’’نواز شریف کی غلطی ‘‘

’’نواز شریف کی غلطی ‘‘
’’نواز شریف کی غلطی ‘‘

  

اپنے عہدے سے ایک عدالتی فیصلے ذریعے ہٹا دئیے جانے والے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے وہ بول دیا ہے جو پاکستان کے معروضی حالات میں کسی سویلین کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے جو بولا ہے وہ اس سے پہلے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور سابق سیکورٹی ایڈوائزر جنرل محمود درانی کے علاوہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک بھی بول چکے ہیں مگر اس وقت پاکستان کو بطور ریاست ایک بحران کا سامنا تھا لہٰذا اس وقت کا سچ ہضم ہو سکتا تھاجبکہ اب ریاست کو نہیں محض نواز شریف کو بحران کا سامنا ہے، مجھے کہنے دیجئے کہ اب ریاست کی تعریف وہی ہے جو میڈیا ، بعض سیاستدان اور تجزیہ کار بیان کرتے ہیں، سیاست کی تعریف وہ نہیں ہے جو آئین کے آرٹیکل سیون میں درج ہے۔ نواز شریف نے جو بولا ہے وہ ایک ایسے سیاستدان کو تو ہرگز نہیں بولنا چاہئے جس کی سیاسی جماعت چند مہینوں کے اندر الیکشن میں حصہ لینے جا رہی ہو کہ ہمارے ہاں حب الوطنی کی تعریف وہی ہے جو آٹھویں اور دسویں کے مطالعہ پاکستان میں پڑھائی جاتی ہے۔مجھے آج تک وہ رٹا یاد ہے جو میں نے برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان کو درپیش سولہ یا ا س سے بھی زائد مسائل کے حوالے سے لگایا تھا اورہم عمر بھر میٹرک کے اس رٹے اور انیس سو سیتالیس کے اس برس سے آگے نہیں بڑھتے۔ میں جانتا ہوں کہ بھارت میں بھی پاکستان مخالف جذبات عروج پر ہیں مگر بھارت والوں کی تو سمجھ آتی ہے کہ ان سے کروڑوں شہری اور ہزاروں مربع میل علاقہ چھین لیا گیا جس پر وہ حکومت کر سکتے تھے مگر ہم ابھی تک وہیں کیوں کھڑے ہیں۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے نواز شریف کو میر جعفر قرار دیا ہے اور یہ بات الگ کہ وہ اپنی تمام تقریریں اور باتیں بھول گئے ہیں جن کی اپنی ریکارڈنگز سوشل میڈیا پر بہت آسانی کے ساتھ سنی اور دیکھی جا سکتی ہیں۔پاکستان یا بھارت میں جب بھی ا لیکشن ہوتے ہیں دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے خلاف ایک فضا بنائی جاتی ہے، لوگوں سے واہ واہ کروائی جاتی ہے مگر مجھے ایک استثنیٰ کا ذکر کرنے دیجئے۔ بھارت سے اچھے تعلقات کے حامی ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور اسی پالیسی کو لے کر آگے چلنے والی بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاک بھارت دشمنی کی آگ بھڑکانے کی پوری کی کوشش کی تھی، مُودی کاجو یار ہے غدار ہے غدار ہے کے نعرے بھی لگوائے تھے مگر الیکشن پھر بھی بری طرح ہار گئے تھے۔

بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک اصول کیوں نہ طے کر لیا جائے کہ بطور انسان، بطور مسلمان اور بطور پاکستانی ہم سب دہشت گردی کے مخالف ہیں۔ یہ دہشت گردی خواہ کسی دیوتا کے کہنے پر کسی بہت ہی اعلیٰ مقصد کے لئے ہی کیوں نہ کی جا رہی ہو کہ ہم نے اپنے فوجی جوانوں اور افسروں کے ساتھ ساتھ ستر ہزار نہتے پاکستانیوں کی جانوں کا تاوان بھی بھرا ہے مگر اس کے باوجود نواز شریف نے پرویز مشرف اور جنرل محمود درانی کی اتباع میں سچ بولا ہے وہ بولنے کا ہرگز وقت نہیں تھا۔پہلی وجہ تو میں نے اوپر بیان کر دی کہ نواز شریف ایک سابق فوجی کے سُسر ہونے کے باوجود ایک سویلین ہیں ، وہ اس وقت ایک راندہ درگاہ سیاسی جماعت کے حقیقی قائد بھی ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر سچ ہر وقت بولنے کے لئے نہیں ہوتا۔ میرے ایک عمر اور تجربے میں بڑے صحافی نے مجھ سے پو چھا کہ کیا سچ بولنے کا بھی وقت ہوتا ہے تو میں نے جواب دیا میرے قابل احترام بھائی، سو فیصد ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا،قرآن کا ایک ایک لفظ سچ ہے، ہر ہر حرف سچ ہے، اس کا زیر، زبر، پیش اور جزم تک سچ ہیں مگر قرآن آہستہ آہستہ نازل ہوا، کسی سے بھی اس کے مکی اور مدنی ادوار میں احکام میں فرق بارے پوچھ لیجئے، کسی سے بھی اس کی منسوخ ہونے والی آیات کی تفصیلات جان لیجئے، کون سی بات کیسے اور کب کہنی ہے یہ ایک بہت ہی عقل اورسمجھ والی بات ہے۔ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کی تشکیل سے پہلے بھی رب کے سچے رسول تھے مگر جب مشرکین مکہ نے صلح حدیبیہ کرتے ہوئے رسول اللہ کے الفاظ پر لکیر پھیر دی تو کائنات کے سب سے عقل مند انسان نے اس معاہدے کو قبول کر لیا، کیا وہ اس لکیر کے پھیرے جانے سے رسول کے درجے پر نہیں رہے تھے، توبہ توبہ ، ستر ہزار بار استغفار، ایسا بولا ہی نہیں جا سکتا۔

کیا نواز شریف موجودہ صورتحال اورا سکے پیچھے چلنے والے پولیٹیکل تھیم سے ناواقف ہیں، میں ایسا نہیں سمجھتا، کیا انہوں نے ابھی حال ہی میں اپنے اوپر منی لانڈرنگ کے ذریعے کھربوں روپے بھارت منتقل کئے جانے کے الزام کے اعادے کو بھی نظر انداز کر دیا، کیا وہ بھول گئے کہ ایک مذہبی یلغار کے نتیجے میں ان کی پارٹی کے رہنماوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ میں جس نواز شریف کو بطور کارکن صحافی جانتا ہوں وہ آئیں بائیں شائیں کے ذریعے سوالات کو ٹالنے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے اسی انٹرویو میں جب ان سے اپنی حکومت کے خاتمے کی اصل وجوہات بتانے کے سوال کا جواب بھی گول کر دیامگر کیا وجہ تھی کہ انہوں نے یہ الفاظ کہہ دئیے کہ عسکری تنظیمیں ابھی تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے،مجھے سمجھائیں کیا ہمیں اس بات کی اجازت دینی چاہئیے کہ سرحد پار جا کے ممبئی میں ایک سو پچاس لوگوں کو قتل کر دیں۔ انہوں نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے روایتی مذہبی بنیاد کے حامل ووٹ بنک کو بھی نشانہ بنایا ہے مگر بولنے میں بہت محتاط نواز شریف کا یہ اقدام اور بیان سوچا سمجھا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد مجھے سوشل میڈیا پر عوامی رائے انتہا پسندی کی حد تک تقسیم نظر آ ئی ہے۔ ایک سیاستدان کو غدار کہنا پاکستان کی سیاسی روایات میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ یہ الزام تو ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح پر بھی لگا دیا تھا مگر دوسری طرف کا موقف وہی ہے جو انیس سو اکہتر میں تھا، یہ اپنے اندر خوفناک اثرات اور نتائج لئے ہوئے ہے۔ مجھے نشاندہی کرنی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو پاکستان کی جعلی زنجیر بنایا جا رہا ہے، یہ درست ہے کہ خیبرپختونخوا میں ان کی فالووئنگ موجود ہے مگر انہیں جنوبی پنجاب سے ارکان اسمبلی پلیٹ میں ر کھ کر پیش کئے گئے ہیں اور اسی طرح عین ممکن ہے کہ پاک سرزمین پارٹی کراچی میں تحریک انصاف کا سیاسی چہرہ بن جائے۔ مجھے کہنا ہے کہ سیاست نہیں ریاست بچاو کے نعرے سے پاکستان کو نہیں بچایا جا سکتا کہ آدھا پاکستان اس سے پہلے اس وقت ختم ہو گیا تھا جب اس وقت سیاست کو ختم کیا گیا تھا۔ پاکستان کے قیام کی بنیاد سیاست ہے، یہ اس کے بنیادی اجزائے ترکیبی میں شامل ہے، میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شے اپنے اجزائے ترکیبی کے بغیر بھی قائم رہ سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کریں، یہاں غلطیوں پر غلطیاں ہوتی چلی جا رہی ہیں، نواز شریف نے جہاں ایک غلطی کی ہے وہاں دوسری طرف بھی اندازے لگانے والوں سے غلطی ہوئی ہے۔ یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ نواز شریف کو جب الزامات لگا کے نااہل کیا جائے گا، اس کے عدالتوں کے پھیرے لگوائے جائیں گے تو وہ کان پکڑ کے سیاست سے توبہ کر لے گا مگر مستقبل کے نقشے تراشنے والوں کو خیال رکھنا چاہئے تھا کہ اس شخص نے مزاحمت کی، ڈوبنے کے بعد پھر ابھرنے کی، ایک حیران کن حد تک مختلف تاریخ رقم کی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ میں جسے نواز شریف کی غلطی سمجھ رہا ہوں وہ اگلے انتخابات کے ایجنڈے کی تشکیل میں اس کی کوئی سوچی سمجھی اور شاطرانہ چال ہو جس کے نتیجے میں بساط پلٹ جائے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -