”وادی نیلم کے اس پکوڑے فروش نے اپنا فرض پورا کیا تھا لیکن۔۔۔“ وادی نیلم میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد حامد میر نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ایسا انکشاف کر دیا کہ سب کی آنکھیں نم ہو گئیں، ہر کوئی دکھی دل کیساتھ پکوڑے فروش کو داد دینے لگا

”وادی نیلم کے اس پکوڑے فروش نے اپنا فرض پورا کیا تھا لیکن۔۔۔“ وادی نیلم میں ...
”وادی نیلم کے اس پکوڑے فروش نے اپنا فرض پورا کیا تھا لیکن۔۔۔“ وادی نیلم میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد حامد میر نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ایسا انکشاف کر دیا کہ سب کی آنکھیں نم ہو گئیں، ہر کوئی دکھی دل کیساتھ پکوڑے فروش کو داد دینے لگا

  

مظفر آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وادی نیلم میں نالہ جاگراں پر رابطہ پل ٹوٹنے کے باعث 12 افراد کی ہلاکت کی خبر آئی تو ہر آنکھ ہی اشکبار ہو گئی۔ یہ پل گزشتہ روز اس وقت ٹوٹا جب 25 سے زائد سیاح اس پر کھڑے تصاویر بنا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔وادی نیلم میں پل ٹوٹنے کی ویڈیو منظرعام پر آ گئی، دلخراش مناظر دیکھ کر سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا 

پل کمزور تھا یا حد سے زیادہ وزن ہونے کے باعث ٹوٹا؟ اس کا فیصلہ تو تحقیقات کے بعد ہی ہو گا لیکن اس حادثے کی ایک وجہ سیلفی جنون کو قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ پل کے قریب کام کرنے والے ایک پکوڑہ فروش نے اس حوالے سے تنبیہی بورڈ بھی نصب کر رکھا تھا جس پر سیلفی جنون حاوی ہو گیا۔

سینئر صحافی حامد میر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک سائن بورڈ کی تصویر جاری کرتے ہوئے لکھا ”وادی نیلم کے اس پکوڑے فروش نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا لیکن سیلفی کا شوق اس وارننگ پر حاوی ہو گیا اور حادثے میں کئی سیاحوں کی جانیں چلی گئیں“

پکوڑہ فروش نے جو بورڈ نصب کر رکھا ہے اس پر واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ”سیاح حضرات سے گزارش ہے کہ دریا کے زیادہ قریب نہ جائیں اس سے پہلے ہی کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ پل کی حالت بھی خراب ہے، ذرا سی احتیاط بہت بڑے حادثے سے بچا سکتی ہے۔“

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایسی تنبیہ کو کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے ورنہ پھر وہی کچھ ہوتا ہے جو گزشتہ روز سیاحوں کے ساتھ ہوا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -علاقائی -آزاد کشمیر -مظفرآباد -پنجاب -فیصل آباد -لاہور -