امریکی سفارتکار کی مقبوضہ بیت المقدس منتقل آج ہو گی

امریکی سفارتکار کی مقبوضہ بیت المقدس منتقل آج ہو گی

  

واشنگٹن228القدس (صباح نیوز) امریکی سفارتخانے کی آج القدس منتقلی ہوگی، سفارتخا نہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر تل ابیب سے منتقل ہو گا ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی افتتاحی تقریب میں ویڈیو خطاب کریں گے امریکی سفیر کے مطابق تقریب میں تقریباً800 امریکی اور اسرائیلی شخصیات شرکت کریں گی اس موقع پر ٹرمپ ویڈیو کال کے ذریعے خطاب کریں گے،مقبوضہ بیت المقدس میں کھلنے والے نئے امریکی سفارت خانے میں ابتدائی طور پرکم ازکم50 اہل کاروں کا عملہ تعینات ہوگا۔ یہ بات ٹرمپ انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں نے بتائی جنہوں نے انتظام کا جائزہ لیا۔ قوی امکان ہے کہ سفارتخانے کا افتتاح آجہوگا۔ سفارت خانہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے احکام پر تل ابیب سے منتقل ہوگا۔میڈیارپورٹس کے مطابق افتتاحی تقریب میں800 مہمان شریک ہوں گے۔ حکام نے کہا کہ دورے کے دوران، امریکی وفد کسی فلسطینی اہل کار سے ملاقات نہیں کرے گا۔ سفارت خانے کے ابتدائی عملے میں سفیر ڈیوڈ فرائڈمین کے مشیر اور قونصل خانے کے اہل کار شامل ہیں جو پہلے ہی اسی مقام پر کام کر رہے ہیں۔سفارت خانے کا آغاز امریکہ کی موجودہ ویزا اور پاسپورٹ کے اجرا کی تنصیب کے عملے سے ہوگا ، جو اسرائیل میں موجود امریکی اہل کاروں میں سے مختصر ارکان پر مشتمل ہے۔ اہلکاروں کی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں تھی، جنھوں نے اخباری نمائندوں کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بریف کیا۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ عرب لیگ کیلئے سعودی عرب کے نئے سفیر اسامہ نقلی اسرائیلی سفارتخانے کی تقریب میں شریک ہونگے۔عرب لیگ میں متعین سعودی عرب کے نئے سفیر اسامہ نقلی نے اپنی شرکت کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیرملکی میڈیا کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہ کی حقیقت معلوم کرکے ہی آگے بڑھانا چاہیے تھا۔غیرملکی میڈیا نے بتایاکہ عرب لیگ کیلئے سعودی عرب کے نئے سفیر اسامہ نقلی اسرائیلی سفارتخانے کی تقریب میں شریک ہونگے۔ یہ تقریب اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ پر منعقد کی جارہی ہے۔تاہم نقلی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ یہ اطلاع مکمل طور پر من گھڑت ہے۔ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یورپی چینل کو یہ افواہ اپنے خبر نامے کا حصہ بنانا افسوسناک ہے۔دریں اثنا اسرائیلی قبضے کے70سال پورے ہونے پر فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، گزشتہ روز بھی صہیونی فوج کی مظاہرین پر سیدھی فائرنگ سے 2فلسطینی شہیداورشیلنگ اور تشدد سے 460زخمی ہوگئے۔ فلسطینی عوام نے15مئی کو وسیع پیمانے پر سرحدی باڑ کے ساتھ احتجاج کا اعلان کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی قبضے اور مقامی افراد کو بے دخل کرنے کے 70 سال پورے ہونے کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور 15 مئی کو وسیع پیمانے پرسرحدی باڑ کیساتھ احتجاج کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔اسرائیل کی مداخلت سے یورپی یونین القدس کی حمایت اور امریکی اقدام کے خلاف مذمتی بیان جاری کرنے میں ناکام رہی۔ یورپی یونین کی جانب سے امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کی مذمت میں ایک بیان جاری کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر اسرائیل کی مداخلت سے یورپی یونین امریکی اقدام کے خلاف مذمت بیان جاری کرنے میں ناکام رہی ہے۔اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 10 کی ویب سائیٹ پر پوسٹ کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کے ایما پر آسٹریا، جمہوریہ چیک اور رومانیہ نے مداخلت کرتے ہوئے تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کی مذمت کا بیان جاری نہیں کیا جاسکا۔ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ فلسطینی اور القدس کے معاملے میں ترکی خاموش نہیں رہے گا۔ استنبول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ چاوش اولو نے امریکہ کے اسرائیل میں سفارتخانے کو القدس منتقل کیے جانے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ غلط ہے،جس کیخلاف ہمیں مشترکہ موقف کا مظاہرہ کرنا ہوگا،ہم اس حوالے سے خاموش نہیں رہیں گے،حالیہ ایام میں مسلم امہ اور بالخصوص عرب لیگ میں اس معاملے میں بعض تردد کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔

امریکی سفارتخانہ

مزید :

علاقائی -