تھرمیں بچوں کی اموات، ذمے دار سندھ حکومت

تھرمیں بچوں کی اموات، ذمے دار سندھ حکومت

  

پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے تھر میں بچوں کی اموات کے بارے میں آغا خان ہسپتال اور خصوصی کمیشن کی رپورٹوں کی روشنی میں سندھ حکومت کو ذمے دار قرار دیا ہے۔ آغا خان ہسپتال کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تھر میں صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے ۔ لوگوں کو بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہیں ہیں۔ سہولتوں کی فراہمی کا یہ عالم ہے کہ ایس او پی کو بھی فالو نہیں کیا جا سکتا ۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ان رپورٹوں کی روشنی میں اصولی طور پر سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے کہ تھر میں سہولتوں کی فراہمی کے لئے کیا کوششیں کی گئی ہیں۔ پچھلے کئی برسوں سے تھر میں غذائی قلت کا مسئلہ در پیش ہے۔ صحت کی سہولتوں کا فقدان چلاآرہا ہے۔ پینے کا پانی انتہائی مضر صحت ہے۔ انسانوں اور مویشیوں کی اموات میں اضافہ ہونے پر بعض حکومتوں اور کئی عالمی رضا کار تنظیموں نے کھانے پینے کی اشیاء ادویات اور صاف پانی مہیا کرنے والے پلانٹس بطور امداد بھجوائے تھے۔پینے کے لئے منرل واٹر کی لاکھوں بوتلیں بھی بھیجی گئیں۔جو تھر میں لوگوں کو پینے کے لئے نہ دی گئیں اور پانی زائد المیعاد ہونے پر زہر آلود ہو گیا ۔ تھر میں صاف پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے جو فلٹر پلانٹس بطور امداد دیئے گئے تھے، ان کی تنصیب کے بعد ضروری اور قیمتی پر زے نکال لئے ۔ دیکھ بھال نہ ہونے سے چار سے چھ ماہ کے بعد ہی وہ پلانٹس ناقابل استعمال ہوگئے تھے۔ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ ادویات، خوراک اور ڈاکٹروں کی سہولتوں کا نہ ہونا بتایا گیا تھا۔ اس کا انتظام بہتر بنانے کے لئے بیان بازی ہی ہوتی رہی ۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی مداخلت پر تجرباتی اور تحقیقاتی رپورٹوں میں صورت حال واضح کر دی گئی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ حکومت اپنی ذمے داری سنجیدگی سے پوری کرے۔ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی طرف سے مقررہ مدت میں اقدامات اٹھانے کی ہدایت جاری ہونی چاہیے اس ہدایت پر عملدرآمد کے لئے جائزہ کمیٹی بنادی جائے تو بہتر ہوگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -