فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر426

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر426
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر426

  

ایک صاحب نے شکایت کی ہے کہ جناب آپ نے فلمی الف لیلہ خود نوشت کے طور پر لکھنی شروع کی تھی اوراس میں اپنی ذاتی زندگی اور تجربات کے علاوہ فلمی،ادبی اور صحافتی زندگی کا احوال بیان کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن کچھ عرصے سے یہ محض فلموں اور ظلم والوں کیلئے مخصوص ہوکر رہ گئی ہے۔ادب اور صحافت کا تذکرہ برائے نام ہی کیا جاتاہے ۔یہ صاحب امریکا میں رہتے ہیں اور باقاعدگی سے سرگزشت کا مطالعہ کرتے ہیں۔جب کو ئی شخص اتنی دور دراز سے فون کرے اور اپنی شکایت بیان کرے تو اس پر غور کرنا اور جواب دینا ضروری ہو جاتا ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر425 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے ہماری اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے ہماری دانست میں وہی کافی ہے انسان کی ذات اور شخصیت کے مقابلے میں اس کے تجربات ،مشاہدات اور تاثرات زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں پھر جب موقع ملتاہے ہم اپنے بارے میں بیان کرتے رہتے ہیں۔اسی طرح ادب اور صحافت کے بارے میں بہت کچھ بیان کر چکے ہیں اور آئندہ بھی بیان کرنے کا ارادہرکھتے ہیں۔ان صاحب کے اعتراض کے جواب میں عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ آغاز میں صحافت سے باقاعدگی وابستگی کا عرصہ آٹھ سال تھا۔اس عرصے میں پیش آنے والے واقعات،تجربات اور مشاہدات کے علاوہ بلند پایہ صحافیوں کے بارے میں بھی اپنے علم اور تجربے کے مطابق بیان کرتے رہے ہیں۔البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے بہت زیادہ تفصیل سے ان شخصیات کا بیان نہیں کیا۔اس کی بھی وجوہات ہیں۔دراصل اس داستان میں ہم نے اپنے ذاتی مشاہدات اور تجربات کا زیادہ تفصیلی بیان کیا ہے۔مثلا آغاشورش کا شمیری کے ساتھ ہم نے ان کے ہفت روزہ’’چٹان‘‘ میں ایک سال سے زائد عرصے کام کیا لیکن اس دوران میں ہمیں ان سے بہت زیادہ قریب رہ کر انہیں دیکھنے کا موقع ملا۔اس لئے اس کے بارے میں یقیناًتفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔حمید نظامی صاحب نوائے وقت کے مدیر اعلیٰ تھے۔ان کے ماتحت بھی ہم نے ایک سال کے لگ بھگ کام کیا مگر اس دوران میں نے ان سے گنتی کی تین ملاقاتیں ہوئیں جن کا حال ہم نے بہت تفصیل سے بیان کر دیا۔دوسرے حضرات کے بارے میں بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔میر نور محمد صاحب اور مولانا غلام رسول مہر کی نگرانی میں بھی ہم کام کرتے رہے مگر ذاتی ملاقاتوں کا موقع کم ہی ملا ۔تاہم اپنے تاثرات اور مشاہدات ہم نے حاصی وضاحت کے ساتھ بیان کیے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ محض کسی شخصیت کے حالات زندگی بیان کردینا اور اس کے کارناموں کا تذکرہ کر دینا ہمارے نزدیک ضروری نہیں ہے۔یہ تو وہ نادر روزگار ہستیاں ہیں جن کے بارے میں سبھی جانتے ہیں اور ان کے متعلق آئے دن اخبارات میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔اگر ہم بھی وہی واقعات دہرادیں تو یہ ایک بے منی کام ہو گا۔البتہ ان کے بار ے میں رائے اور ان کے انداز و اطوار کے بارے میں جہاں تک ہم نے دیکھا وہ بیان کرچکے ہیں۔

ادب سے بھی ہمارارشتہ نیمے دروں نیمے بروں والا ہی رہا ہے ۔پہلے صحافت سے جو وقت بچتاتھاوہ ادب اور ادبیوں کی نذر کر دیتے تھے۔’’آفاق‘‘ کے سنڈے ایڈیشن کے حوالے سے جن نامور ہستیوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ان سب کے بارے میں کافی تفصیل سے ہم بیان کر چکے ہیں اور باقی ماندہ کے بارے میں بھی یقیناًبتائیں گے پھر جب ہم نے فلمی صنعت سے وابستگی اختیار کی تو دوسرے تمام شعبوں سے عملی طور پر رابطہ کٹ گیا۔فلم میں شب وروز توجہ اور مصروفیت درکار ہوتی ہے۔اس زمانے میں مقابلہ بھی بہت سخت تھا اور کچھ حاصل کرنے یا بننے کیلئے بہت زیادہ تگ و دو کرنی پڑتی تھی ۔ہم عملی طور پر فلمی دنیا ہی میں رہتے تھے۔فلم ہی کھاتے پیتے تھے اور فلم ہی اوڑھتے بچھاتے تھے۔فلم ہی کے بارے میں دیکھتے اور سنتے تھے۔اس کے متعلق ہی پڑھتے تھے اور بہترین فلمیں دیکھنے کیلئے بھی وقت نکالتے تھے اس وجہ سے دوسرے شعبوں کیلئے ہمارے پاس وقت تھا نہ ہی مہلت۔اس کے باوجود چور چوری سے جائے مگر ہیرا پھیری سے نہ جائے کے مصداق جب بھی موقع ملتا تھا ادبی اور صحافتی حلقوں کا چکر لگا کر دوستوں سے ملاقات کر آتے تھے۔

زندگی کا تویل ترین عرصہ ہم نے فلمی صنعت میں گزارا۔وہیں لوگوں سے میل ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔تجربات ،مشاہدات،دوستیاں،دشمنیاں سب اسی حلقے تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں۔دوستیاں اتنی زیادہ تھیں کہ فارغ اوقات میں بھی فلم والوں کے ہمراہ ہی رہتے تھے۔ظاہر ہے کہ فلم کے بارے میں ہماری معلومات،مشاہدہ،تجربہ اور تاثرات دوسرے شعبوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔یہ وجہ ہے کہ اس داستان میں فلم اور فلم والوں کا تذکرہ زیادہ ہوتاہے اسی بنا پرمعراج رسول صاحب اور فراز صاحب نے ہمیں یہ مشورہ دیا تھا کہ اس داستان کا نام فملی الف لیلہ رکھا جائے ۔امید ہے کہ ہمارے گمنام امریکی قاری اور دوسرے قارئین اس نکتے کو سمجھ کر گئے ہوں گے اور فلم کے زیادہ تر تذکرے کا سبب بھی جان گئے ہوں گے۔

روزنامہ ’’آفاق‘‘ کے پہلے دور میں اس کے مدیر پروفیسر سرور صاحب تھے۔ان کے ساتھ ہم نے ایک سال کے زائد عرصے سے کام کیا۔سرور صاحب بزرگی اور علمی فضیلت کے باوجود کھلے دل سے دوسروں خصوصا نوجوان کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے اور کام کی ضروری باتوں کے علاوہ دوسرے موضوعات پر گفتگوکرنے کی سعادت بخش دیا کرتے تھے۔

سرور صاحب سے ہم نے صحافت کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ۔وہ تحقیق کے میدان سے تعلق رکھنے والے خالص علمی و ادبی کام کرنے والے آدمی تھے مگر تلاشی معاش نے انہیں صحافت سے وابستہ کر دیا تھا۔انہیں یہ تبدیلی پسند نہ تھی کہ کتابیں چاروں طرف بکھری ہوئی ہوں اور وہ تحقیق کے موتی تلاش کرتے رہیں۔جبکہ روزانہ صحافت میں تحقیق و علمی پیاس کو بجھانے کی کنجائش ہی نہ تھی ۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے فرائض خوش اسلوبی سے نبھائے۔اکثر ہم نے محسوس کیا کہ وہ اس کام سے دل برداشتہ ہیں مگر کنارہ کش نہ ہوئے۔ 

ایک طرف وہ خالص علمی ذوق رکھتے تھے تو دوسری طرف ادب اور فنون لطیفہ سے بھی لگاؤ تھا۔ سعادت حسین منٹو جیسے بے باک اور بدنام زمانہ افسانہ نگار کے وہ عاشق تھے اور ان ہی کے اصرار پر منٹو صاحب نے آفاق کے سنڈے ایڈیشن کے لیے بطور خاص مضامین لکھے تھے جو بعد میں ’’گنجے فرشتے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔ ان میں سے کئی خاکے انہوں نے آفاق کے دفتر میں ہمارے کمرے ہی میں بیٹھ کر تحریر فرمائے تھے۔ اس بہانے ہمیں منٹو صاحب کے نزدیک ہونے اور ان کے گھرجانے کا موقع بھی ملتا رہا۔ منٹو صاحب کے بارے میں اپنے مشاہدات اور تاثرات ہم بہت تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔ ہمیں حیرت اس بات پر تھی کہ ایک طرف تو سرور صاحب مولانا عبید اللہ سندھی اور شاہ ولی اللہ کے مرید ہیں اور دوسری طرف سعادت حسن منٹو جیسے افسانہ نگا رکے پرستار بھی ہیں۔یہ ان کے اعلیٰ ذوق کا ثبوت ہے۔ منٹو صاحب ایک بدنام افسانہ نگار خیال کئے جاتے تھے مگر پروفیسر سرور صاحب نے بہت لڑجھگڑ کر انتظامیہ کو ان کے مضامین حاصل کرنے پر آمادہ کیا تھا اور پھر خود منٹو صاحب سے بھی درخواست کی تھ ی کہ وہ اخبار کی پالیسی کے تحت لکھیں۔ منٹو صاحب نے اس بات کی حامی نہیں بھری تھی کیونکہ وہ کسی قسم کی پابندی یا بندش کے قائل ہی نہیں تھے۔ وہ تو قلم اٹھاتے تھے اور لکھنا شروع کردیتے تھے۔ اب ان کے ذہن او رقلم کے اشتراک سے کیا تحریر برآمد ہوتی ہے اس کا کسی کو بلکہ شاید منٹو صاحب کو بھی علم نہیں ہوتا تھا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر427 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -