عالمی برادری کشمیر میں بھارتی مظالم پر توجہ کرے

عالمی برادری کشمیر میں بھارتی مظالم پر توجہ کرے

  

وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے میں کردار ادا کرے، دو ایٹمی پڑوسی ممالک کا امن سے رہنا مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط ہے، جنوبی ایشیا میں اچھے مستقبل کے خواب کو پورا کرنے کے لئے اسلحے کی دوڑ ختم کرنا ہو گی، بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو اس کے جواب میں ہم نے ایٹمی دھماکے کئے۔اسلام آباد میں60 ممالک کے سفیروں اور سفارتی نمائندوں کی پنجاب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی امن، ترقی اور معاشی تعاون پر مبنی ہو گی۔ پاک بھارت وسائل بے روزگاری کے خلاف استعمال ہونے چاہئیں۔

کشمیر میں جو بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری ہے اس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے، سرچ آپریشن کے نام پر کشمیریوں کو چُن چُن کر موت کے گھاٹ اُتارا جا رہا ہے، بدقسمت کشمیری دُنیا کی وہ واحد قوم ہیں،جنہیں ستر سال سے زائد عرصے سے نہ صرف حقِ خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے،بلکہ معمول کے بنیادی انسانی حقوق بھی انہیں حاصل نہیں رہے، تشدد کا جو سلسلہ عشروں سے جاری ہے وہ کسی طرح بھی رکنے میں نہیںآ رہا اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ بھی اِس سلسلے میں کوئی ٹھوس اور مثبت کردار ادا نہیں کر پا رہی، یہاں تک کہ کشمیر میں مظالم کا جائزہ لینے کے لئے کوئی فیکٹ فائنڈنگ مشن تک بھارت نہیں بھیجا جا سکا،کیونکہ اِس سلسلے میں نریندر مودی کی حکومت کسی قسم کے تعاون کے لئے تیار نہیں،مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس تک اکثر و بیشتر بند رہتی ہے،جس کا مقصد بھی یہی ہے کہ دُنیا ان مظالم سے خبردار نہ ہو سکے،جو بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جا رہے ہیں۔

آج تک دُنیا کے جتنے بھی ممالک نے ثالثی یا مصالحت کی جتنی بھی پیشکشیں کی ہیں وہ بھارت نے مسترد کر دی ہیں یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ایسی پیشکش بھی قبول نہیں کی اور موقف یہ اختیار کیا کہ کشمیر تو پاکستان اور بھارت کا دو طرفہ مسئلہ ہے، جس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی گنجائش نہیں،حالانکہ کشمیر میں پہلی جنگ بندی اقوام متحدہ نے ہی کرائی تھی، اگر وہ تیسرا فریق نہیں تھا تو اس کے کہنے پر جنگ بندی کیوں کی گئی، وجہ اس کی یہ تھی اُس وقت قبائلی جنگجوؤں نے بھارتی فورسز کو دباؤ میں لے کر کشمیر میں پے در پے کامیابیاں حاصل کرنا شروع کر رکھی تھیں اور قریب تھا کہ یہ مجاہدین ریاست کے دارالحکومت سری نگر پر قبضہ کر لیتے کہ بھارت کے وزیراعظم پنڈت نہرو خود بھاگم بھاگ اقوام متحدہ پہنچے اور وہاں جا کر کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے اور اس مقصد کے لئے رائے شماری کرانے کا اعلان کیا، تب اقوام متحدہ نے جنگ بندی کی قرارداد منظور کی،لیکن جونہی بھارت مشکل صورتِ حال سے نکلا اُس نے اپنے وعدے پر مٹی ڈالنا شروع کر دی اور آج تک لیت و لعل کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

