تحریک حق واپسی کے شہدا ء کی تعداد 54 ہوگئی،9420 فلسطینی زخمی

تحریک حق واپسی کے شہدا ء کی تعداد 54 ہوگئی،9420 فلسطینی زخمی

  

غزہ (صباح نیوز)غزہ کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے لیے احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 53 ہوگئی جبکہ 9420 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔ شہدا میں سے چھ کے جسد خاکی اسرائیلی فوج نے اپنی تحویل میں لے رکھے ہیں۔ شہدا میں 5 بچے اور دو صحافی شامل ہیں جب کہ زخمیوں میں900 بچے، 400 خواتین، طبی عملے کے 200 کارکن اور 110 صحافی شامل ہیں۔فلسطینی وزارت صحت کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے مشرقی غزہ میں نہتے مظاہرین کے خلاف زہریلی آنسو گیس کی شیلنگ سے 54 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ 9420 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ پانچ فلسطینیوں کو غزہ اور 1948 کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے درمیان قائم سرحد پر گولیاں مار کر شہید کیا گیا اور ان کے جسد خاکی قبضے میں لے لیے گئے ۔رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والے 4589 فلسطینیوں کو ہسپتالوں میں علاج کے بعد فارغ کردیا گیا جبکہ 3947 زخمیوں کو احتجاجی کیمپوں میں قائم ہنگامی طبی مراکز میں لے جایا گیا۔ شہدا میں 5 بچے شامل ہیں اور900 بچے زخمی ہوئے جب کی زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 225 ہے۔ 170 زخمیوں کی حالت اب بھی بدستور تشویشناک ہے۔شہدا القدس فانڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے بعد اب تک اسرائیلی فوج کی انتقامی کارروائیوں میں ایک سو سے ز ائد فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں کے مطابق صہیونی فوج کے نشانہ بازوں نے فلسطینی صحافیوں پر براہ راست فائرنگ کی۔ فائرنگ کی زد میں آ کر دسیوں فلسطینی مظاہرین بھی زخمی ہوگئے۔خیال رہے کہ فلسطین میں 30 مارچ کو شروع ہونے والی حق واپسی تحریک چھ ہفتوں تک جاری رہے۔

مزید :

علاقائی -