انصاف کے لئے ترسی ہوئی قوم

انصاف کے لئے ترسی ہوئی قوم
انصاف کے لئے ترسی ہوئی قوم

  

وزیرستان سے کراچی اور لاہور سے کوئٹہ تک اگر کسی چیز کے لئے آپ عوام کو ترستا دیکھیں گے تو وہ انصاف ہے اگر اس پر پہلے پردہ پڑا ہوا تھا تو اب چیف جسٹس ثاقب نثار کے دوروں کی وجہ سے وہ پردہ ہٹ گیا ہے۔ گزشتہ دنوں وہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے نکلے تو انصاف کے لئے دہائی دیتے خاندان نے انہیں روک لیا ان کا گاڑی رکوا کر باہر آنا سیکیورٹی رسک تھا مگر انہوں نے فریادیوں کی آہ و زاری سے مغلوب ہو کر یہ رسک لیا، ابھی کل ہی کراچی میں ان کی گاڑی کے سامنے ایک نوجوان لڑکی ام رباب آ گئی۔ اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے ایک طرف کیا گیا وہ بھی ایک وڈیرے کے خلاف انصاف کی دہائی دے رہی تھی، جس نے اس کے باپ، چچا اور دادا کو یکے بعد دیگرے قتل کر دیا اور قانون اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ایک نہتی لڑکی کا اس طرح انصاف کے لئے میدان میں آ جانا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس خاندان کے پاس اور کوئی چارہ ہی نہیں رہا تھا اب یہ کام چیف جسٹس کا تو نہیں ہے، یہ تو پولیس کے کرنے کے کام ہیں، وہ قاتلوں کو پکڑے، قانون کے کٹہرے میں لائے مگر یہ پولیس تو ایک زنگ آلود پرزہ بن کر رہ گئی ہے نہ تو اس میں کوئی جذبہ ہے نہ ہمت، بس نوکری کرنی ہے، چاہے اس کے لئے وڈیرے کے سامنے جھکنا پڑے یا کسی سیاسی آقا کے سامنے، آپ آج اعلان کر دیں کہ چیف جسٹس کھلی کچہری لگائیں گے۔ دیکھیں وہاں ہزاروں لوگ درخواستیں لے کر پہنچتے ہیں یا نہیں؟ یہ کس قسم کا نظام رائج ہے جو عام آدمی کو ریلیف دینے سے بالکل قاصر ہے نہ تو اس کی کہیں شنوائی ہوتی ہے اور نہ سنگین جرائم میں ملوث لوگ قانون کی گرفت میں آتے ہیں قتل سے بڑا کون سا جرم ہو سکتا ہے، اس جرم میں ملوث ملزمان دندناتے پھرتے ہیں، مقتولین کے ورثاء کو دھمکیاں دیتے ہیں، مقدمات کی پیروی سے روکتے ہیں، کوئی مدد کو نہیں آتا۔ اخبارات میں ہر روز ایسی خبریں پڑھ کر سر گھوم جاتا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری کے لئے بوڑھی مائیں دہائی دے رہی ہیں۔ انصاف نہ ملنے پر خود سوزی کی دھمکی دیتی ہیں کئی تو عمل بھی کر گزرتی ہیں۔

میں اس بات کو کسی صورت میں بھی تسلیم نہیں کر سکتا کہ اکیلے چیف جسٹس پوری قوم کو انصاف دے سکتے ہیں۔ یہ بات وہ خود بھی کہہ چکے ہیں اس کے لئے تو نظام انصاف کو بیدار کرنا پڑے گا جو برسوں سے نشہ پی کر سویا ہوا ہے۔ دیوانی مقدمات کو چھوڑیں، وہ تو اتنی پیچیدگیوں سے گزرتے ہیں کہ سرا تک گم ہو جاتا ہے میں تو فوجداری مقدمات کی بات کر رہا ہوں یہ وہ مقدمات ہیں جو کسی نہ کسی وقوعے کے بعد درج ہوتے ہیں کبھی قتل، کبھی ڈکیتی، کبھی قبضے، کبھی ظلم اور کبھی دھوکہ دہی کے واقعات ان کی بنیاد بنتے ہیں۔

