عورت زندگی کا ایک پہیہ

عورت زندگی کا ایک پہیہ
عورت زندگی کا ایک پہیہ

  

عہد جاہلیت کے عرب میں بنت حوا کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں تھا ان کے لئے قمار بازی فخر و مباہات کی چیز تھی سو وہ عورتوں کو بھی بازی میں لگا دیتے عورتوں کی شرم و حیاء پاکیزگی کی کوئی حیثیت نہ تھی اس لئے نکاح کی اہمیت بھی نہ ہونے کے برابر تھی لفظی طور پر نہیں بلکہ عملاً عورت زندہ درگور تھی بازار میں وہ جنس بے مایہ تھی جس کی اہمیت قدر کچھ نہ تھی ہادی برحق آخری نبیؐ نے عورت کے ذریعے عورتوں کے حقوق بنائے اور ان کا مقام متعین کیا اور تمام انسانیت کے لئے خطبہ حجۃ الوداع میں ان الفاظ کے ذریعے مہر ثبت کر دی عورتوں کے معاملات میں خدا سے ڈرو تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کے تمام تر احکامات میں انسانی نفسیات کو مد نظر رکھا گیا اور مرد و عورت دونوں کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے تعلیم حاصل کرنا دونوں پر فرض ہے وراثت میں دونوں کا حصہ ہے گناہ و ثواب کے احکامات دونوں پر ایک جیسے لاگو ہوتے ہیں دونوں کے لئے حلال و حرام کی حدود ایک جیسی ہیں ماں بہن بیوی اور بیٹی کے روپ میں اسے مرد کی عزت و احترام محبت اور احترام کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے لیکن یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ مرد کا درجہ عورت پر برتری رکھتا ہے اور یہ برتری اللہ کی عطا کردہ ہے مثلاً عورت پر زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے وراثت میں عورت اگر ایک حصے کی حق دار ہے تو مرد کے دو حصے ہیں عورت کے نان و نفقے کی ذمہ داری مرد پر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت جسمانی طور پر کمزور اور نازک ہے جبکہ مرد قوی اور مضبوط اگر عورت اس کا ساتھ دینے کے لئے گھر سے باہر کی دنیا میں قدم رکھتی ہے اور گھر کی معاشی ذمہ داریاں بانٹتی ہے تو یہ بات قابل تحسین ہے کیونکہ وہ بیک وقت دو محاذوں پر برسر پیکار ہوتی ہے اول گھریلو ذمہ داریاں۔

اولاد کی تعلیم و تربیت اور بحیثیت بیوی اپنے امور سرانجام دینا دوم معاشرے کے فعال اور ذمے دار رکن کی حیثیت سے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا لیکن ہمارا معاشرہ جہاں عورت کو ایک کم تر مخلوق یا ثانوی درجے کا سمجھتا ہے وہاں اس کی معاشی خود مختاری بھی خود سری سے تعبیر کی جاتی ہے۔ زیادہ افسوس ناک صورت حال اس وقت ہوتی ہے جب مرد اس کی محنت کی کمائی میں دعوے دار بن جاتا ہے رانی ایک کام کرنے والی عورت ہے وہ مختلف گھروں میں کام کر کے گزر بسر کرتی ہے اس کا شوہر نشے باز اور خراب عادتوں کا مالک ہے جب بھی رانی کو تنخواہ ملتی ہے وہ کبھی دھونس کبھی پیار محبت کے فریب سے اس کی ساری کمائی لے لیتا ہے یہ صورت حال صرف پسماندہ طبقے تک محدود نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بھی اس استحصال کا شکار ہیں اس طرح کے بے شمار کیس ہمارے اردگرد گلی محلوں میں رونما ہوتے رہتے ہیں بحیثیت مسلمان دیکھا جائے تو ہم عورتوں کے حقوق کے دعوے دار ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیا واقعی خواتین کو وراثت میں حصہ ملتا ہے کیا ان کی شخصی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جاتا ہے کیا ان کو وہ عزت و احترام دیا جاتا ہے جس کی بحیثیت انسان وہ حق دار ہیں ہم اسلام کو ضابطہ حیات تصور کرتے ہیں لیکن چند اپنے مفادات کے حصول کے لئے عورتوں کو مختلف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔

اسلام میں عورت کے ہر رشتے کے حقوق عطا کئے گئے ہیں۔ ہمارا اسلام رمضان کے تیس روزوں، محرم الحرام یا پھر جمعہ کے نماز و خطبے تک محدود ہو چکا ہے تاریخ کا جائزہ لیں حضرت خدیجہؓ ایک متمول خاتون تھیں وہ تجارت کرتی تھیں۔

وہ اپنی مرضی سے اپنی آمدنی اہل و عیال پر خرچ کرتی تھیں کیا آخری نبیؐ نے کبھی ان کی آمدنی کا حساب و کتاب طلب کیا ہوگا یایہ کہا ہوگا کہ آپ کی تجارت کی آمدنی میں سے اپنی مرضی سے اسلام کی ترقی و ترویج پر خرچ کروں گا ہرگز نہیں حضرت خدیجہؓ اپنی مرضی سے اسلام پر اپنی دولت قربان کرتی تھیں اور یہی وہ نکتہ ہے جو فریقین میں اعتماد اور محبت کے اضافے کا باعث بنتا ہے۔

حضرت عائشہؓ کی زندگی کا مطالعہ کریں آپ صاحب علم و فراست خاتون تھیں حضرت فاطمہؓ جو لخت جگر رسولؐ ہیں وہ علم و ہنر کی دولت سے مالا مال تھیں ان کی شخصیت کا اعتماد اور شخصی صلاحیتوں کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں اپنے شریک حیات کی طرف سے اعتماد و بھروسہ حاصل تھا بنت علیؓ حضرت زینبؓ اپنے وقت کی انتہائی باشعور اور با عمل خاتون تھیں جن کی صلاحیتوں کو یقیناً ان کے والد بھائی یا شوہر نے جلا بخشی ہو گی اسلام کی پوری تاریخ ایسی بے شمار با ہمت اور بلند حوصلہ خواتین کے کرداروں سے مزین ہے آج کل کا دور جسے ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے اب بھی عورت کو اپنے وہ حقوق منوانے پڑتے ہیں جو چودہ سو برس قبل اسے تفویض کر دیئے گئے تھے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جب سیمینار اور ریلیاں نکال کر بل پاس کروائے جاتے ہیں تو ایک لمحے کے لئے خیال نہیں آتا کہ یہ منشور دستاویزی صورت میں قرآن میں موجود ہے عورتوں کے حقوق کو پارلیمینٹ میں منظور کروانے کی بجائے انہیں گھروں میں لاگو کرنا چاہئے اگر ہر مرد اپنے گھر کی خواتین کو ان کے جائز حقوق دے دے تو ملکی سطح پر ان کے حقوق خود بخود تسلیم کر لئے جائیں گے اگر آپ کی شریک حیات معاشی کفالت میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تو اس پر اپنا حق جتانے کی بجائے حوصلہ افزائی کرنی چاہئے میرے خیال میں ہو سکتا ہے غلط ہو عورتوں کے حقوق کا شور شرابہ چند این جی اوز کی عورتیں اپنی لیڈری چمکانے کے لئے اور اپنے چند مفادات کے حصول کے لئے کرتی ہیں اور وہ اس طبقے کا نام لیتی ہیں جس سے ان کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا ہمارے معاشرے میں امیر سے امیر تر لوگوں کے مرد بھی عورتوں کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے ہیں حقوق تو اس معاشرے کی بہت بڑی برابلم ہے یہ سب حکمرانوں کے مفادات سے وابستہ ہوتے ہیں ، اسلامی معاشرے میں عورت کا بہت اونچا مقام ہے چونکہ وہ کئی شکلوں میں موجود ہے یہ سمجھنے کی بات ہے کہ ملک کے ہر شہر میں عدالتیں میاں بیوی بہن بھائیوں کے جھگڑوں سے آباد ہیں سب اپنے اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -