دہشتگردی ، کرپشن توانائی بحران کا خاتمہ ، 5نئے ڈیموں کی تعمیر ، تمام اداروں کا احتساب

دہشتگردی ، کرپشن توانائی بحران کا خاتمہ ، 5نئے ڈیموں کی تعمیر ، تمام اداروں ...

  

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمارا بجٹ آئی ایم ایف کا پاکستان ڈیسک منظور کرتا ہے۔لاہور میں مینار پاکستان سے متصل گریٹر اقبال پارک میں ایم ایم اے کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت پر آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے اور ہم آئی ایم ایف کے بنائے ہوئے بجٹ کو اسمبلیوں میں پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی نظام لا کر ہی دم لیں گے ،مغربی تہذیب کی یلغار نے ہم سے ہماری آ ز ا دی چھین لی ہے جس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دی ہیں، انگریز کی غلامی سے نجات ہی صرف آزادی نہیں بلکہ عالمی اداروں کے ذریعے ہماری آزادی کو سلب کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازشیں، امریکہ اور مغربی دنیا کر رہے ہیں جو انسان حقوق کا نام بھی لیتے ہیں اور خود ہی اس کی پامالی کرتے ہیں،مخلوط نظام تعلیم اسلامی معاشرے کے لیے ناقابل قبول تصور ہے، ہم خواتین کے لیے الگ تعلیمی ادارے اور کھیل کے میدان بنائیں گے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ جو کہتے ہیں کہ سود کے بغیر معیشت نہیں چلتی، شراب کے بغیر ہماری محفلیں آباد نہیں ہوتیں، اسلامی قوانین دقیانوسی ہیں، فحاشی و عریانی کے بغیر ہمارا گزارا نہیں، اس طرح کی سوچ والوں کو آج کل روشن خیال کہا جاتا ہے ہماری جنگ اس لادین روشن خیالی کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سکون و اطمینان کے لیے ہمیں معاشی خوشحالی لانی ہوگی، لیکن آئی ایم ایف کے قوانین اور سودی نظام کی وجہ سے معاشی خوشحالی کا خون ہوجاتا ہے۔امیر جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے مرکزی نائب صدر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جس سیاست کامقصدبینک اکاونٹ میں اضافہ ہومیں اس پرلعنت بھیجتاہوں،یہ ظالم یہاں کماکر باہر پیسا بھیجتے ہیں,دبئی میں کرپٹ اشرافیہنے اربوں کی پراپرٹی خریدی،کرپٹ حکمران یہاں سے سرمایہ لوٹ کرباہربھیجتے ہیں، پاکستانی بیرون ملک سے20ارب ڈالرملک بھیجتے ہیں,جو بھی ظلم کریگا ہم اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے،مجلس عمل کے قافلے میں کوئی پانامہ زدہ، قرض مافیا ، لینڈ مافیا اور شوگر مافیا کا نمائندہ نہیں ہے ،جو اس قافلے سے ٹکرائے گا اس کی سیاست پاش پاش ہوجائے گی،ہم بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے قیام کے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، اگر پاکستان میں اسلامی حکومت ہوتی تو گیدڑوں کی طرح ڈر کر خاموش نہ رہتی،اِنھوں نے کشمیری بچی آصفہ بی بی کی عصمت دری اور قتل پر بھی آواز نہ اٹھائی۔مینار پاکستان میں متحدہ مجلس عمل کے بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان کے نئے پاکستان کی بجائے اسلامی پاکستان بنانے کا پیغام دے رہے ہیں، ستر سال سے قوم اسلامی نظام کے نفاذ کی منتظر ہے،میری لڑائی کسی فرداور خاندان کے خلاف نہیں ظلم کے خلاف ہے،میرا منشور صرف دو نکاتی ہے ، ایک لا الہ الا اللہ اور دوسرا محمد الرسول اللہ ،یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا نفاذ،کیونکہ اللہ کی طرح اللہ کا نظام بھی لاشریک ہے،دینی جماعتوں کے اکٹھا ہونے سے امریکہ کے ایجنٹ اور ان کے یار پریشان جبکہ عام عوام خوش ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی مارشل لاء ہمارے مسائل کا حل نہیں اور نہ ہی جاگیرداروں اور ظالم سرمایہ داروں کی حکومت عوام کے مسائل حل کرسکتی ہے، جب تک زندگی باقی ہے، خون کے آخری قطرے تک پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے لڑیں گے اور مریں گے.انہوں نے کہا کہ میری لڑائی، بھوک، دہشت گردی، بیماری اور ہر ظلم کے خلاف ہے، ظلم ظلم ہے چاہے کوئی جاگیردار، سیاستدان یا جرنیل کرے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میں معاشیات کا طالب علم ہوں اور وزیر خزانہ رہ چکا ہوں، ہم تمام ان ڈائریکٹ ٹیکسز ختم کریں گے، صرف ڈائریکٹ ٹیکسز کا نظام دیں گے، غریب اور سرمایہ دار لوگوں پر ایک جیسا ٹیکس ظلم ہے۔انہوں نے کہا کہ مخالفین ہمیں ایک ہونے کا طعنے دیتے ہیں، اگر 1971 میں متحدہ مجلس عمل جیسا اتحاد ہوتا تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا اور نہ بانوے ہزار فوج قید ہوتی۔سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے سوال کرتا ہوں کہ امریکی جہاز اگر کرنل جوزف کو لینے پاکستان کی سرزمین پر آسکتا ہے تو پاکستان کا جہاز ڈاکٹر عافیہ کو لینے امریکی سرزمین پر کیوں نہیں جاسکتا ؟۔انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان آباد کریں گے، انھیں فنی تعلیم اور کاروبار کے لیے بلاسود قرض دیں گے،ہم بیروزگاری ختم کریں گے ورنہ بے روزگاری الاؤنس دیں گے، یکساں نظام تعلیم، خواتین کو حقوق دیں گے، الیکشن کمیشن کو امیدواران سے خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے کا سرٹیفکیٹ مانگنا چاہیے۔امیرجماعت اسلامی و صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب میاں مقصود احمد نے اپنے خطاب میں لاہور کے تاجروں ، وکلا ، طلبہ ، مزدوروں اور کسانوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کا جلسہ میں بڑی تعداد میں شر کت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہاکہ پنجاب کے عوام اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ بنیں گے ۔ سیکرٹری جنرل بلال قدرت بٹ اور دیگر رہنماؤں نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ۔نائب صدر ایم ایم اے پیر اعجاز ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ایک بھگوڑا مکا لہرا کر کہتا تھاکہ دینی جماعتوں کی حیثیت ہی کیاہے وہ آج ملک سے بھاگ گیا ہے اور اس کے لیے ملک میں آنا خواب بن چکاہے ۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت آ کر سودی نظام ختم کردے گی ۔ سود کی لعنت ختم ہوجائے تو ملک سے امریکی اور یہودی لابی کا تسلط بھی ختم ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم وہی پاکستان چاہتے ہیں جو قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہے ۔ نائب صدر ایم ایم اے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ پاکستان آج نازک صورتحال سے دوچار ہے ۔ استعماری قوتیں پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں ۔ ایم ایم اے فلسطین اور کشمیر کی آزادی چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ نے ایران کے خلاف جو رویہ اپنا رکھاہے اس کی ہم مذمت کرتے اور نفی کرتے ہیں ۔ ملک میں قانون کے نفاذ میں بہت سی کمزوریاں ہیں ہم آئین و قانون کی بالادستی قائم کریں گے ۔ طبقاتی نظام تعلیم ، استحصالی معیشت ، علاج معالجے کی بہترین سہولتیں مہیا کرنا ایم ایم اے کا منشور ہے ۔ غیر منصفانہ اور سودی نظام پاکستانی معیشت کو تباہ کر رہاہے اس کا خاتمہ اور وسائل کی یکساں تقسیم کو یقینی بنانا ضرور ی ہے ۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفورحیدری نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان کے حصول کے لیے لاکھوں قربانیاں دینا پڑیں ۔ آج اس پاکستان کی حالت یہ ہے کہ پاکستان کے دو کروڑ بچے سکول نہیں جاتے دوسری طرف پاکستان کے پچاس لاکھ بچے دینی مدارس میں پڑھتے ہیں اور کچھ جاہل دینی مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں کہتے ہیں۔ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے قومی دولت کو لوٹا ، قومی معیشت کو تباہ و برباد کیا اور قرضوں کی دلدل میں پھنسادیا ۔ انہوں نے اجتماع کو ایک ریفرنڈم قرار دیتے ہوئے لاہور کے شہریوں کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ آج اس اجتماع نے فیصلہ دیدیاہے کہ آنے والی حکومت ایم ایم اے کی ہوگی اور ہم سیکولر ازم اور لبرل ازم کو ملک میں چلنے نہیں دیں گے ہم بیرونی ایجنڈا رکھنے والی قوتوں کا راستہ روک کررہیں گے ۔ ہم تعلیم کو عام کریں گے علاج کی سہولتیں مفت ہو ں گی ۔ انہوں نے کہاکہ ان ظالموں نے پاکستان کو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دیا ہم ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے ۔ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ایم یم اے کے منشور میں پہلی ترجیح ہے ۔ صاحبزادہ شاہ محمد انس نورانی نے کہاکہ پاکستان کو اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا متحدہ مجلس عمل کی جدوجہد کا پہلا نقطہ ہے اسلامی قیادت کی اس وقت سیکولر قوتوں سے جنگ ہے قوم متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دے ۔ آج سے اٹھتر سال قبل قیام پاکستان کی قرار داد یہاں منظور ہوئی اور ہمارے آباؤ اجداد نے لاالہ الا اللہ کے نعرے پر پاکستان حاصل کیا آج پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے اور ہم اسی پاکستان کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ 2018 ء کے الیکشن میں دینی قوتیں شاندار فتح حاصل کریں گی اور یہ صدی اسلام کی صدی ہوگی ۔رانا شفیق احمد پسروری نے کہاکہ مینار پاکستان سرزمین پاکستان کا سب سے مقدس مقام ہے ۔ امریکہ ، اسرائیل ،یہودی ونصاریٰ اور ان کے گماشتوں کے مقابلے میں جس طرح آپ سینہ تان کر کھڑے ہیں ، مینار پاکستان بھی شہادت کی انگلی کی طرح کھڑا ہے اور زبان حال سے پیغام دے رہاہے کہ یہاں صرف اسلام کی حکومت چلے گی ۔ آج پاکستانی سیاست کے اندر ایک گندہ کھیل کھیلا جارہاہے اور جلسوں میں قوم کی بیٹیوں کو نچایا جارہاہے ۔ آج ایک شخص پاکستانی اداروں کے خلاف بھارت کی زبان بول رہاہے ۔اسلامی تحریک کے مرکزی رہنما علامہ عارف واحدی نے کہاکہ آج پاکستان میں سیکولر قوتیں پاکستان کے اسلامی تشخص کو مٹادینا چاہتی ہیں ۔ ملک میں سودی نظام ہے جس کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا مقروض ہے ہم پاکستان کو ان سیکولر اور مغرب کی آلہ کار قوتوں سے آزاد کرائیں گے ۔ پاکستان میں نظام مصطفےٰؐ اور نظام قرآن آئے گا تو نہ صرف پاکستان بلکہ امت کے مسائل حل ہوں گے ۔ کشمیر اور فلسطین آزاد ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کی قیادت کو مبارکباد دیتاہوں کہ انہوں نے پاکستان کو نظام مصطفیؐ کا پاکستان بنانے کا آغاز کردیا۔ پاکستان کے پاس اللہ کے عطا کردہ تمام وسائل اور اور اکیس کروڑ غیرت مند عوام ہیں ۔ اگر آج پاکستان تعلیم ، صحت اور روزگار سے محروم ہے ، بدامنی ، دہشتگردی ، لوڈشیڈنگ ہے اور پاکستان امریکہ کا غلام ہے اور صہیونی اداروں کا مقروض ہے تو اس کا مجرم وہ طبقہ ہے جس نے پاکستان کو لوٹ کر دولت باہر منتقل کی ۔ شکیل آ فریدی کو حکومت رہا کرناچاہتی ہے جو شکیل آفریدی اور کرنل جوزف کو رہا کرے گا ، عوام اس کو گریبان سے پکڑیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل اس ملک کو اسلامی و خوشحال پاکستان بنائے گی ۔ آج غلامان مصطفیؐ کا دورشروع ہوچکاہے اور غلامان امریکہ اور سیکولر ازام کے تابع اداروں پر لرزہ طاری ہے ۔ مولانا گل نصیب خان امیر جمعیت علمائے پاکستان کے پی کے نے کہاکہ 2018 ء کے الیکشن میں دو قوتیں آنے سامنے ہیں ایک امریکی غلاموں اور عالمی قوتوں کے اشارے پر ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور دوسری قوت ملک میں امن و امان ، استحکام ،تعلیم ، صحت ، روزگار اور عدل کا بول بالاکرنے کی جدوجہد کر رہی ہے اور پاکستان کو اسلام کا قلعہ بناناچاہتی ہے ۔ عوام اسلام پسندوں کی قوت ہے ۔ سیکولر قوتوں اور جرنیلوں پر ویز مشرف، ایوب خان ، یحییٰ خان اور ضیاء الحق نے عدم استحکام پیدا کیا ۔ آج ملک دوراہے پرکھڑا ہے قوم کو اسلام پسندوں کا ساتھ دے کر یہ جنگ جیتناہوگی ۔ ایم ایم صوبہ سندھ کے صدر علامہ راشد محمود سومرو نے کہاکہ 1947 ء میں پاکستان جس نعرے پر حاصل کیا گیا تھا ستر سال گزرگئے لاالہ الا للہ کا نظام نہیں ملا اور یہودیوں اور نصرانیوں کی غلامی کے طوق پہنائے گئے لیکن متحدہ مجلس عمل اللہ کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے بنی ہے اور ہم یہ مقصد حاصل کر کے رہیں گے ۔ نائب صدر ایم ایم اے پنجاب، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما علامہ ریاض الرحمن یزدانی نے کہاکہ یہ محمد ؐ کے غلام جمع ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں محمد ؐ کے غداروں سے لڑا دو ۔ مولانا جاوید قصوری نے کہاکہ ووٹ اسلام ، نظریے ، اسلام کے غلبے ، سیکولر ازم اور طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہے دشمن ہمارے لاالہ الا اللہ کے رشتے کو ختم کرنا چاہتاہے ۔ ایم ایم اے کے نائب صدر و جے یو پی پنجاب کے صدر نور احمد سیال نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کے احیا سے دینی قوتیں خوش اور متحد ہو گئی ہیں اور دین دشمن پریشان ہوگئے ہیں جلسہ کی حاضری سے پتہ چل رہاہے کہ آئندہ انتخابات متحدہ مجلس عمل جیتے گی ۔سلامی تحریک پنجاب اور صدر نائب صدر ایم ایم اے پنجاب نے اپنے خطاب میں کہاکہ جو مصنوعی فرقہ واریت بنا کر قوم کو لڑانے کی سازش کی جارہی تھی وہ دینی جماعتوں کے اتحاد نے ناکام بنادی ۔ وزیراعظم کا لباس اتار دیا گیا مگر وہ ابھی امریکہ کے گن گاتے ہیں ۔ مجلس عمل کا قیام امریکی پٹھوؤں کے منہ پر طمانچہ ہے ملک کو بچانے اور مستحکم کرنے کے لیے حکومت متحدہ مجلس عمل کے حوالے کردیں ۔مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما علامہ ابتسام الٰہی نے کہاکہ ملک میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کا نظام ہی چلے گا جن علماء نے تمہارے نکاح پڑھائے ، بچوں کے کانوں میں اذانیں دیں اور تمہارے جنازے پڑھائے اب حکومت بھی وہی حضورؐ کے غلام کریں گے ۔ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کو زمین بوس کردیا جائے گا ۔ ملک و قوم کے مسائل کاحل صرف متحدہ مجلس عمل کے پاس ہے ۔نوازشریف زرداری اور عمران خان کشمیر فلسطین شام سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے منہ کیوں نہیں کھولتے ان کے حق میں اگر کوئی آوازاٹھاتاہے تو وہ صرف علمائے کرام اور متحدہ مجلس عمل کے قائدین اٹھاتے ہیں ۔مجلس عمل پنجاب کے نائب صدر مولانا عتیق الرحمن نے کہاکہ میں پاکستان کے دل لاہور میں اتنا عظیم الشان جلسہ کرنے پر متحدہ مجلس عمل کی قیادت کو مبارکباد دیتاہوں قوم اس وقت اسلامی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے آئندہ انتخابات میں کامیابی ایم ایم اے کے قدم چومے گی ۔

خطاب

انٹرو

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر ،آن لائن)متحدہ مجلس عمل کی مرکزی قیادت نے مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے میں اپنے انتخابی منشور کو پیش کردیا اس سلسلے میں ایم ایم اے کے مرکزی قائدین نے جلسے سے پہلے منشور کی منظوری دیدی بتایا گیا ہے کہ ایم ایم اے کی جانب سے مینار پاکستان کے جلسے میں پیش کیا جانے والا منشور 117 نکات پر مبنی ہے جس کے نکات میںآ ئینی و معاشی اصلاحات،امور خارجہ،سلامتی امور،ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ سرفہرست کرپشن فری پاکستان کیلئے تمام اداروں کے افراد کا بلاامتیاز احتساب ملک سے توانائی کے بحران کا خاتمہ ،آئی وسائل کی ترقی جبکہ تونائی بحران کے خاتمے کیلئے اتفاق رائے سے پانچ ڈیموں کی تعمیر بھی منشور میں شامل ہے، تعلیمی اصلاحات،صحت عامہ،کسان دوست پالیسیوں کا قیام،بے زمین کسانوں،ہاریوں کو بلامعاوضہ زمین فراہمی کا منصوبہ بھی منشور میں شامل ہے،بجلی پانی ،کھاد کی سستے داموں فراہمی ،یکساں نظام تعلیم،قرآن و حدیث کی تعلیم،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کو یقینی بنانے کی کوششیں،خواتین کیلئے علیحدہ سپورٹس کمپلیکس کا قیام سمیت خواتین کو حقوق دینے اور دیگر نکات کو بھی منشور کا حصہ بنایاگیا ہے جبکہ متحدہ مجلس عمل کی قیادت نے آئندہ الیکشن میں خواتین کو 5فیصد نمائندگی دینے کی بھی منظوری دیدی ہے جس کے مطابق ایم ایم اے آئندہ الیکشن میں خواتین امیدواروں کو میدان میں اتارے گی جبکہ جلسے کے بعد خواتین امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دی جائیگی جس میں ایم ایم اے کی پانچویں جماعتیں اپنی خواتین امیدواروں کے نام دینگے مینار پاکستان جلسے کے بعد پارلیمانی بورڈ کی تشکیل کی جائیگی جس میں خواتین کو آئندہ الیکشن میں 5 فیصد کوٹے دینے کی پابندی کی جائیگی واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام سیاسی جماعتوں کو آئندہ الیکشن میں 5 فیصد خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دینے کی ہدایات جاری کی ہوئیں ہیں۔

منشور

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر ،آن لائن)متحدہ مجلس عمل کی مرکزی قیادت نے مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے میں اپنے انتخابی منشور کو پیش کردیا اس سلسلے میں ایم ایم اے کے مرکزی قائدین نے جلسے سے پہلے منشور کی منظوری دیدی بتایا گیا ہے کہ ایم ایم اے کی جانب سے مینار پاکستان کے جلسے میں پیش کیا جانے والا منشور 117 نکات پر مبنی ہے جس کے نکات میںآ ئینی و معاشی اصلاحات،امور خارجہ،سلامتی امور،ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ سرفہرست کرپشن فری پاکستان کیلئے تمام اداروں کے افراد کا بلاامتیاز احتساب ملک سے توانائی کے بحران کا خاتمہ ،آئی وسائل کی ترقی جبکہ تونائی بحران کے خاتمے کیلئے اتفاق رائے سے پانچ ڈیموں کی تعمیر بھی منشور میں شامل ہے، تعلیمی اصلاحات،صحت عامہ،کسان دوست پالیسیوں کا قیام،بے زمین کسانوں،ہاریوں کو بلامعاوضہ زمین فراہمی کا منصوبہ بھی منشور میں شامل ہے،بجلی پانی ،کھاد کی سستے داموں فراہمی ،یکساں نظام تعلیم،قرآن و حدیث کی تعلیم،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کو یقینی بنانے کی کوششیں،خواتین کیلئے علیحدہ سپورٹس کمپلیکس کا قیام سمیت خواتین کو حقوق دینے اور دیگر نکات کو بھی منشور کا حصہ بنایاگیا ہے جبکہ متحدہ مجلس عمل کی قیادت نے آئندہ الیکشن میں خواتین کو 5فیصد نمائندگی دینے کی بھی منظوری دیدی ہے جس کے مطابق ایم ایم اے آئندہ الیکشن میں خواتین امیدواروں کو میدان میں اتارے گی جبکہ جلسے کے بعد خواتین امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دی جائیگی جس میں ایم ایم اے کی پانچویں جماعتیں اپنی خواتین امیدواروں کے نام دینگے مینار پاکستان جلسے کے بعد پارلیمانی بورڈ کی تشکیل کی جائیگی جس میں خواتین کو آئندہ الیکشن میں 5 فیصد کوٹے دینے کی پابندی کی جائیگی واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام سیاسی جماعتوں کو آئندہ الیکشن میں 5 فیصد خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دینے کی ہدایات جاری کی ہوئیں ہیں۔

منشور

مزید :

صفحہ اول -