پنجاب لینڈریکارڈ اتھارٹی ہیڈ کوارٹر کی تزئین و آرائش میں اووبلنگ کے الزامات

پنجاب لینڈریکارڈ اتھارٹی ہیڈ کوارٹر کی تزئین و آرائش میں اووبلنگ کے الزامات

  

لاہور(اپنے نمائندے سے )پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ہیڈکوارٹر کی تزئین وآرائش پر12کروڑ روپے خرچ کیے جانے کی اطلاعات، فنڈز میں غبن کاخدشہ، سی ایف او کا اخراجات کی آگاہی سے انکار، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین نیب سے نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ روزنامہ پاکستان کو ملنے والی مبینہ معلومات کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں جہاں ورلڈ بینک سے ملنے والے فنڈز اور ڈالر میں کروڑوں روپے کے غبن کی اطلاعات موصول ہوچکی ہیں وہاں پی ایل آر اے کے شعبہ میں سی ایف او کی باہمی رضامندی اور ملی بھگت کے باعث بھی فنڈ میں کروڑوں روپے کے گھپلے کیے جانے کی شکایات منظر عام پر آرہی ہیں۔ ذرائع نے مزید آگاہی دی ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے سی ایف او کامران حفیظ جوکہ ایک دوستی اور من پسند کی بنیاد پر اتھارٹی میں آئے تھے نے اپنے دستخطوں سے کیے ایسے خفیہ فنڈ بھی ریلیز کیے ہیں جوکہ سپیشل آڈٹ کرنے کے بعد منظر عام پر آسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید معلومات ملی ہیں کے ہیڈکوارٹر عمارت جہاں پر قبل ازیں پٹواریوں کو بٹھایا جاتا تھا حکومت پنجاب کی جانب سے یہ عمارت تیار کی گئی تھی اور مکمل طور پر نیو عمارت تعمیر تھی جس کو بعدازاں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا ہیڈکوارٹر بنادیا گیا اورتزئین وآرائش کی مد میں12کروڑ روپے عمارت میں لگائے جانے کی اطلاعات نے فنڈز میں خرد برد اور غبن کیے جانے کا خدشہ بھی لاحق ہوچکا ہے ایک بنی بنائی نئی عمارت پر کروڑوں روپے کی لاگت سے تیاری ناصرف فنڈز کا بے جا استعمال اختیارات کا ناجائز استعمال ا ور تعمیراتی تزئین وآرائش میں استعمال ہونے والے اخراجات کی اووربلنگ بنانے کے حوالے سے ایک شور مچ چکا ہے اطلاعات ہے کہ بلڈنگ کی تزئین وآرائش میں استعمال ہونے والے ہرچیز کے ریٹ بھی ڈبل لگائے گئے ہیں اور ذاتی مفادات پورے کیے گئے ہیں جن کے حوالے سے سپیشل آڈٹ اور نیب کی جانب سے اس کا ازخود نوٹس لیا جانا بہت ضروری ہے سائلین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اس کا فوری نوٹس لیں کہ اتنا پیسہ کیسے تزئین وآرائش پر لگایا گیا ہے سی ایف او کامران حفیظ کو اس حوالے سے بار بار کال کی گئی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ایس ایم ایس بھی کیے گئے مگر کوئی جواب نہ دیا گیا دوسری جانب ترجمان پی ایل آر اے کا کہنا ہے کہ بلڈنگ کی تزئین وآرائش پر جو اخراجات ہوئے ہیں اس کی معلومات نہ ہے پر متعلقہ شعبہ سے آگاہی لے کر دیدی جائے گی اور میڈیا سے ضرور شیئر کی جائیگی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -