مہاتیر کی جمہوریت ،ووٹ کی عزت اور ہم

مہاتیر کی جمہوریت ،ووٹ کی عزت اور ہم
مہاتیر کی جمہوریت ،ووٹ کی عزت اور ہم

  

10 جولائی 1925 کی شام ملائیشیا کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے میں رہنے والے ایک غریب استادمحمد اسکندرکی جھونپڑی میں بہت خوشیاں لے کر آئی تھی۔یہ وہ دور تھا جب ملائیشیا پر برطانوی سامراج کا قبضہ تھا۔ملائین قوم دو طرف سے پس رہی تھی۔ایک طرف تو ان کی معشیت پر چینی تاجر قابض تھے تو دوسری طرف انگریز ان کا وہی حال کررہے تھے جو برصغیر کی عوام کا کررہے تھے۔مظالم کی داستانیں سنتا خوف کے عالم میں کئی سپنے سجائے اسکندر کا بیٹا دل لگا کر پڑھنے لگا۔اسکندر نے غربت کی پروا کئے بغیر اسے اعلی تعلیم دلوائی ۔ایک دن وہ باپ سے ملکی حالات دیکھتا الجھ پڑا،وہ سول سروس میں جانا چاہتا تھا مگر باپ اس کو ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا۔آخرکار باپ کے آگے بیٹا جھک گیا اور ڈاکٹر ی کی تعلیم حاصل کرنے لگا۔اسی دوران ملائیشیا پر جاپان کا قبضہ ہوگیا اور جاپانیوں نے اپنے ظلم کی نئی تاریخ رقم کردی۔وہ ہر وقت اپنی قوم کی حالت دیکھتا تو بہت روتا ۔اس نے جاپانی قوم سے سیکھا کہ وہ انتہائی منظم قوم ہیں،اس نے ان کی طرح اپنی ذات کو ڈھال لیا۔اسی دوران برطانیہ نے پھر سامراجی پنجہ جما لیا ،مگر اب کی بار ملائین قوم میں آزادی کی تحریک شروع ہوگئی۔وہ اس تحریک کا حصہ بنا اور گلی گلی جا کر نعرے لگانا ،ہڑتالیں کرنا،جلوس نکالنا اور تقریریں کرنا اس کا معمول بن گیا۔

1951 میں ملائیشیا آزاد ہوگیا اور اس عرصے میں وہ لڑکا کامیاب فزیشن بھی بن گیا۔اس کا جنون اسے ایوانوں تک لے آیا اور وہ 39 سال کی عمر میں اسمبلی کا رکن بن گیا۔ 13مئی 1969 کو ملائین اور چینی قوم کے درمیان ملائیشیا کی تاریخ کے بدترین فسادات پھوٹ پڑے۔ان فسادات کی پیشگوئی ایک سال پہلے کرنے پر اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان فسادات نے اسے آنے والے دور کے لئے ایک مضبوط سوچ دے دی۔ قسمت کی دیوی اس کی حب الوطنی کے سامنے بے بس تھی۔1974 میں وہ ملائیشیا کا وزیرتعلیم بنا اور1976 وہ نائب وزیراعظم بن گیا۔مگر وہ ایک ایسا خواب دیکھ چکا تھا جس کی تکمیل کی منزل بہت دور تھی وہ ایک محکوم قوم کو دنیا کی کامیاب ترین قوم بنانے چلاتھا۔16 جولائی 1981 ملائین قوم نے اسے اپنا وزیراعظم چن لیا۔56 سال کی عمر میں وزیراعظم بننے والا ایک غریب استاد اسکندر کا بیٹا پوری دنیا کو آج کی مضبوط ،مستحکم، اور معاشی طور پر ایک عظیم قوم دے گیا۔جمہوریت کے راستے پر چل کر اس نے1981 سے 2003 تک ملائیشیا پر حکمرانی کی۔یہ شخص نہ تو کرنل قذافی کی طرح کوئی ڈکٹیٹر تھا اور نہ ہی کسی شاہی خاندان کا فرمانروا۔جمہوریت کی بہترین مثال قائم کرنے والا غریب باپ کا عظیم بیٹااپنے ہر دور کے اختتام پرکامیابیوں کی ایک طویل فہرست کے ساتھ قوم کو مزید خوشحال دور کی نوید سنا کر 22سال میں ملائیشیا کو ایک محکوم قوم سے حاکم قوم بنا گیا۔

کہتے ہیں کہ جب آپ کو منزل قریب نظر آرہی ہو اور آپ کا رہبر آپ کو مکمل اعتماد میں لے کر چل رہا ہو تو نہ تو آپ راستہ بدلتے ہیں اور نہ ہی رہبر۔ملائین قوم کا یہ ہیرو تھا ڈاکٹر مہاتر محمد ۔ مہاتیر نے قوم کو راستہ دیا اور 2003ء میں سیاست سے الگ ہوگیا۔ مہاتیر نے چوتھے وزیر اعظم کے طور پر 22 میں ملائشیاء کو دنیا کی سب سے طاقتور معیشت میں تبدیل کردیا۔ یونائیٹڈ مالے نیشنل پارٹی(UNMO) مہاتیر کے دور میں ملک کی سب سے طاقتور سیاسی جماعت بن گئی۔ مہاتیر سیاست سے الگ ہوگیا ، مگر پھر بھی ملک کے حالات پر گہری نظر رکھے ،بغیر کسی فرق کے ملکی سیاست پر کڑی تنقید کرتا رہا۔ مہاتیر کی تنقید کا سب سے پہلا نشانہ ہاتھوں سے چنا ملک کا پانچواں وزیر اعظم عبداللہ احمد بداوی تھا ، جو 2003 سے 2009 تک ملک کا وزیر اعظم رہا اور مہاتیر ملکی ترقی کے خلاف ہونے والے ہر کام پر بداوی کو آڑے ہاتھوں لیتا رہا۔3 اپریل 2009ء کو ناجب رزاق ملک کا وزیر اعظم بن گیا،اس کا تعلق بھی ،مالے پارٹی سے ہی تھا اور ناجب 10 مئی 2018ء تک ملک کا چھٹا وزیر اعظم رہا۔ کوئی بھی پارٹی قومیت سے بڑی ہوتی ہے، مالے پارٹی کا ناجب رزاق 1 ملائشیاء ڈویلپمنٹ برہاد سکینڈل میں بری طرح ملوث پایا گیا۔ ملکی معیشت کو مستحکم بنانے والے اس پلان میں اربوں روپے ناجب کے ذاتی اکاوئنٹ میں ٹرانسفر کیے گئے اور یہ کرپشن کا سکینڈل مہاتیر کے دل میں بیٹھ گیا۔ مہاتیر نے فروری 2016ء میں مالے پارٹی چھوڑ کر ، کمزور ترین اپوزیشن پارٹی جوائن کرلی۔ملائشیاء یونائیٹڈ کے نام سے یہ کمزور ترین پارٹی مہاتیر کی قیادت میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی ابھر کر سامنے آئی اور 10 مئی 2018ء کو 92 سال کی عمر میں مہاتیر محمد ملائشیا ء کا ساتواں وزیر اعظم بن گیا۔ یعنی جس پارٹی سے الیکشن متواتر جیت کر مہاتیر نے 22 سال ملک پر حکمرانی کی، اسی پارٹی نے جب اس کے جانے کے بعد کرپشن کی اور ملکی مفاد کے خلاف گئی تو مہاتیرنے اس پارٹی کو چھوڑ کر، مخالف پارٹی کے ذریعے پھر ملک کی بھاگ دوڑ سنبھال لی۔

یہ حقیقی جمہوریت اور باشعور جمہور کا اصل حسن ہے۔ مہاتیر نے مچھیروں پر مشتمل قوم کو بائیس سال میں اتنا با شعور بنا دیا تھا کہ انہوں نے ملکی کرپشن بحران میں آمریت کی طلب نہیں کی، جمہوریت میں ہی ترقی کی نئی راہیں متعین کیں۔ مہاتیرنہ کو ئی آمر تھا، نہ آمریت کی پیداوار تھا اور نہ ہی موروثی آمرانہ جمہوریت یا لاشوں کی سیاست سے یہاں پہنچا تھا۔ اسے صرف جمہوریت یہاں لائی تھی اور یہ بات کہنے کے لیے مہاتیر کا ماضی کافی ہے کہ ملائشیاء کا مستقبل اب کیا ہوگا اور کیا ہونے جارہا ہے۔ ملائشیاء نے جو کچھ چند دہائیوں میں سیکھ لیا، ہم آج ستر سال بعد بھی وہیں کھڑے ہیں۔ جاگیرداری، وڈیرانہ، آمرانہ اور اشرافیہ پر مشتمل مافیوں سے نچوڑا آمریت اور جمہوریت کی شٹل کاک بنا کرپشن سے تر سیاسی نظام۔ یہ سال ہمارے ملک میں بھی الیکشن کا سال ہے اور نتائج انقلابی لگتے ہوئے بھی انقلابی نہیں ہونے جارہے۔ ہوگا وہی، جو لکھا جاچکا ہے، مگر بطور عوام ہمیں مچھیروں کی قوم سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں حاکموں کو چند حالات میں تسلیم کیا جاتا ہے، یاں وہ بادشاہ ،ڈکٹیٹر ہوں یا پھر آپ کے چنے ہوئے جمہوری حکمران۔ موروثیت، خاندانی سیاست اور آمرانہ جمہوریت جب آڑے آنے لگے تو معاشروں میں کبھی بھی مہاتیر کی جمہوریت نہیں آتی۔ چہرے بدلتے رہتے ہیں ،مگر نظام وہی رہتا ہے۔ بے انصافی، کرپشن، لوٹ مار، اقربا پروری، جھوٹ اور عوام کو بے وقوف بنانے کی روش جاری رہتی ہے۔ ایسے نظامِ بے نظام معاشروں یا ہجوموں پر مشتمل معاشروں سے رحمت اٹھ جاتی ہے۔ نظام میں تبدیلی کی بات کرنے والوں کو خود بے نظام اژ دھا نگل جاتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اگر حقیقت میں مہاتیر کی جمہوریت آگئی ، تو پھر تعلیم، روزگار، صحت آئی گی ۔ ان سب کے ساتھ عوام میں ٹرالی ،ڈھول ،نوٹوں اور دیگوں کی آڑ میں آنے والے ووٹ ، سیاسی شعور کی نظر ہونے لگیں گے۔ آبادی قابو ہوجائے گی اور quantity نہیں quality ووٹوں میں اضافہ ہوگا اور اگر ایسی جمہوریت پر مشتمل نظام دس بیس سال رہ گیا تو سارا نظام ہی تبدیل ہوجائے گا۔ لوگوں پارٹیاں اور خاندان بھول جائیں گے، وہ صرف خوشحالی ،انصاف اور کرپشن سے پاک نظام لانے والے کو ووٹ دیں گے۔ آپ کا تعلق جس مرضی پارٹی سے ہو، چاہے وہ ملک کی سب سے طاقتور جماعت ہو، اگر آپ میں کوئی بھی ناجب کی طرح اسے استعمال کرے گا ،یا ملک کے نظام کو خراب کرے گاتو باشعور عوام آپ کو پارٹی سمیت باہر نکال دیں گے اور انہی چہروں کو واپس لائیں گے جو نظام کی بات کریں گے اور ملک میں خوشحالی، انصاف اور استحکام لے کر آئیں گے۔ ایک کرپشن سکینڈل چالیس پچاس سالہ سیاسی کیرئیر کھا جائے گا ۔ عوام میں کوئی آپ کی دہائی سننے نہیں آئے گا اور سب آپ کا نام تک بھول جائیں گے۔ باشعور قوموں کو آپ یا آپ کی اولاد نہیں ، اپنے ملک یا اپنی نسلوں کی خوشحالی کو ووٹ دینا ہوگا اور یہی ووٹ کو عزت دے گا۔ جس دن اس ملک میں مہاتیر کی جمہوریت آگئی اس دن لوگوں کو نسلوں کے مستقبل کی فکر بھی بھول جائے گی اور ایک بہترین نظام خود سب سنبھال لے گا۔ یہی وہ دن ہوگا جب ’ ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ اپنا اصل مطلب باشعور انسانوں پر مشتمل افراد کی روح میں داخل کردے گا۔(www.facebook.com/draffanqaiser)

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -