آرمی چیف اور کور کمانڈر کے نام!

آرمی چیف اور کور کمانڈر کے نام!
آرمی چیف اور کور کمانڈر کے نام!

  

کوئی دشمن بھی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستانی فوج عالمِ اسلام کی سب سے بڑی فوج ہے جو دلِ شیطان میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے۔

ذاتی طور پر مجھے زندگی میں کبھی اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے پیٹ پرکٹ لگانا پڑی تو لگا لوں گا، لیکن فوجی بجٹ میں مجھے ایک چھدام کی کمی بھی نامنظور ہے۔

کیا کویت کے جرمِ ضعیفی کی سزا کسی کو یاد ہے۔ پاکستان جو ہر طرف سے، مگر مچھوں میں گھِرا ہوا ہو، اُسے موجودہ سے کہیں زیادہ وسائل درکار ہیں، بالخصوص نیوی کو جسے حد سے متجاوز نظرِانداز کیا جاتا رہا ہے۔

آنے والے دور میں دوسری جنگِ عظیم کے برعکس بحرِ روم کی بجائے بحرِ ہند مجھے سٹرٹیجک ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنتی نظر آ رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطالعہ سے یہ نتیجہ بآسانی نکالا جا سکتا ہے۔

اُدھر لوگ پشتین خان کو ایک نئی باہنی کے لئے تیار کر رہے ہیں۔ پاکستان ایک ایسی جگہ پر واقع ہے،جہاں سے اعصابی بندشوں کے تناؤ میں ذرا کمی اِسے پاتال میں جھونک سکتی ہے۔

نرگس کی آنکھ سے بحرِ ہند کو دیکھتے وقت ہماری جنبش مژگاں اور پلکوں کی ذرا سی لرزش پورے مُلک کو لرزا کر رکھ سکتی ہے،جس کا کفارہ ہماری نسلوں کو دینا پڑ سکتا ہے۔

اِدھر وطنِ عزیز کے ارباب حل و عقد زبان و بیان کے میدان میں فصاحت وبلاغت کے وہ وہ موتی لٹا رہے ہیں کہ انٹرمیڈیٹ کی انگریزی میں اے میڈٹی پارٹی(A Mad Tea Party)کا گویا گرد پوش ہٹا دیا گیا ہے۔

نابغہ روزگار افسانہ نگار اور سمندِ شوق کے شہسوار جنرل شفیق الرحمن کا وہ شذرہ بھی یاد کر لیں، جس میں عورتوں کا ایک غول باتیں کر رہا ہے اور بشمول ان عورتوں کے سننے والا کوئی نہیں۔

زبان کا بے محابا استعمال اور کان بند ! نثری ادب سے دلچسپی نہ رکھنے والے جنرل یقیناًمیری ان تمثیلات سے اُکتا چکے ہوں گے کہ اتنی تگ و دو کون کرے۔

مُلک کی جملہ قیادت اس وقت جس نوع کی قائدانہ صلاحیتوں کے بے مثل موتی لٹا رہی ہے اس کے لئے سرور بارہ بنکوی نے مدتوں پہلے سادگی سے اور دِل نشیں انداز میں کہہ دیا تھا:

نہ کسی کو فکرِ منزل نہ کہیں سراغ جادہ

یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارا دہ

عالمِ اسلام کی اس سب سے بڑی فوج پر گزشتہ ہفتے دو اتنے بڑے الزام لگے،الزام کیا لگے،حملے ہوئے۔ فوج پر ایک طرف تحریک انصاف کے سربراہ برس رہے ہیں: ’’2013ء میں آرمی اور جنرل کیانی نے نواز شریف کو اقتدار دلوایا‘‘۔ دوسری طرف مسلم لیگ(ن) کے قائد اس فوج پر یوں حملہ کر رہے ہیں: ’’اکتوبر میں لبیک یارسولؐ اللہ کے کارکنوں کو ہزار ہزار روپے دئیے گئے، احسن اقبال پر اس تنظیم کے کارکن کا قاتلانہ حملہ اِسی شہ پر ہوا ہے‘‘۔

شاید ہی کوئی پاکستانی ہو، جس نے آدھے منٹ کی وہ وڈیو نہ دیکھی ہو، جس میں ایک خاکی پوش دیگر خاکی پوشوں کے ساتھ فسادیوں کے ہجوم میں گھرا ہوا لفافے بانٹ رہا ہے۔

ایک فسادی کے سوال پر بتایا جاتا ہے کہ ان لفافوں میں ہزار ہزار روپے ہیں۔ کسی کے اعتراض پر وہ خاکی پوش سینے پر ہاتھ رکھ کر لہلہوٹ ہوہو کر پوچھتا ہے: ’’کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟ کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟‘‘ یہ خاکی پوش بظاہر پاک آرمی کے لوگ ہیں۔تحریک انصاف کے رہنما صرف تحریک انصاف کی نہیں پاکستان میں پوری مغربی دُنیا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ان کا ووٹ بینک اِتنا کم نہیں ہے کہ اِسے نظرانداز کر دیا جائے۔ دوسری طرف مسلم لیگ کے قائد ترکی، سعودی عرب، چین اورنو آزاد وسط ایشیائی ریاستوں کی آنکھ کا تارا ہیں۔ مسلم لیگ کا ووٹ بینک کتنا ہے ؟ بس کبوتر ہی بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر سکتا ہے۔

اتنے بڑے الزامات کے بعد اِن دونوں حضرات پر براہ راست ہاتھ ڈالنا شاید ممکن نہ ہو۔ یہ دونوں حضرات سیاسی میدان میں جو گل افشانی مرضی کریں اس سے بحث نہیں۔ اس وقت یہ دونوں آرمی اور آرمی چیف پر اِتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں کہ مجھے تو یہ سارا نظام متزلزل اور مرتعش ہوتا نظر آ رہا ہے۔

اِس تناظر میں ایک تیسرے سیاسی رہنما کچھ عرصہ قبل ’’اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔سُن لو! تم تین سال کے لئے آئے ہو، ہم نے ہمیشہ ادھر ہی میدان میں رہنا ہے‘‘کہہ کر اس وقت کے آرمی چیف کو للکار رہے تھے اور پھر یوں جلاوطن ہوئے کہ اس چیف کے دور میں اُن کا مُلک میں آنا ناممکن رہا۔پھر ادھر وہ چیف ریٹائر ہوا، ادھر وہ رہنما باجوں گاجوں اور انہی پاؤں کے ساتھ بدون خارِ مغیلاں پھر سے وارد ہو گئے۔

محترم جنرل صاحبان ! میرے جیسا ایک عام پاکستانی کیا یہ تاثر لینے میں حق بجانب نہیں کہ آرمی یک جان ہونے کی بجائے مختلف النوع میلانات کا مجموعہ ہے۔ان میلانات میں سے کبھی ایک گروپ اُبھر کر سامنے آتا ہے اور اپنے ہم رنگ کبوتر کا سہولت کار بنتا ہے اور کبھی باز با باز! یہ سب کیا ہے؟ مہران بینک کا سڑا ہوا لاشہ یہ بے زبان قوم تین عشروں سے اپنے ٹیکسوں کے ذریعے حنوط کئے جا رہی ہے اور بدبو ہے کہ لوگ سنڈاس میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ملٹی ملین مقدمات کو نہ سننے میں مطلقاًآزاد عدلیہ کا میڈیا پر تصویر اور ملفوظات کا مسئلہ ہے،جو سیاست دانوں کے مقدمات سے وابستہ ہے:

نہ کسی کو فکرِ منزل نہ کہیں سراغ جادہ

یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ

دو جرنیلوں پر کھلے بندوں الزام ثابت ہوا کہ 90ء میں بذریعہ مہران بینک ایک سیاسی جماعت کی راہ میں انہوں نے روڑے اٹکائے۔ اورا ب ایک اور سیاست دان وہی الزام لگا رہا ہے۔

ایک دوسرے صاحب ہزار ہزار روپے بانٹنے کا الزام اس وڈیو کی بنیاد پر لگا رہے ہیں، جس میں ایک صاحب ’’کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟‘‘ کی گردان ماضی استمراری میں کر رہے ہیں۔

کیا اگلے تین عشروں میں ہماری عدالتوں اور آرمی میسوں میں موضوعِ گفتگو یہی کچھ رہے گا؟ اوکے! لیکن وہ چار ملین مقدمات ؟ اور وہ بحرِ ہند میں ہاتھیوں اور بھیڑیوں کا عالم گیر اجتماع ؟ اسے کیا گالف اِسٹک کے اسٹروک سے یا بددعاؤں کے ذریعے۔۔۔؟ اللہ جرمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں، اللہ جرمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں۔

محترم جنرل صاحبان! پاک فوج عظیم روایات کی امین رہی ہے۔ پاکستانی قوم جنرل آصف نواز کے دور کے اس فوجی افسر کا حشر نہیں بھول سکتی، جس نے سندھ میں اپنی ذاتی زمینوں کے جھگڑوں میں فوج کو استعمال کیا اور کچھ لوگ مار دئیے تو وہ فوجی افسر فوج کے عدالتی شکنجے سے نہ بچ سکا۔ فوج کے داخلی عدالتی نظام سے گزرتے گزرتے بالآخر اسے موت کی سزا ہوئی۔تفصیل کی گنجائش نہیں ورنہ آرمی انہی روشن نظیروں کا مجموعہ ہے۔

آج کل معرکۂ نسلِ پنجم(Fifth Generation War) کا بڑا غوغا ہے، لیکن جس آرمی پر کسی سیاست دان کی حمایت یا مخالفت کا الزام ہو ، جیسے مہران بینک سکینڈل، جس آرمی پر کسی سیاست دان کو اقتدار میں لانے کا الزام ہو، جیسے جنرل کیانی پر عمران کا الزام اور جس آرمی پر حکومت کے خلاف برسرپیکار فسادیوں میں لفافے بانٹنے کا الزام ہو، روزِروشن کی طرح میرا ایمان ہے کہ وہ آرمی معرک�ۂ نسلِ پنجم تو کیا معرکہۂ اوّل میں بھی حصہ لینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔محترم جنرل صاحبان! اس عظیم آرمی پر دو قومی لیڈروں کے یہ الزامات اتنی آسانی سے نظرانداز نہیں کئے جا سکتے۔ یہ دو افراد کا مسئلہ نہیں، ان دو افراد کے کروڑوں کے مداح اور جاں نثار موجود ہیں۔ کسی ہنگامی صورتِ حال میں ان مداحوں نے مکتی باہنی کی شکل اختیار کر لی تو؟ مجھے اِن دونوں تینوں سیاست دانوں سے مطلقاً دلچسپی نہیں۔

اِن کی عمر طبعی ختم ہونے کو ہے، لیکن یہ سیاست دان جو فکر عوام کو دے رہے ہیں اس کی باز گشت کے لئے ’’کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘ کی مثال کافی ہے۔ سیاست دانوں کی دی گئی یہ لائن کہیں کسی ریلے کی شکل اختیار نہ کر لے پھر کون سی آرمی اور کون سا معرک�ۂ نسلِ پنجم؟

محترم جنرل صاحبان!ابھی کل کی بات ہے جرنیلوں پر کرپشن کے الزامات لگے تو آرمی چیف نے آرمی کے عدالتی نظام سے گزار کر انہیں پنشن تک سے محروم کر دیا۔ایک فوجی افسر نے عام شہریوں کو مارنے کے جرم میں موت کی سزا پائی۔ اِن روشن مثالوں کی امین اِس عظیم فوج کی اعظم قیادت سے گزارش ہے کہ:

*۔۔۔ آرمی کو بچانے کے لئے فوراً قومی سطح پر ایک کمیشن قائم کر کے دونوں سیاست دانوں کے الزامات کی تفتیش کر کے حقائق سامنے لائے جائیں۔ اگر اِن کے الزامات غلط ثابت ہوں تو قانون کے مطابق انہیں کڑی سزا دی جائے۔

چاہے یہ مغربی دُنیا کے لاڈلے ہوں یا چین، ترکی، سعودی عرب سے اِن کا تعلق ہو اور اگراِن کے الزامات صحیح ثابت ہوں تو فوج اپنے داخلی عدالتی نظام کے ذریعے اِن جنرل حضرات کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔کسی نئے اصغر خان کے انتظار کا وقت اب ہمارے پاس نہیں ہے۔جی وہ بحرِ ہند میں ہاتھیوں اور بھیڑیوں کا عالم گیر اجتماع؟

*۔۔۔ لفافے بانٹنے والی وڈیو کے بارے میں قوم کو صحیح صورت حال سے آگاہ کیا جائے۔ اگر واقعی وہ وڈیو حقیقی ہے تو قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ یہ سب کیا ہے۔ کیا اِن لوگوں کا کورٹ مارشل کسی دوسرے گروپ سے آنے والا چیف کرے گا؟ اوریہ معرک�ۂ نسلِ پنجم کس نے شروع کر رکھا ہے؟

*۔۔۔ آرمی کے اندر مختلف النوع میلانات کے بارے میں پیدا شدہ تاثر کو فوراً زائل کیا جائے۔ یہ کام ایک بھرپور منصوبے ہی کے ذریعے روبہ عمل لایا جا سکتا ہے۔ اس کی منصوبہ بندی آپ حضرات ہی کے ذمے ہے۔

ہر رات کو سوتے وقت مجھے اپنی برفیلی سرحدوں کی جانب سے ایک صدا لوری کی شکل میں سنائی دیتی ہے جسے سُن کر مَیں بے فکری کی نیند سو جاتا ہوں:

سو جاؤ عزیزو کہ فصیلوں پہ ہمہ وقت

ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں

محترم جنرل صاحبان! یہ تینوں مطالبات جنگی بنیادوں پر پورے کریں ورنہ میری نیند میں خلل اندازی کا خدشہ ہے۔ وقت اور حالات نے آپ کے کندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری ڈال رکھی ہے کہ ٹی وی سکرین سے غلاظت اُگلنے والے اِس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

نہ کسی کو فکرِ منزل نہ کہیں سراغ جادہ

اُمید ہے کہ آپ میری اِن معروضات پر ضرور غور کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -