لاہور کے ایک تہائی تھانے ’’سونے کی چڑیا‘‘، جرائم میں بے پناہ اضافہ

لاہور کے ایک تہائی تھانے ’’سونے کی چڑیا‘‘، جرائم میں بے پناہ اضافہ

  

لاہور (لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت کے ایک تہائی تھانے ایسے ہیں جنہیں سونے کی چڑیا سمجھا جاتا ہے اور یہاں تعینات ہونے والے ایس ایچ اوزکی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں۔ وہ ان تھانوں کو سونے کی چڑیا سمجھتے ہیں لیکن بار بار تعیناتی کے ذریعے ان تھانوں کو اپنی جاگیر بھی بنا رکھا ہے اور اس کے باوجود ان تھانوں میں کرائم کی شرح میں ذرا بھر بھی کمی نہیں آ سکی ہے۔روزنامہ ’’پاکستان‘‘ نے شہریوں کے جان و مال اور امن و امان سمیت ڈکیتی اور راہزنی جیسے سنگین واقعات کا جائزہ لینے کے حوالے سے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ نے ان تھانوں کے حوالے سے جو رپورٹ تیار کی ہے اس میں سٹی ڈویژن کے22تھانوں میں 11تھانےPaid Crime کے باعث ایس ایچ اوز کے لئے سونے کی چڑیا سمجھے جاتے ہیں،جن میں سے تھانہ شاہدرہ، تھانہ شفیق آباد، تھانہ مصری شاہ، تھانہ شادباغ، گوالمنڈی اور اسلام پورہ کے تھانے کمائی کے اعتبار سے زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔ان تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز متعدد بار معطل ہونے کے باوجود تعیناتی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرپاتے ہیں۔دوسرے نمبر پر ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں12تھانوں میں سے7 تھانے ایسے ہیں۔ جن میں کاہنہ کو سپر ماڈل پولیس اسٹیشن کا درجہ دیدیا گیا ہے۔ اس تھانہ میں قانون کے مطابق انسپکٹر عہدہ کے پولیس افسر کو ایس ایچ او تعینات کرنا ضروری ہے۔ لیکن تگڑی سفارش کے بل بوتے اس تھانہ میں سب انسپکٹر عہدہ کے پولیس افسر کو ایس ایچ او تعینات کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ جوکہ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی ان تھانیداروں کے سامنے بے بس ہیں۔ جبکہ کوٹ لکھپت میں قتل و غارت اور ڈکیتی جیسے واقعات بھی عروج پر ہیں اسی طرح کاہنہ اورکوٹ لکھپت کے ساتھ ساتھ لیاقت آباد اور گلبرگ سمیت اچھرہ اور نشتر کالونی کے تھانےPaid Crime کے حوالے سے اہم سمجھتے ہیں، اسی طرح تیسرے نمبر پر کینٹ ڈویژن کے 15تھانوں میں سے6تھانے ایس ایچ اوز کے لئے سونے کی چڑیا کے برابر ہیں اور ان میں تھانہ ڈیفنس اے کو سپر ماڈل پولیس کا درجہ تو دیا گیاوہاں پر ایس ایچ اوز کی تعیناتی پولیس آرڈر 2002کے تحت نہیں کی جاتی ہے جس سے وہاں پر کرائم کی شرح میں ہر سال 35سے40فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح تھانہ فیکٹری ایریاجہاں شہر کے دیگر تھانوں کی نسبت سو گنا کرائم زیادہ ہے اس تھانہ میں انتہائی سفارش کے عامل ایس ایچ او کو تعینات کیا جاتا ہے اس کے باوجود اس تھانے کی حدود میں قتل و غارت اور ڈکیتی و راہزنی سمیت سنگین واقعات میں 69فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ان تھانوں کے ساتھ ساتھ ہربنس پورہ، تھانہ باغبانپورہ اور شمالی چھاؤنی، جنوبی چھاؤنی کے تھانوں میں تعیناتی کے لئے ایس ایچ اوز کو کئی کئی ماہ دوڑ لگانا پڑتی ہے۔ جبکہ صدر ڈویژن میں چوہنگ، ستو کتلہ، سبزہ زار، ہنجر وال، جوہر ٹاؤن اور گرین ٹاؤن سمیت ٹاؤن شپ کے تھانے کمائی کے حوالے سے ایس ایچ اوز کے لیے سونے کی چڑیا بنے ہوئے ہیں اور ان تھانوں کی حدود میں Paid Crimeکے ساتھ معمول کے سنگین واقعات میں 35فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اور سول لائن ڈویژن میں گجر پورہ ،مغلپورہ، سول لائن، قلعہ گجر سنگھ جبکہ اقبال ٹاؤن ڈویژن میں گلشن راوی، اقبال ٹاؤن، نواں کوٹ، شیرا کوٹ اور ساندہ کے تھانے میں تعیناتی کے لئے ایس ایچ اوز کو کئی کئی ماہ تک سفارشیں کرنے میں لگ جاتے ہیں اور ان تھانوں میں تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز جن میں انسپکٹر عہدہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ان تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز کو تگڑے جانا جاتاہے اور ان تھانوں میں جہاں بار بار تعیناتی کروانے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں وہاں ایس ایچ اوز نے ان تھانوں کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور اس کے باوجود ان تھانوں کی حدود میں کرائم کی شرح میں ذرا بھر بھی کمی نہیں واقع ہوتی ہے، بلکہ ہر سال کرائم کی شرح میں35 سے40اور بعض تھانوں میں69فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے لاہور پولیس کے ایک اعلیٰ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ تھانوں کو سونے کی چڑیا نہیں سمجھا جاتا ہے صرف ان تھانوں میں کرائم کی شرح زیادہ ہونے پر روک تھام کے لئے اچھی کارکردگی کے حامل ’’تگڑے‘‘ انسپکٹرز کو ایس ایچ اوز لگایا جاتا ہے جبکہ پُرکشش تھانے اورPaid Crime کی کوئی ایسی بات نہیں ہے۔

مزید :

علاقائی -