخالفین کا بازو مروڑنے کے لئے کیا۔ پاکستان کے پہلے دس سالوں میں ایسے ہی قوانین جن میں 1948 میں 92 (a) اور پھر PRODA وغیرہ کا استعمال کرکے کئی بار وفاقی اور صوبائی حکومتیں برطرف کی گئیں ۔

اس کے بعد جب فوجی جرنیلوں نے مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضے کئے تو ہر ڈکٹیٹر نے احتساب کا ڈرامہ ضرور کیا۔ جنرل ایوب خان (خود ساختہ فیلڈ مارشل) نے EBDO کے کالے قانون کے تحت پاپولر سیاست دان باہر نکالے اور نو خیز سیاست دانوں کی نرسری بنائی۔

ان کے بعد کے فوجی ڈکٹیٹروں نے بھی یہی کھیل کھیلا، جنرل ضیاء الحق نے پاپولر سیاست دان باہر نکالنے کے لئے انتخاب سے پہلے احتساب کا نعرہ بلند کیا ، اسی کی آڑ میں الیکشن ملتوی کرکے زبردستی قبضہ والا اقتدار طویل کیا اور پھر آئین کو توڑ مروڑ کر اورغیر جماعتی الیکشن کراکر پہلے سے زیادہ کرپٹ سیاست دانوں کی نئی کھیپ ملک کو دے گئے۔

جنرل پرویز مشرف نے اپنی ناجائز حکومت کے آنے کے ایک مہینہ بعد ہی نومبر 1999 میں نیب آرڈیننس کے ذریعہ احتساب کے نام پر نیب کا ادارہ ملک پر مسلط کردیا جو آج تک نہ صرف قائم ہے بلکہ گذشتہ اٹھارہ سال میں اپنی کارکردگی کے حوالہ سے مختلف حلقوں کی طرف سے اٹھنے والے بہت سے اعتراضات کا موثر جواب دینے میں زیادہ کامیاب بھی نہیں رہا ہے۔

اس ضمن میں 2015 میں سپریم کورٹ کے دو الگ الگ بنچوں کی جانب سے نیب کی کارکردگی پر کی گئی تنقید کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔سپریم کورٹ کے ان دونوں بنچوں کی طرف سے نیب کی کارکردگی اور طریقہ کار پر سخت اعتراضات کئے گئے جن میں سے ایک بنچ کی سربراہی جسٹس جواد خواجہ اور دوسرے کی جسٹس امیر ہانی مسلم کر رہے تھے۔

دونوں ہی بنچوں نے کہا کہ نیب اپنے اختیارات سے تجاوز کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے نیب کے اربوں روپے کے بجٹ کے استعمال اور مقدمات قائم کرنے میں شفافیت پر بھی اعتراضات کئے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کئے گئے ان اعتراضات کو تین سال گذر چکے ہیں لیکن لگتا ہے کہ نیب نے اصلاح پر کوئی خاص توجہ نہیں دی کیونکہ جو اعتراضات سپریم کورٹ کے ان دونوں بنچوں نے کئے تھے، اب مختلف اطراف سے ان سے بھی زیادہ سنگین اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے جیسے پارلیمنٹ نے یکم اپریل 1997کو 58-2(b) اور بعد اٹھارویں ترمیم میں فوجی ڈکٹیٹروں جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی طرف سے کی گئی کئی ترامیم یا قوانین کو ختم کیا تھا ، اسی طرح نیب آرڈیننس کو بھی ختم کرے گی ۔

نیب آرڈیننس کو 16 نومبر1999 کو جنرل پرویز مشرف نے بطور ڈکٹیٹر جاری کیا تھا لیکن اسے آئینی تحفظ سپریم کورٹ کے ایک ایسے بنچ نے13 اپریل 2005 کو دیا تھا جس کے تمام ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں دئیے گئے فیصلہ کے بنچ کے اراکین میں چیف جسٹس کے ساتھ سپریم کورٹ کے دوسرے ججوں میں جسٹس افتخار محمد چوہدری (بعد میں چیف جسٹس)، جسٹس جاوید اقبال (بعد میں قائم مقام چیف جسٹس اور حالیہ چیئرمین نیب)، عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر شامل تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے کی گئی سترہویں آئینی ترمیم کو( ان کے نام کے ساتھ) جائز قرار دے دیا گیا ، انہیں بیک وقت صدرِ پاکستان اور آرمی چیف بننے کی اجازت کے علاوہ نیب آرڈیننس کو بھی آئینی تحفظ دے دیا گیا تھا۔

جب سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نیب کے چئیرمین کا عہدہ سنبھالا ہے ، اس ادارے کی طرف اٹھنے والی انگلیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک تاثر یہ بھی قائم ہو رہا ہے کہ نیب زیادہ تر میاں نواز شریف کے خلاف یکطرفہ انکوائریاں کر رہا ہے، خاص طور پر چند دن پہلے ایک غیر معروف کالم میں منی لانڈرنگ کے ایک مضحکہ خیز الزام کی بنیاد پر میاں نواز شریف کے خلاف 4.9 ارب ڈالر بھارت بھجوانے کا الزام ہر لحاظ سے انتہائی ناقص ہے جس کی وجہ سے نیب کی بطور ادارہ اور جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی بطور چئیرمین نیب کریڈبلٹی پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

اسی طرح چئیرمین نیب کے بیانات میں کہا جاتا ہے کہ نیب کا سورج چاروں صوبوں میں چمک رہا ہے لیکن عملی طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کی تمازت صرف پنجاب میں ہی محسوس ہوتی ہے ، شائد باقی تین صوبوں میں یہ سورج مصلحت کے بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا ہے۔

پاکستان کو نیب کی نہیں بلکہ عدالتوں میں انصاف کی ضرورت ہے۔ چونکہ جنرل پرویز مشرف اپنے دور میں نیب کو سپریم کورٹ کے ذریعہ آئینی تحفظ دلوا گئے تھے اس لئے اسے آئینی ترمیم کے ذریعہ ہی ختم کیا جا سکے گا ، اس لئے اس وقت تک اسے غیر جانبدار طریقہ سے چلانا ضروری ہو گا تاکہ اس کی کاروائیوں میں انتقام کا شائبہ نہ ہوجو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے مستعفی ہونے سے ہی ممکن ہو سکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -