بالآخر 6ارب ڈالر کا بیل آوٹ پیکیج

بالآخر 6ارب ڈالر کا بیل آوٹ پیکیج

آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کی منظوری فنڈ کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا، معاہدے کے تحت پاکستان کو 6ارب ڈالر کا قرض اقساط میں 3سال 3ماہ میں ملے گا، تاہم اس سے پہلے بعض شرائط بھی عائد کی گئی ہیں جو ادائیگی سے قبل پوری کرنا ہوں گی۔ جن کے تحت بجلی اور گیس مہنگی اور روپیہ سستا ہوگا۔ روپے کو کھلی مارکیٹ میں رکھا جائے گا، قیمت کیپ نہیں کی جائے گی، جس کا تعین مارکیٹ میکانزم کے ذریعے کیا جائے گا، 600سے 700ارب کے نئے ٹیکس لگانے پر بھی پاکستان نے رضا مندی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے شرائط میں نرمی کا کہا، عالمی ادارے نے انکار کردیا، اس معاہدے کا ایک ضمنی فائدہ یہ ہے کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی دو سے تین ارب ڈالر قرض دیں گے۔ پاکستان نے سٹیٹ بینک کی خود مختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی، یہ یقین بھی دلایا ہے کہ شرح سود میں اضافہ کیا جائے گا، پاکستان آئندہ بجٹ کے خسارے میں 0.6فیصد کمی لائے گا۔ حکومت معاشی اہداف کے لئے ٹیکس وصولیاں بڑھائے گی، پاکستان اقتصادی شعبے میں سڑکچرل ریفارمز متعارف کرائے گا۔

کئی ماہ سے وقفے وقفے سے جاری مذاکرات بالآخر کامیاب ہوگئے ہیں اور آخری مرحلہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری ہے جو امید ہے حاصل ہو جائے گی، کیونکہ اس کے لئے بھی فضا پوری طرح ہموار ہو چکی ہے۔ ان مذاکرات کی کامیابی کے لئے حکومت پاکستان کو بعض شرائط ماننا پڑی ہیں اور مزید کچھ مطالبات اگلے دنوں میں پورے کرنے پڑیں گے۔ ان مذاکرات کی کامیابی میں غالباً بعض شخصیات کی قربانی کا بھی بڑا عمل دخل ہے سب سے پہلے تو اسد عمر سے استعفا لے کر انہیں وزارت خزانہ سے فارغ کیا گیا اور ان کی جگہ ایک ٹیکنوکریٹ حفیظ شیخ کو درآمد کیا گیا۔ اسد عمر بھی کسی حد تک ٹیکنو کریٹ تھے بلکہ ان کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے اہل وطن کو بتایا تھا کہ ان کے پاس ایسے ایسے ہنر ہیں کہ جونہی وہ خزانے کی وزارت سنبھالیں گے مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جائیں گے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا، چنانچہ بہت سی ناکامیوں کا ملبہ ڈال کر ان کی قربانی دینا ناگزیر ٹھہرا، اب انہیں کابینہ میں واپس لانے کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ شاید آ بھی جائیں لیکن نوکری کے جو مزے وزارت خزانہ میں تھے وہ کسی دوسری جگہ کہاں، البتہ آج ہی انہیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ دوسری قربانی ”خودمختار“ سٹیٹ بینک کے گورنر کی دی گئی جنہیں استعفا مانگے جانے سے تھوڑی دیر قبل تک علم نہ تھا کہ ان سے کیا قصور سرزد ہوگیا، وہ خاموشی سے الگ ہوگئے اور ان کی جگہ بھی دساور سے ایک ٹیکنو کریٹ لایا گیا جو پہلے ہی آئی ایم ایف کا اعلیٰ عہدیدار تھا اور مصر میں خدمات انجام دے رہا تھا، تیسری قربانی ایف بی آر کے چیئرمین کی دی گئی جو ویسے ہی گھڑے کی مچھلی یعنی بیورو کریٹ تھے اور انہیں ہٹانا کوئی مسئلہ نہ تھا، ان کی جگہ نجی شعبے کے ایک ٹیکس ایکسپرٹ کو لایا گیا جو ایک چارٹرڈ فرم کے حصے دار ہیں جس کی خدمات کے دائرے میں یہ شامل ہے کہ ٹیکس گزاروں کو ٹیکس بچانے کے طریقے بتائے اب انہیں پہلی مرتبہ ایسا کام کرنا پڑے گا جس کے ذریعے ٹیکس زیادہ جمع ہو اور ٹیکس نیٹ بھی بڑھے، وہ یہ خدمت بلاتنخواہ انجام دیں گے، تاہم ان کی پہلی آزمائش ان دو مہینوں ہی میں آ پڑی ہے۔ جب ایف بی آر کو سال رواں کے ٹیکس ریونیو میں ایک بڑے شارٹ فال کا سامنا ہے، دیکھیں ان کی مہارت کس کام آتی ہے۔ یہ شارٹ فال پورا ہوگیا تو سمجھئے انہوں نے کامیابی کے پہلے زینے پر قدم رکھ دیا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی بہت سی سیڑھیاں چڑھنا پڑیں گی، لیکن پہلا کامیاب قدم سعید ثابت ہوگا انہیں ناکامی ہوئی تو وہ خود بھی کہہ چکے ہیں کہ نظام کی ناکامی ان کی ناکامی ہے۔ اتنی قربانیوں کے بعد آئی ایم ایف سے جو قرضہ ملا ہے اس کی قسطیں 39ماہ میں ملیں گی، اور ہر قسط سے پہلے دیکھا جائے گا، کون سی شرط پوری ہوئی اور کس سے اعراض کیا گیا، اس قرضے سے ہماری حکومت کی مالی مشکلات کس حد تک کم ہوتی ہیں اور عوام کے مسائل کس حد تک بڑھتے (یا کم ہوتے) ہیں اس کا اندازہ اگلے مہینوں اور برسوں میں ہوگا جب روپیہ مزید بے قدر ہو جائے گا اور لیا گیا قرضہ خود کار طریقے سے بڑھ جائے گا، مہنگائی کا ایک نیا سونامی آئے گا، یہ مزہ بہرحال چکھنا ہوگا ویسے بھی پڈنگ کا مزہ کھائے بغیر نہیں آتا۔ اس لئے مہنگائی دیکھنے کی چیز نہیں محسوس کرنے کی حقیقت ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے دوست ملکوں سے 9ارب ڈالر کے قرضے پہلے ہی لے چکی ہے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے تین تین ارب ڈالر کے قرض لئے جا چکے ہیں۔ اب آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کے قرض کا معاہدہ ہوا ہے جو اقساط میں ملے گا جو 9ارب ڈالر دوست ملکوں سے لئے گئے وہ خرچ ہو چکے ہیں یعنی قومی خزانے میں نہیں ہیں۔ اسی طرح قرض کی جو اقساط آئی ایم ایف سے ملیں گی وہ بھی ساتھ کے ساتھ خرچ ہوتی رہیں گی۔ اس سے فنڈ کی طے کردہ شرائط تو لازماً پوری ہوں گی، لیکن کیا اس سے معیشت کی بحالی میں بھی کوئی مدد ملے گی۔ اس کے بارے میں بعض ماہرین معاشیات تو پرامید ہیں بلکہ کہہ رہے ہیں کہ اگر حکومت آتے ہی آئی ایم ایف سے پیکیج لے لیتی تو زیادہ فائدہ ہوتا، لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ حکومت آتے ہی پیکیج ایسے کیسے مل جاتا جو ایڈجسٹمنٹس آئی ایم ایف کے ماہرین نے کرنی تھیں کوئی دوسرا کیسے کرسکتا تھا، ان کے بغیر تو قرضہ محال تھا۔ اب بھی ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری تک ایک سے ڈیڑھ ماہ لگ سکتا ہے اس لئے جن معیشت دانوں کا یہ خیال ہے کہ حکومت آتے ہی اگر آئی ایم ایف کے پاس چلی جاتی تو اس عرصے میں جو معاملات بگڑ گئے ہیں شاید وہ نہ بگڑتے، وہ خام خیالی ہے کیونکہ جن باتوں کا وقت مقرر ہوتا ہے وہ وقت سے پہلے کیسے ہوسکتی ہیں۔ البتہ ایسے ماہرین بھی ہیں جن کا اب بھی خیال ہے کہ نئے قرضے سے معیشت میں کوئی جان نہیں ڈالی جاسکے گی۔

آئی ایم ایف کے اس پیکیج کو ہر کوئی اپنی اپنی عینک سے دیکھ رہا ہے۔ حکومت کے نئے اقتصادی منیجروں کے لئے اس میں کامیابی یہ ہے کہ وہ آئے اور معاہدہ ہوا، ورنہ ان سے پہلے والے یہ کام نہیں کر پا رہے تھے اور گومگو کا شکار تھے۔ کہتے تھے نرم شرائط پر آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے اور اگر شرائط سخت ہوئیں تو نہیں مانیں گے، لیکن اب نرم گرم سب کچھ مانا جا چکا ہے اسی لئے حفیظ شیخ اس میں اپنی کامیابی دیکھ رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے باعث عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی دو سے تین ارب ڈالر مل جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا قرض کم شرح سود پر مل رہا ہے۔ غریب طبقے کے لئے بجلی مہنگی نہیں ہوگی۔ ملک میں سڑکچرل ریفارمز لائیں گے جس سے ملکی معیشت بہتر ہوگی۔ معیشت سے متعلق دنیا کو مثبت پیغام جائے گا، ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومتیں جو پروگرام آئی ایم ایف سے لیتی رہیں ان میں نقائص تھے۔ (گویا یہ والا پروگرام ہر قسم کے نقص سے ماورا ہے) ماضی کے پروگراموں میں اصلاحات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ کئی شعبوں میں استطاعت سے بڑھ کر خرچ کیا گیا۔ حفیظ شیخ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو بعض اشیا کی قیمتیں بھی بڑھانا ہوں گی۔ بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی،300 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو 216ارب کی سبسڈی دیں گے۔ ہماری کوشش ہوگی عام آدمی پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ وزارت خزانہ کے حکام آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں شریک کیوں نہیں تھے۔ اپوزیشن معاہدہ پارلیمینٹ میں لانے کا مطالبہ کر رہی ہے اگر ایسا ہوگیا تو شاید اس سوال کا جواب مل جائے اور مزید تفصیلات کا علم بھی ہو جائے۔ فی الحال آئی ایم ایف کے پریس ریلیز میں اجمال ہے، تفصیل نہیں ہے۔

مزید : رائے /اداریہ