ان کے لئے باقاعدہ ایک فوجداری سسٹم موجود ہے پولیس ایف آئی اے اور نیب ان کے لئے ہی بنائے گئے ہیں مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ سب محکمے نا معلوم وجوہات کے باعث بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی نہیں بنا پاتے۔

مظلوموں کو انصاف دینے کے لئے قدم قدم پر رشوت دینا پڑتی ہے جس کا کوئی پیارا قتل ہو جائے وہ یا تو اپنا مقدمہ اللہ کے حوالے کر دے یا پھر اپنی رہی سہی جائیداد اور جمع پونجی بھی خرچ کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔

اس نظام پر سے لوگوں کا اعتبار کس قدر اٹھ چکا ہے اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا تھا جب ممتاز عالم دین مولانا عبدالمجید ندیم کے جواں سال بیٹے طاہر ندیم کو ملتان کینٹ میں گھر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔ مولانا نے مقدمہ درج کرانے سے انکار کر دیا۔

میں نے ذاتی طور پر انہیں بہت قائل کرنے کی کوشش کی کہ قاتلوں کی گرفتاری کے لئے مقدمہ درج کرانا ضروری ہے، مگر انہوں نے کہا پولیس کا نظام مجھے کیا انصاف دے گا۔

کیا تھانہ جلیل آباد کے ایس ایچ او میں اتنی ہمت ہے کہ وہ با اثر لوگوں پر ہاتھ ڈال سکے میں صبح شام تھانے کے چکر ہی لگاتا رہوں گا انصاف پھر بھی نہیں ملے گا۔ اس لئے میں اپنا مقدمہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ وہ سب سے طاقتور ہے وہی مجھے انصاف دے گا۔

انہوں نے افشار کالونی میں واقع اپنا گھر فروخت کیا اور راولپنڈی منتقل ہو گئے۔ یہ واقعہ مجھے برسوں بعد بھی اس لئے نہیں بھولتا کہ مولانا جیسی شخصیت جو طاقت بھی رکھتی تھی اور وسائل بھی اگر پاکستان میں انصاف کے نظام سے اس قدر مایوس تھی تو عام آدمی کی صورتِ حال کیا ہو گی۔

پاکستان میں بندہ مارنا اس لئے ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے کہ پولیس ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ اس کا کام ہے کہ قتل کی واردات کے بعد شواہد اکٹھے کرے، مقدمہ کا چالان بنائے اور اسے بروقت عدالت میں پیش کرے۔

لیکن میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ پولیس شواہد اکٹھے کرنے سے لے کر فرانزک رپورٹس تک قدم قدم پر قتل ہونے والے کے ورثاء سے خرچہ لیتی ہے ملزم پکڑا جائے تو اس سے مناسب تفتیش کے لئے بھی تفتیشی کو راضی رکھنا پڑتا ہے اور اگر پکڑا نہیں گیا تو پھر چھاپوں کا خرچ بھی مقتول کے ورثاء کو برداشت کرنا پڑتا ہے قتل کے مقدمے میں شک کا ذرا سا فائدہ بھی ملزم کو حاصل ہو جائے تو عدالتیں اسے رہا کر دیتی ہیں اور ایسا کرنا پولیس کے بائیں ہاتھ کا کام ہے پاکستان شائد دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اپنے شہری کے قتل کا مقدمہ ریاست نہیں لڑتی بلکہ ورثاء کو لڑنا پڑتا ہے پولیس کی پراسیکیوشن برانچ ایک ایسا کھوہ کھاتہ ہے جس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے کس قدر ظلم کی بات ہے کہ اس برانچ کے ہوتے ہوئے بھی مقتول کے ورثاء کو لاکھوں روپے خرچ کر کے اپنا وکیل رکھنا پڑتا ہے، جو مقدمہ لڑتا ہے یہ وکیل نہ ہو تو پولیس ایسی من مرضی کرتی ہے کہ قاتل کو چھوٹنے میں ذرا دیر نہیں لگتی ایک چیف جسٹس کس کس کو انصاف دے سکتا ہے۔ فوجداری مقدمات کا ایک ضابطہ کار ہے کوئی عدالت خود تفتیش نہیں کر سکتی، یہ پولیس یا ایف آئی اے ہی کر سکتی ہے۔

یہ بات پولیس والوں کو اچھی طرح معلوم ہے اس لئے عدالتوں کے از خود نوٹس بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ آپ راؤ انوار کی مثال دیکھیں وہ اپنی ضمانت کے لئے درخواست دائر کرنے کی تیاری کر رہا ہے اس کے چالان میں ایسے کئی جھول رکھ دیئے گئے ہیں کہ عدالت اسے رہا کر سکتی ہے اسے ایک دن کے لئے بھی ہتھکڑی نہیں لگائی گئی، وہ شاہانہ انداز سے عدالت میں پیش ہوتا ہے اس کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔

آپ سوچیں کتنے دھرنے ہوئے کتنے جلوس نکلے کتنی ہڑتالیں ہوئیں، سب بیکار گئے۔ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس بھی صرف اسے گرفتار کرا سکے مگر پولیس نے اپنے کرتب دکھائے، جے آئی ٹی کے تماشے کئے مگر آخر میں نتیجہ یہ نکلا کہ ایک کمزور اور ڈھیلا کیس بنا کر عدالت میں بھجوا دیا گیا۔ جو ایک دو پیشیوں میں ہی ختم ہو جائے گا کیونکہ پولیس چاہتی ہی نہیں کہ راؤ انوار کے خلاف کوئی مضبوط کارروائی ہو۔

جب کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے عدالت اسے ریلیف دے گی تو کہا جائے گا دیکھا پاکستان کا عدالتی نظام 440 قتل کرنے والے کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ پاکستان کو کمزور اور طاقتور کے خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے غریب کو یہاں انصاف نہیں ملتا یہ بات طے ہے۔ بس دو چار دن شور شرابہ ہوگا، سڑکوں پر ٹائر جلائے جائیں گے، روتی ہوئی مائیں اور بہنیں ٹی وی چینلوں پر دہائی دیتی دکھائی دیں گی لیکن معاملہ پھر وہیں پولیس اسٹیشن کی مثلوں اور ضمنیوں میں آ کر پھنس جائے گا۔

کراچی میں گزشتہ دنوں نوجوانوں کے جو پے در پے قتل ہوئے تھے، جن کا بہت شور اٹھا تھا۔ چیف جسٹس نے ان کا نوٹس بھی لیا تھا۔ پولیس کی سرزنش بھی کی تھی، آئی جی تک کو طلب کر کے انصاف کو یقینی بنانے کا حکم جاری کیا تھا۔

کوئی بتا سکتا ہے ان کیسوں کا کیا ہوا؟ مجھے یقین ہے آج بھی نوجوانوں کے ورثاء تھانوں اور جے آئی ٹی افسران کے دفتروں کا طواف کر رہے ہوں گے انہیں ایک ایسے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہوگا جس کی کوئی منزل ہی نہیں۔

تو صاحبو پاکستان میں عدالتوں سے انصاف لینا تو مشکل ہے ہی لیکن بالا دست طبقوں نے پولیس کے نظام کو جس طرح اپنی ڈھال بنا رکھا ہے، اس میں تو انصاف بھوسے میں گری ہوئی اس سوئی کی مانند ہے جسے تلاش کرنا بھی مقدمے کے مدعی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

کاش پولیس والے ایک بات کا تہیہ کر لیں کہ قتل کے کسی ملزم کو نہیں چھوڑیں گے، اس کا ساتھ نہیں دیں گے، ورثاء سے انصاف کے نام پر لوٹ مار نہیں کریں گے، کم از کم سڑکوں پر بیٹیوں اور ماؤں کو اس طرح دہائی دینے کے لئے بے یارو مدد گار نہیں چھوڑیں گے، جیسے کل کراچی میں ام رباب دہائی دیتی نظر آئی، ایسا ہو جائے تو انسانی خون کی وہ ارزانی ختم ہو جائے گی جو ہمارے معاشرے کو درندہ صفت قاتلوں کی آماجگاہ بنا رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -