بلوچستان: چنگاری یا آتش فشاں؟

بلوچستان: چنگاری یا آتش فشاں؟
بلوچستان: چنگاری یا آتش فشاں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گزشتہ کافی عرصے سے ایک بار پھر بلوچستان دہشت گردی کی کارروائیوں کا شکار ہے اور یہ دہشت گردی پولیس، فوج، پیرا ملٹری، شیعہ اور عیسائی فرقے کے خلاف بلاتمیز کی جاری ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ اس میں مختلف گروپ ملوث ہیں، جن میں ریاستی، غیر ریاستی، غیر ملکی، بھارتی اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ افراد شامل ہیں۔ یہ کارروائیاں Actions بھی ہیں اور Re-Actionsبھی ہیں۔ان کارروائیوں سے ویسے تو بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں، لیکن سب سے اہم سوال چین کی طرف سے 50بلین ڈالرز سے زائد لاگت سے مکمل کئے جانے والے سی پیک منصوبے اور گوادر پورٹ کے حوالے سے ہے۔

ان کارروائیوں میں سب سے اہم اور سرگرم کردار لشکر جھنگوی کا ہے،ایرانی صوبے،سیستان میں کارروائیاں کرتا ہے، لیکن اس کی پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں،اسی کی وجہ سے ہی ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت ویسی نہیں رہی، جیسی ماضی بعید میں ہوتی تھی۔

تشدد کی ان کارروائیوں کا نشانہ، جیسا کہ آغاز میں کہا گیاہے، ریاستی اداروں کے علاوہ اقلیتیں بھی ہیں، جن کا مقصد یہ تاثر بھی قائم کرنا ہے کہ بلوچستان ایک ’’محفوظ‘‘ جگہ نہیں۔ نہ سی پیک، نہ گوادر اور نہ سرمایہ کاری محفوظ ہوگی۔ بعض کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی جاتی۔

بلوچستان کے ایک سابق آئی جی،جو بعد میں ایف آئی اے کے سربراہ بھی رہے، کا مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ ریاستی ادارے ان تنظیموں کو علیحدگی پسندوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں، لشکر جھنگوی کے ایک لیڈر شفیق مینگل کو بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف استعمال کیا گیا اور وہ کوئٹہ اور گردونواح میں شیعہ ہزارہ قبیلے کے خلاف بھی کارروائیاں کرتا تھا۔ذرائع کے مطابق شفیق مینگل کے ایک عزیز مولانا رمضان مینگل کے ذریعے سعودی عرب سے بھاری مالی امداد اُن کے مدارس کو دی جاتی ہے، جہاں یہ ’’رضا کار‘‘ تیار کئے جاتے ہیں۔

سابق آئی جی، سابق سربراہ ایف آئی اے کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان بھی ایک وجہ ہے۔ وہاں پولیس ہے، وہاں لیویز ہے، جو ہر ضلع کے مقامی قبائل کے افراد پر مشتمل ہے، وہاں ایف سی ہے، لیکن سب کی اپنی اپنی Line of Command ہے، حساس معلومات کے تبادلے کا طریقہ کار متعین نہیں ہے، جس سے Solution کی بجائےProblem جنم لیتی ہیں۔ پولیس تو قانونی ضوابطہ کار کی پابند ہے، لیکن لیویز سے وابستہ کارندے اپنے قبائلی رسوم و رواج اور روایات کے مطابق اپنے ’’مہمانوں‘‘ کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

یہ مسائل اکٹھے ہو کر ان پندرہ ہزار فوجیوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں،جو ان ہزاروں چینی ماہرین اور کاریگروں کی حفاظت پر متعین ہیں، جو سی پیک پر کام کر رہے ہیں۔ اِس افرادی قوت کے علاوہ اہم تنصیبات کی ’’حفاظت بھی ان کی ذمہ داری ہے۔

چینی سفارت خانے کی جانب سے گزشتہ دسمبر میں اپنے شہریوں کو وارننگ جاری کی گئی کہ اپنی حفاظت کے بارے میں محتاط رہیں۔ حفاظتی اقدامات ملحوظ خاطر رکھیں۔

بلاوجہ گھومنے پھرنے سے پرہیز کریں اور پُر ہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کریں، اگرچہ حالات اتنے بُرے بھی نہیں، ہمیں ہر جگہ چینی باشندے نظر آتے ہیں لیکن چینیوں کے قتل کے جو واقعات ہوئے اُن کا مقصد بھی خوف و ہراس پھیلانا تھا۔

اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف خاصی کامیابی حاصل کی ہے، لیکن شاید ہم اس منفی پراپیگنڈے کا موثر جواب نہیں دے پائے، جس سے بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر قائم ہوسکے اور برقرار رکھا جاسکے کہ پاکستان بیرونی سرمایہ کاری کے لئے ایک محفوظ جگہ ہے۔ ایسی فضا پیدا کرنے کے لئے جس سطح اور طرز کی سفارت کاری کی ضرورت ہے، اُس کی طرف ہم نے توجہ نہیں دی۔

طویل عرصے تک تو ہمارا وزیر خارجہ ہی نہیں تھا، دو تین لوگ تھے، جن کے نام کے ساتھ ’’مشیر برائے خارجہ امور‘‘ وغیرہ لکھا جاتا تھا، خدشہ ہے کہ اپنے اپنے ذاتی مفادات میں اُلجھے ہمارے سیاسی رہنما بلوچستان کو بین الاقوامی سازشوں کا مرکز نہ بنا دیں۔

اداروں کے درمیان تصادم کا تاثر بھی ایک وجہ ہے۔ انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے الزام تراشی کا سلسلہ بھی زوروں پر ہے۔ اللہ کرے انتخابات وقت پر اور پُر امن ہوجائیں، انتقال اقتدار کا مرحلہ بھی بخوبی طے پاجائے۔

سیاسی استحکام نظر آئے، پاکستان میں تحفظ کا احساس پیدا ہو جائے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے مطلوبہ اعتماد کی فضا قائم ہوجائے، لیکن یہ سب کچھ ایک مضبوط حکومت ہی کرسکتی ہے، جو جرأت مندانہ فیصلے کرسکتی ہو۔ وہ حکومت کیسی ہو؟۔۔۔ایک آزاد، شفاف اورمنصفانہ انتخابات کے نتیجے میں منتخب نمائندوں پر مشتمل ہو، ایسے نمائندے جوقومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں۔

قوم بھی بے بسی سے بے حسی اور بے حسی سے بھی آگے کی طرف جانے کی بجائے، وہ بدوبن جائیں، جو عمرؓ بن خطاب کی شخصیت سے مرغوب ہوئے بغیر سوال کرے، نمائندوں سے پوچھیں کہ ’’کچھ‘‘ بننے سے پہلے تمہاری کیا حیثیت تھی اور بن جانے کے بعد یہ سب کچھ کدھر سے آیا؟ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔۔۔ کیا ہم اپنی بھلائی کے لئے بھی کچھ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں؟

آزاد و خودمختار عدلیہ ہو جو کسی کی حیثیت سے متاثر ہوئے بغیر انصاف کا حصول یقینی بنائے، ہم سب اپنی اپنی جگہ اور حکمران طبقات، آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے سوال کریں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے پاکستان کے ساتھ کیا کیا؟ کھربوں ڈالر کے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں جکڑی قوم کے حکمرانوں، حکمران طبقات، منتخب نمائندوں، پبلک سرونٹس کا رہن سہن دیکھیں اور ترقی کرنے والی قوموں کے رہن سہن کو دیکھیں، ہمیں شرم آتی ہے، لیکن انہیں شرم نہیں آتی۔

نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر کے ملکوں میں پھیلی ہوئی دولت کے مالک اور حکمرانوں کے بچے فخر سے کہتے ہیں: ’’ہم پاکستانی نہیں ہیں‘‘۔

حکومت پاکستان پر کرتے ہیں، لیکن اپنی اولاد کا مستقبل کہیں باہر محفوظ کیا ہوا ہے۔ سب کھا رہے ہیں، بانٹ کر، نہ شرم نہ حیا۔ جیسے یہ وطن کوئی چوری کا مال ہے۔

اللہ کرے پاکستان میں قانون کی بالادستی ہو، بالادستوں کا قانون نہ ہو۔ ذمہ دار شہری ہوں جو صرف حقوق ہی نہ جانتے ہوں، فرائض سے بھی آگاہ ہوں اور انہیں ذمہ داری سے ادا کریں۔ امریکہ کے صدر نے کہا تھا کہ اگر ہم فرشتے ہوتے تو حکومت کی ضرورت نہیں تھی، چونکہ ہم فرشتے نہیں، اس لئے حکومت فرشتہ صفت ہونی چاہئے۔۔۔اب ذرا یوم مئی کے حوالے سے بھی کچھ تذکرہ۔

ہمارے مزدوروں کی حالت تو نہیں بدلی اور نہ ہی انہیں پسینہ خشک ہونے سے پہلے معاوضہ ملتا ہے، لیکن ہمارے رہنما معاوضہ نقد وصول کرلیتے ہیں۔۔۔ رب العزت انہیں توفیق دے کہ پاکستان کے عام شہری کی طرح نہ سہی، لیکن قریب قریب تو ہو، اس کے بعد ہی انہیں عام شہری کی مشکلات اور ضروریات کا صحیح اندازہ ہوسکتا ہے اور عام آدمی کی حالت بہتر ہوسکتی ہے، ہوسکے گی۔

مزید : رائے /کالم