اب بھارت مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ مسئلہ کہہ کر با اثر عالمی قوتوں اور اقوام متحدہ کو اس سے دور رکھنا چاہتا ہے اور اس کے پردے میں کشمیر میں مظالم کی نئی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں اس پس منظر میں شہباز شریف نے دُنیا کی بڑی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر میں مظالم رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، جن ساٹھ ممالک کے سفیر اس پنجاب کانفرنس میں موجود تھے اُنہیں اپنے ممالک کو اس کی رپورٹ ارسال کرتے ہوئے اِن مظالم کا تذکرہ کرنا چاہئے،جو کشمیریوں پر روا رکھے جا رہے ہیں اور جن کی وجہ سے ایسی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے کہ خطے کا امن خطرے میں ہے، دو ایٹمی قوتوں کے درمیان یہ صورتِ حال فلیش پوائنٹ ہے ،جو کسی بھی وقت امن کو خاکستر کر سکتی ہے، ویسے بھی بھارت کشمیر کی کنٹرول لائن پر ہر وقت اشتعال انگیزی کرتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے سرحد پر بسنے والے کشمیری اور پاکستانی باشندے مسلسل خوف کی فضا میں رہ رہے ہیں اور اُن کی معمول کی زندگی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں،اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے پُرامن زمینداروں کو بھی بعض اوقات جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں اور اکثر و بیشتر اُن کی کھڑی فصلوں کا نقصان بھی ہوتا رہتا ہے، ایسے اشتعال انگیز ماحول میں کنٹرول لائن کی جنگ کے شعلے کسی بھی وقت پھیل سکتے ہیں ،اِس لئے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان معمول کے تعلقات قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ اِس جانب توجہ دے اور عالمی طاقتیں بھی اپنا کردار ادا کریں۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان عشروں کے کشیدہ تعلقات کے باوجود دونوں ممالک نے اب یہ ضرورت محسوس کی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں اور وسائل اسلحے کی دوڑ پر خرچ کرنے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں، دونوں مُلک کبھی ایک تھے عالمی طاقتوں کے مفادات کی وجہ سے تقسیم ہو گئے اور خاندان بھی باہم بٹ کر رہ گئے، شمالی کوریا اسلحے کی دوڑ میں بگٹٹ دوڑنا شروع ہو گیا اور اس نے اپنے تمام وسائل جدید اسلحہ اور ایٹمی ہتھیار بنانے پر لگا دیئے، نتیجہ یہ ہوا کہ شمالی کوریا کے عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہو گئے، اِس کے مقابلے میں جنوبی کوریا ترقی کی دوڑ میں آگے نکل گیا اور اِس وقت وہ کئی شعبوں میں دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے برابر کھڑا ہے، دونوں ممالک کے عوام آہنی دیوار کے باوجود یہ تفاوت دیکھ رہے تھے۔

جب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب آیا اور ملکوں کے درمیان سرحدوں کی دیواریں عملاً بے اثر ہو کر رہ گئی ہیں اُس وقت سے شمالی کوریا کے عوام بھی یہ محسوس کر رہے تھے کہ اُن کی زندگیوں میں محرومیوں کی وجہ اسلحے کی دوڑ ہے غالباً اسی وجہ سے شمالی کوریا کی قیادت نے اچانک اپنی پالیسی تبدیل کر لی اور نہ صرف دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مصافحے معانقے اور رابطے ہو گئے،بلکہ اب جون میں صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے صدر جونگ کی ملاقات بھی ہو رہی ہے، ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا دونوں صدور ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے بارے میں نازیبا الفاظ بھی کہتے اور فقرے کستے تھے، اب وہ اکٹھے بیٹھ کر امن کی باتیں کریں گے اور عالمی امن کی خاطر شمالی کوریا اپنی ایٹمی بھٹیوں کے شعلے بجھانے کے لئے بھی آمادہ ہے۔ یہ اچانک تبدیلی دُنیا کے بدلتے ہوئے حالات کا نتیجہ ہے اِس ماحول میں کشمیر پر زیادہ عرصے کے لئے بھارت اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا، اِس لئے بھارت کو بھی اپنا مائند سیٹ تبدیل کرنا ہو گا اور دُنیا کے ساتھ چلنے کے لئے اپنی روش تبدیل کرنا ہو گی، شہباز شریف نے بہت بروقت سفیروں کی پنجاب کانفرنس طلب کر کے اُن کی توجہ پاکستان کی صورتِ حال اور کشمیریوں کے مصائب کی طرف دلائی ہے،امن کی خاطر اب اسلحے کی نہیں انسانیت کی فلاح کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -