ڈاکٹر طاہرالقادری کے انکشافات

ڈاکٹر طاہرالقادری کے انکشافات
ڈاکٹر طاہرالقادری کے انکشافات

  

  نااہل ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ممبئی حملوں کے متعلق پاکستان مخالف بیان دے کر اپنی سیاسی موت کو دعوت دے دی ہے ۔ پاکستانی قوم سیاسی اور مذہبی طور پر جتنی بھی جماعتوں میں تقسیم ہو لیکن وہ کسی بھی صورت پاکستان کے تحفظ پر آ نچ برداشت نہیں کر سکتے ۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب پاکستان پر کوئی مشکل وقت آیا، ہر موقع پر پاکستانی عوام نے ایک قوم کی مثال پیش کی۔ عوام کی پاک فوج سے محبت بھی اس لیے ہے کہ وہ اس ملک پاکستان کی حفاظت کی ضمانت ہے۔ نواز شریف کا اس ملک کا شہری ہوتے ہوئے پاکستان پر الزام لگانے سے ہر شہری غم و غصہ میں ہے ۔اب جب چند ماہ بعد پاکستان میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں ایسے میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں نااہل ہونیوالے نواز شریف نے پاکستان مخالف بیان دے کراپنی سیاست کو خود ہی دفن کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

یادرہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے 20اگست 2016ء میں ایک ہی دن میں ملک کے 105شہروں میں ہونے والے احتجاج سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف اور انڈیا کے تعلقات کے بارے میں انکشافات کئے تھے جس میں ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا نواز شریف کا وجود ملک پاکستان کی سا لمیت کیلئے خطرہ ہے۔ انڈیا نواز شریف کو اقتدار میں لانے کیلئے پچھلے 4 سال سے انوسٹمنٹ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ میں ان ملکوں کو بھی جانتا ہوں جو اس مشن میں انڈیا کے ساتھ ہیں ۔ اور اب نواز شریف کی حکومت کو بچانے کی جنگ بھی انڈیا لڑ رہا ہے ۔ بلوچستان کے DG نادرا کا آ فیشل لیٹر بھی ڈاکٹر طاہر القادری نے میڈیا کو دیکھایا جس میں لکھا گیا کہ ہمیں طاقت کے زور پر غیر ملکی افراد کے شناختی کارڈ کی تصدیق سے روکا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر میرے الزامات غلط ہیں تو نواز شریف یا شہباز شریف خود میڈیا کے سامنے آ کر اس کی تردید کر دیں ۔ یا پھر پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس معلومات مجھے زیادہ ہوتی ہے وہ میری بات کی تردید کر دیں تو میں نواز شریف کو اقتدار میں لانے اور اب ان کی حکومت کو بچانے والے ملکوں اور افراد کے نام بتانے کو تیار ہوں ۔ ایک اور موقع پر نواز شریف کی شوگر ملز میں غیر قانونی طریقہ سے پاکستان میں داخل ہونے والے انڈین افراد کے متعلق بھی انکشاف کیا گیا ، جن کے پاسپورٹ اور دیگر کاغذات کی تفصیل بھی میڈیا کے سامنے پیش کی گئی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے یہاں تک الزام لگایا کہ نواز شریف میں الطاف حسین سے زیادہ خطرناک شخصیت چھپی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے نواز شریف پر اتنے سنگین الزامات کے بعد شریف برادران کو میڈیا کے سامنے آ کر ان کا جواب دینا چاہیے تھا ۔ یہ ملک سے غداری کے الزامات تھے جس پر شریف برادران نے خاموشی اختیار کرکے گویا ان کا اعتراف کیا ۔ ان انکشافات کے دو سال بعد آج نواز شریف کا ممبئی حملوں کو پاکستان کے ساتھ جوڑنا ان انکشافات کو سچ ثابت کرتا ہے۔ اس سے پہلے بھی نواز شریف اپنی اتحادی جماعتوں سے اس طرح کے بیان دلوا چکے ہیں۔ انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر 15 اگست2016 کو لال قلعہ میں تقریب سے خطاب کرتے نریندر موددی نے کہا کہ بلوچستان کی عوام مجھے شکریہ کے فون کرتی ہے کہ میں نے ان کی آواز بنا ہوں۔ گویا نریندر مودی نے بلوچستان میں بھارت کی دخل اندازی کا اعتراف کیا۔ اس پر نواز شریف کا بطور وزیر اعظم کوئی رد عمل سامنے نہ آنا، کلبھوشن پرآج تک کوئی بیان نہ دینا سوالیہ نشان ہے ؟

دنیا میں کہیں بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک طرف دو ملک آپس میں دشمن ہوں او ر دوسری طرف ان کے وزرائے اعظم کی دوستی دنیا میں زیر بحث ہو ۔ جب پاکستان کی بڑی جماعت کے سربراہ کی طرف سے ایسے انکشافات کئے جائیں تو پاکستان کے سا لمیت کے اداروں کو اس پرایکشن لینا چاہیے ۔ کیونکہ پاکستان نہ صرف ہمارا ملک ہے بلکہ یہ مسلم ممالک میں ایٹمی صلاحیت کا مالک بھی ہے اور ان کی امید بھی ۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -