’’لوٹے کا نیا نام وکٹ‘‘

’’لوٹے کا نیا نام وکٹ‘‘
’’لوٹے کا نیا نام وکٹ‘‘

  

’’طرم خان‘‘ آج کل سنبھالے نہیں سنبھالا جارہا، کل تو ایسی مستی میں تھا کہ ایک ٹانگ پر ناچتے ہوئے پوری گلی کو حیران و پریشان کردیا، ایسے ایسے کمالات دکھائے کہ اللہ بخشے مرحوم مہاراج کتھک زندہ ہوتے تو ماتھا چومتے ہوئے کہتے میاں یہ کام تو ہم بھی نہیں کر سکے جو آپ نے کر دکھایا، حیرت ہے کہ ہم جو کام دو ٹانگوں اور دو ہاتھوں سے نہ کرسکے، تم ایک ٹانگ اور ایک ہاتھ سے دکھا رہے، بس دوسرا ہاتھ استعمال کرنے سے گریز کرنا کیونکہ ذرا سا توازن بگڑا تو تم اپنے فن سمیت نالی میں بھی گر سکتے ہو۔

داد تو خیر ہم نے بھی بہت دی، اور بے ساختہ کہا، طرم خان اب تم ناچنے کے فن میں ’’ولائت‘‘ کے مقام پر ہو، بس پھر کیا تھا،کہنے لگا اب پھر میرا ارادہ ہے کہ میں ’’سوائی تال‘‘ میں ناچوں، ہم نے کہا کم بخت، بس ایک ٹانگ تک رہ موسیقی کے طے شدہ تالوں کو آگے پیچھے نہ کر، بزرگوں نے بہت محنت کے ساتھ ’’سر تال‘‘ ترتیب دیئے ہیں تمہاری نئی کوشش سے موسیقی کے طے شدہ اصول الٹ پلٹ ہوسکتے ہیں اور تم جانتے ہو کہ یہ موسیقی سے وابستہ لوگوں کے لئے بہت پریشان کن بات ہوگی، بس پھر کیا تھا، ہوگیا دونوں ٹانگوں پر کھڑا، اور کہنے لگا،ہر فن میں ’’جدت‘‘کی ضرورت ہے۔

طے شدہ فارمولے بدلنے ہوں گے، نئے نئے فارمولے بنانے ہوں گے،زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے،جو زمانے کے ساتھ چلتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے، درا غور کرو ہماری جماعت ملک میں ایک بڑی تبدیلی لا چکی ہے، ہم نے کہا کیا کہنے لگا، ہم وہ واحد جماعت ہیں جس نے لوٹوں کا کاروبار ختم کیا ہے، اور وکٹ کے کردار کو آگے بڑھایا ہے،پہلے جب کوئی شخص اپنی پارٹی چھوڑ کے دوسری پارٹی میں جاتا تھا لوگ اسے ’’لوٹا‘‘ کہا کرتے تھے، بچارے کا جینا محال ہو جاتا تھا، بعض کے نام کے ساتھ ساری زندگی کے لئے لفظ ’’لوٹا‘‘ کی آوازیں آتی تھیں، مگر ہماری جماعت نے اس ’’بدعت‘‘ کو ختم کیا ہے، اور ’’لوٹے‘‘ کو ’’وکٹ‘‘ کے نام سے وقار دلایا ہے، طرم خان کی یہ بات بلاشبہ سو فیصد درست ہے، تحریک انصاف نے واقعی ملک میں لوٹا ازم کا خاتمہ کردیا ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر مسلم لیگ ن، پی پی پی کے لوگ بغیر کسی سیاسی، اخلاقی جواز کے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کررہے ہیں اور عمران خان بہت فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم نے مسلم لیگ (ن) یا پی پی پی کی ایک اور وکٹ گرا دی ہے، مزید حیرت کی بات ہے کہ جب وہ پریس کانفرنس کرتے ہیں تو ان کے پہلو میں بیٹھے ایم این اے یا ایم پی اے سے کبھی کسی اینکر یا صحافی نے یہ سوال نہیں کیا کہ یہ جو آپ کے پہلو میں تشریف فرما ہیں، یہ ابھی تک اپنی سابقہ پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ایم این اے یا ایم پی اے ہیں تو کیا انہوں نے اپنی پارٹی چھوڑتے وقت ایم این اے یا ایم پی اے کی نشست سے استعفیٰ دیا ہے؟ کوئی نہیں پوچھتا، بس عمران خان مختصر سی تقریر کرتے ہیں اور پھر پارٹی پرچم کا پھندا پہلو میں بیٹھے شخص کے گلے میں ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں، پارٹی ٹکٹ کے حوالے سے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ہم ’’میرٹ‘‘ پر ٹکٹ دیں گے اور یہ ٹکٹ میں خود دونگا، عمران خان جب لفظ ’’میرٹ‘‘ استعمال کرتے ہیں تو در اصل وہ ’’وکٹ‘‘ کے ساتھ کئے گئے ’’سودے‘‘ کی بات کر رہے ہوتے ہیں، وہ اپنے کارکنوں سے بھی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ سن لو ہم نے ٹکٹ کے عوض یہ وکٹ خرید لی ہے، یعنی یہ ایک سرعام سودا بازی ہے، جو ہم روز دیکھ رہے ہیں اور آگے مزید دیکھیں گے، مگر میرے خیال میں عمران خان کو انصاف کے ساتھ کام لینا چاہئے وہ اگر ٹکٹ کے بدلے خرید و فروخت کررہے ہیں تو پھر انہیں چاہئے کہ وہ اپنے ان اکیس ایم پی ایز کے خلاف کی جانے والی کارروائی واپس لیں، کیونکہ معاملہ تو خرید و فروخت کا ہے۔

اگر عمران خان یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ کسی بھی پارٹی کے ایم این اے یا ایم پی اے کو ٹکٹ کے عوض خریدتے ہوئے پارٹی میں شامل کرسکتے ہیں تو پھر ان کے کسی بھی ایم این اے یا ایم پی اے کو بھی یہ حق ملنا چاہئے کہ اگر وہ سینیٹ کے انتخابات میں یا کسی بھی مرحلے پر اپنا ووٹ فروخت کرتا ہے تو پھر کیا خطا کرتا ہے، اگر پارٹی سربراہ سرعام دوسری جماعتوں کے ایم این اے اور ایم پی اے خریدتے ہوئے اپنے مستقبل کو روشن کر سکتا ہے تو پھر پارٹی کے کسی بھی شخص کو یہ حق ہونا چاہئے کہ وہ بھی کسی بھی طرح کی سودا بازی کے ذریعے مال کما سکتا ہے، مگر مجھے معلوم ہے کہ کہ عمران خان ایسے لوگوں کو اجازت نہیں دے گا، ایسے لوگوں کے بارے میں اس کے خیالات مختلف ہیں،وہ سمجھتا ہے کہ جو پارٹی ورکر یا رہنما پارٹی چھوڑتا ہے جو ایم این اے یا ایم پی اے کسی دوسری جماعت کے ساتھ ساز باز کرتا ہے وہ غدار ہے، لوٹا ہے، اور پارٹی میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے، مگر کسی بھی پارٹی کا کوئی بھی ایم این اے یا ایم پی اے جب تحریک انصاف میں شامل ہوتا ہے تو وہ ایک نظریاتی شخص ہوتا ہے، اسے وہ کھلاڑی کا نام دیتا ہے، مگر عمران خان ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکا، کہ یہ کھلاڑی در حقیقت وقت کے غلام ہیں، ان کی ذاتی سوچ، محض اپنے مفادات کے لئے کام کرتی ہے، وہ لوگ جو ابھی کل تک نواز شریف یا زرداری کے پاؤں میں بیٹھنا اعزار سمجھتے تھے، آج عمران خان کے پہلو میں خوش ہیں تو اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے، اس کی اس کے سوا کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ یہ وہ چند لوگ ہیں جو گذشتہ ستر سال سے خاندانی لوٹا پارٹی ہیں، جو ق لیگ سے ن لیگ، ن لیگ سے پی پی پی اور اب تحریک انصاف میں جگہ بنا رہے ہیں مگر یہ سب کے سب ہوائی مخلوق کی طرح ہیں، ان کا اس دھرتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ دھرتی کا بوجھ ہیں، جو کبھی نواز شریف اٹھالیتا ہے کبھی زرداری اور کبھی عمران خان، یہ ایک بد قسمتی کی بات ہے کہ عمران خان جیسا شخص بھی اب اس بوجھ کو کندھوں پر اٹھاکے خوش ہوتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ وہ ایک قوت کے طور پر ابھر رہا ہے، ممکن ہے کہ وہ واقعی ابھر رہا ہو، مگر جس قوت کے بل بوتے پر وہ ابھر رہا ہے اس قوت نے جس دن کوئی نیا محل بنایا یہ سب لوٹے اس کے باتھ روم میں پہلے سے موجود ہوں گے۔

اب اگر عمران خان کا خیال ہے کہ وہ مانگے تانگے کی قوت، یا لوٹوں ’’سوری‘‘ ’’وکٹ‘‘ کے زور پر سیاسی طاقت بڑھا رہے ہیں تو انہیں نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ ایک ٹانگ پر سیاسی رقص کررہے ہیں، وہ طرم خان کی طرح رقص کے جتنے نمونے دکھائیں، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایک ٹانگ اور ایک ہاتھ تک تو جلوہ رقص دکھایا جاسکتا ہے، مگر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کے دونوں ’’ہاتھ‘‘ اٹھانے کی کوشش میں وہ کسی کھائی میں بھی گر سکتے ہیں، لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہ اس وقت رقص میں نئی جدت لانا چاہتے ہیں، وہ ’’سوائی‘‘ کے تال پر ناچنے پر بضد ہیں، جیسا کہ وہ ہر ’’لوٹے‘‘ کو وکٹ اور ٹکٹ کو میرٹ کا نام دے کر سرباز سودا بازی کررہے ہیں، بہرحال لوٹوں کو وکٹ کا نام دینے پر وہ یقینی طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -