ممبئی حملے ، نواز شریف کے بیان پر غور کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب، بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا : ترجمان سابق وزیر اعظم

ممبئی حملے ، نواز شریف کے بیان پر غور کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب، ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل صبح ہو گا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج نے وزیراعظم کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی جوآج صبح ہو گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سوشل میڈیا پر بتایا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ممبئی حملوں کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والے گمراہ کن بیانات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔۔گزشتہ روز بھارتی میڈیا نے سابق وزیراعظم کے اس انٹرویو کو اچھالا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کیا غیر ریاستی عناصر کو یہ اجازت دینی چاہیے کہ وہ ممبئی جا کر 150 افراد کو قتل کریں۔دوسری طرف سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ بھارتی عدم تعاون اور ہٹ دھرمی ممبئی حملہ کیس کی پیشرفت میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی جب کہ بھارت کی کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیان اور اس پر بھارت کی طرف سے رد عمل پر چوہدری نثار کا وضاحتی بیان میں کہنا تھا کہ بطور وزیرِ داخلہ اس کیس کے تمام مراحل سے مکمل طور پرآگاہ تھا اور ایف آئی اے اس کیس کی تحقیقات کر رہا تھا جو کہ وزارتِ داخلہ کا ماتحت ادارہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کیس کی صاف شفاف تحقیقات اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے میں بھارت کی دلچسپی نہیں کیوں کہ بھارت ممبئی حملہ کیس کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لئے پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں پھانسی کی سزا سے متعلق کیسز سالہا سال التوا کا شکار رہتے ہیں لیکن ممبئی حملے کے واحد زندہ ثبوت اجمل قصاب کو کمال پھرتی سے پھانسی گھاٹ پہنچا دیا گیا۔چوہدری نثار نے کہا اجمل قصاب کو پھرتی سے پھانسی دے کر منظر عام سے اس لیے ہٹایا گیا تاکہ اصل حقائق منظر عام پر آنے کا باب مکمل طور پر بند کردیا جائے۔سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت تو ہماری عدالتوں کی قائم کردہ کمیٹی سے تعاون کے لئے بھی تیار نہیں تھا جب کہ پہلے مرحلے میں تو اس کمیٹی کو ہندوستان آنے تک کی اجازت نہیں دی گئی اور بھارت نے ہماری تحقیقاتی ٹیم کو کیس سے منسلک واحد ثبوت سے سوالات کا موقع تک نہ دیا۔چوہدری نثار نے کہا کہ بھارتی حکومت نے ممبئی حملے کو بین الاقوامی طور پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا، یہ واقعہ بھارت میں ہوا اور اس کے 90 فیصد شواہد اور حقائق بھارت کے پاس تھے لیکن ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود بھارتی حکومت متعلقہ شواہد کا تبادلہ کرنے سے گریزاں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سرکار سے اس کیس میں تعاون کی بارہا درخواستیں کی گئیں لیکن بھارت کی طرف سے عدم تعاون اور ہٹ دھرمی ریکارڈ پر ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے ہر واقعے پر بھارت سے معلومات کا تبادلے پر مکمل تعاون کیا لیکن پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات میں بھارت نے کبھی تعاون نہیں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کلبھوشن جیسے واقعات پر بھارت کی جانب سے ہمیشہ ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کامظاہرہ ہوا، ممبئی حملوں سے متعلق پاکستان کے تعاون کی ہر درخواست، خط اور اعلان ریکارڈ پر ہے جس کے خطوط اور ریکارڈ ایف آئی اے کے پاس محفوظ ہیں۔سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے نواز شریف کے بیان اور بھارتی ردعمل پر چوہدری نثار کا وضاحتی بیان میں کہنا تھا کہ بطور وزیرِ داخلہ اس کیس کے تمام مراحل سے مکمل طور پرآگاہ ہوں ،چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ممبئی حملہ کیس کی شفاف تحقیقات اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے میں بھارت کی دلچسپی نہیں کیوں کہ بھارت ممبئی حملہ کیس کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لئے پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف دورِجدید کا میرجعفرہے۔سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میر جعفرنے ذاتی مفادات کیلئے انگریزوں سے ہاتھ ملایا اور نوازشریف دور جدید کا میر جعفر ہے جس نے ذاتی مفادات کیلئے انگریزوں سے ہاتھ ملایا کر قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف محض چوری کے 300 ارب روپے، جو انہوں نے اپنے بیٹوں کی بیرون ملک کمپنیوں میں چھپا رکھے ہیں، بچانے کیلئے ریاست پاکستان کیخلاف مودی کی زبان بول رہے ہیں، محض چوری کے 300 ارب روپے بچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اپنی سیاہ کاریاں بچانے کیلئے نواز شریف ادارے تباہ کرنے پرہی بضد ہیں،نوازشریف پاکستان کے مستقبل کیساتھ کھلواڑ پراترآئے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ نواز شریف ! قوم کو بتاؤ تم نے اپنے چار سالہ دورِ وزارت عظمیٰ کے دوران زبان کیوں نہیں کھولی اور کیوں کوئی کارروائی نہیں کی؟ آج بھی تو تمہارا ہی ایک مہرہ وزیر اعظم ہے۔چیئرمین تحریک انصاف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ نواز شریف نے وہی مو قف دیا ہے جو پہلے بھی ریاستی ادارے دیتے رہے ہیں، کیا ملک اور آئین توڑنے والا غدار نہیں۔طلال چوہدری نے کہا کہ کیا ساٹھ ہزار جانوں کے ضیاع اور شہادتوں کا ذمہ دار ملک کا غدار نہیں، افسوس کی بات ہے بات ہے غداراسے کہا جارہے جس نے ایٹمی دھماکا کیا، نااہل اسے کہا جارہا ہے جس نے سی پیک کا تحفہ دیا۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شیری رحمان نے ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے متنازعہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے بیان سے پاکستان کا وقار مجروح ہوا۔کراچی میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے بیان کو مسترد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2008 سے ممبئی کیس میں مستقل تعاون کیا اورامریکا بھی کہہ چکا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کا کردار نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد پوری دنیا میں اس حوالے سے باتیں کی جا رہی ہیں۔شیری رحمان نے کہا کہ پا کستان کو عالمی سطح پر طاقتور ممالک نے ہدف بنایا ہوا ہے، عالمی طاقتیں اپنی ناکامیاں پاکستان پر ڈال رہی ہیں لیکن پیپلز پارٹی ہر سطح پر پاکستان کا مقدمہ لڑے گی۔دوسری طرف ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے متنازع انٹر ویو پر ترجمان شریف خاندان نے بھی وضاحت پیش کردی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا انٹر ویو بھارتی میڈ یا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا ،سوشل میڈ یا پر بھی نواز شریف کا انٹر ویو غلط انداز میں پیش کیا گیا ،بد قسمتی سے پاکستانی میڈ یا نے بھی بھارتی میڈ یا کی رپورٹس کی توثیق کی۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق ترجمان شریف خاندان نے کہاکہ بیان کی حقیقت جانے بغیر بھارتی پروپیگنڈے کو درست مان لیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے 1998میں ملکی سلامتی سے متعلق مشکل فیصلہ کیا ،نواز شریف نے غیر ملکی دباؤ کے باوجود پاکستان کو ایٹمی قوت بنا یا۔

قومی سلامتی کمیٹی

Back

مزید :

کراچی صفحہ اول -