میاں صاحب اینج نہ کرو

میاں صاحب اینج نہ کرو
میاں صاحب اینج نہ کرو

  

پڑھا تھا آج دیکھ ہی لیا۔ اللہ بندے کو جب رسوا کرتا ہے تو اسے ڈنڈا نہیں مارتا، مت مار دیتا ہے۔ نجانے میاں صاحب کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ حضور آپ کی راہواں اونج وہی اوکھیاں سن، لہٰذا آپ اہتمام سے باقی شوق پورا کرلیں۔ لوگ کہہ رہے ہیں میاں صاحب نے ڈپریشن میں ایسا بیان دیا تو بھیا مرے ڈپریشن کا کیا یہ مطلب ہوگا کہ بندہ خود پر ہی خودکش حملہ کر دے۔ لکھ لیں میاں صاحب کی سیاست کو اتنا نقصان کسی جے آئی ٹی نے نہیں پہنچایا، کسی عدالتی فیصلے نے نہیں پہنچایا جتنا ان کا ممبئی حملوں کے حوالے سے تازہ بیان نے پہنچایا۔ میں تو بار بار چیک کر رہا ہوں کہیں غلطی سے نریندر مودی کے بیان پر تو ان کا نام نہیں چھپ گیا۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے مودی کا بیان کاپی پیسٹ کر دیا ہو۔ بنتا سنگھ اور سنتا سنگھ دونوں بھائی امتحان دے رہے تھے۔ بنتا نے ولدیت کے خانے میں باپ کا نام غلط لکھ دیا، کسی نے پوچھا تو بولا صحیح لکھتا تو ٹیچر نے کہنا تھا میں نے سنتا کی نقل کی ہے۔ ٹھیک ہے نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویسے اقتدار بہت بری شے ہے۔ بندہ اس کے لئے کسی حد تک بھی جاسکتا ہے۔ وطنیت، دھرتی ماں سے محبت اور قومی مفاد سب کتابی باتیں ہیں۔ اصل چیز بس اقتدار ہے۔

اس کے سامنے قوم، وطن اور قومی مفاد کیا معنی رکھتا ہے۔ ویسے جو بھی میاں صاحب کا شہر ہے، اسے ہمارا سلام بلکہ آخری سلام۔ بھیا میرے پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ لوہے کی بھٹیوں سے لندن کے فلیٹوں تک کا سفر اس پاک دھرتی کی ہی مرہون منت ہے۔ خان صاحب کو ان کی بیگم نے اٹھا کر کہا سنتے ہیں جس مولوی نے ہمارا نکاح پڑھایا تھا اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ خان صاحب بولے بیگم یاد رکھنا برے کام کا برا انجام ہوتا ہے۔ کچھ کاموں کا اتنا برا انجام نہیں ہونا چاہئے۔ میاں شہباز شریف کا یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ کیا میاں صاحب ایسا بیان دے سکتے ہیں؟ خادم اعلیٰ جی ہاتھ کنگن کو آرسی کیا عرف اے گھوڑی اے گھوڑی کا میدان۔ آپ کا یہ سوال بذات خود ایک کہانی ہے۔ آپ کی کون سی بڑے بھیا سے بول چال بند ہے۔ ان سے پوچھ لیں کہ ویر جی یہ بیان آپ نے دیا ہے یا ایویں بس بیانات کا ذائقہ بدلنے کیلئے ذرا تھوڑا ہٹ کے کام ڈال دیا ہے۔ سردار جی بولے یار بہت مشکل میں پڑ گیا ہوں۔ بیگم میک اپ کرے تو خرچہ برداشت نہیں ہوتا، نہ کرے تو بیگم برداشت نہیں ہوندی۔ چھوٹے میاں صاحب کی مشکل میں بھی سمجھتا ہوں، لیکن اب تو انہیں بھی اپنی پوزیشن کلیئر کرنی پڑے گی کہ کیا وہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ وہ اس بیان کے حوالے سے کہاں کھڑے ہیں۔ انہیں ثابت کرنا ہے کہ بھائی جان کی فرسٹریشن کے ساتھ ہیں یا اس دھرتی کے۔ جس نے انہیں کئی بار وزیراعلیٰ اور بڑے بھیا کو وزیراعظم بنایا۔ جس تھالی میں کھائیں، اس میں اتنے چھید نہیں کرنے چاہئیں۔ یہ وزارت عظمیٰ یا اقتدار کا نہیں پاکستانی کی سالمیت اور تشخص کا مسئلہ ہے۔

ایک طرف دنیا ہے وہ پاکستان پر دانت تیز کئے بیٹھی ہے، ٹرمپ اپنی تمام ڈبلیو ڈبلیو ایف چمتکاریوں کے ساتھ پاک دھرتی پر حملہ آور ہے۔ ہمارے سفیروں پر پابندیاں لگ رہی ہیں، ہمارا نام فنانس گرے لسٹ میں رکھ دیا گیا ہے۔ ہم پر بار بار دہشت گرد ہونے کا الزام لگ رہا ہے ، 80 ہزار جانیں ہم گنوا چکے، اکنامک اپنی تباہ کرچکے، انرجی کرائسس کا یہ شکار، سرحدیں ہماری ہر وقت خطروں میں گھری، بلوچستان میں ڈالروں اور بھارتی کرنسی کے ذریعے لگائی آگ کا ہم شکار، کے پی کے آئے روز کے حملوں سے زخم زخم، پنجاب میں بارود کی بو اب بھی بسی ہوئی ہے، کشمیر میں بہنیں، مائیں، بیٹیاں ہماری بے آسرا اور دشمن دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان پر دھریں۔ چلیں دشمن دھریں تو دھریں، اگر اس دھرتی کے تمام وسائل کو غٹک غٹک پینے والے بھی اس سازشوں کا حصہ نہیں، آلہ کار نہیں تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ کس کا احسان مانیں اور کسے احسان فراموش قرار دیں۔ کیا دولت، طاقت، اقتدار ہی سب کچھ ہے۔ کاش اس جنگ میں میاں صاحب یہ سیکھ پاتے کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں۔ شوہر لڑائی کے دوران بولا دیکھو ہمیں اس لڑائی کو عقل سے حل کرنا چاہئے، بیگم بولی ہاں ہاں آپ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ میں ہار جاؤں۔ کچھ جنگیں ایسی ہوتی ہیں، جن میں شکست بھی ایک فتح ہوتی ہے۔

میاں صاحب قومی مفاد کی جنگ میں آپ کو ہار جانا چاہئے تھا۔ آپ اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں دیں، ججوں میں کیڑے نکالیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، لیکن اگر آپ اپنی فرسٹریشن میں پاکستان کو گالیاں دیں تو یہ ہم کیسے قبول کرلیں۔ ہم عدنان سمیع نہیں ہیں، جو گھر کے ہوتے ہیں نہ گھاٹ کے۔ سردار جی شراب پیتے ہوئے رو رہے تھے، کسی نے پوچھا کیوں روتے ہو، وہ بولے جس لڑکی کو بھلانے کیلئے شراب پی رہا ہوں، اوہدا ناں بھل گیا۔ میاں صاحب ایسے غم نہیں پالنے چاہئیں کہ بندہ کو اصل بات ہی یاد نہ رہے اور اصل بات یہ ہے کہ یہ دھرتی ہے تو ہم ہیں۔ ہماری شناخت ہے، میں ’’ہم‘‘ کی بات کر رہا ہوں۔ آپ کی نہیں۔ جن کے اثاثے باہر، بچے باہر، ان کی نیشنلٹی باہر، جن کے اسٹیکس باہر، بھیا ہم نے تو جینا بھی اس دھرتی پر ہے اور مرنا بھی اسی دھرتی پر۔ کبھی کبھی ہتھاں دی دتیاں گنڈاں دنداں نال کھولنی پڑتی ہیں۔ اور آپ عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں کیلا کھانے سے داڑھ ہلنے لگتی ہے۔ خدارا اپنا بیان واپس لیں، اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں اور آخری بات نہ کرو، اینج میاں جی۔

1994ء کا وہ تاریخی حملہ کبھی نہیں بھولوں گا جب ہالینڈ کے جیرون ڈیلمی اپنے ہاتھوں میں ہاکی کو تلوار کی طرح لہراتے فائنل پنلٹی سٹروک پھینکنے آرہے تھے، میرا جسم کانپ رہا تھا، میں نے آنکھیں بند کرلیں اور پھر ایک شور اٹھا پاکستان عالمی چیمپیئن بن گیا۔ گول کیپر منصور احمد نے پش روک کر پاکستان کو عالمی چیمپیئن بنوا دیا۔ کتنے بدقسمت لوگ ہیں یہ ویلن اس دھرتی پر راج کر رہے ہیں، کھا رہے ہیں، غرا رہے ہیں اور ہیروز خاموشی سے مرتے جا رہے ہیں، جن کی وجہ سے پاکستان کو عالمی برادری میں عزت ملے، وہ علاج نہ ملنے پر سسک سسک کر مر جائیں اور جو ڈاکو اس ملک کے وسائل لوٹیں، وہ نزلے کا علاج کرانے باہر جائیں اور اپنی جعلی علاج کی تصویریں ریلیز کریں۔ وطن سے محبت کرنے والے کب تک اس طرح کسمپرسی میں مریں گے۔ منصور احمد ہم شرمندہ ہیں تم لٹیرے ہوتے تو ہم تمہیں عزت دیتے، دولت دیتے، وزیر بناتے، سینیٹر بناتے، تمہارا جرم وفا ہے اس کی بھی سزا ہے۔ اللہ تمہارے درجات بلند کرے۔ جنت کی بہاریں دیکھو۔ حضور پاکؐ کی شفاعت نصیب ہو۔ ہم یہی کہہ سکتے ہیں، یہی دے سکتے ہیں۔ ہمارے پاس بس یہی بچا ہے، ورنہ دھرتی کے لٹیرے سب کچھ لوٹ کر آج اس دھرتی کو ہی چیلنج کر رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم