جنوبی افریقہ کے مزید حالات اور تعصب کی آگ (آخری قسط)

جنوبی افریقہ کے مزید حالات اور تعصب کی آگ (آخری قسط)

اب جب کہ مَیں جنوبی افریقہ سے واپس اپنے وطن آچکا ہوں، ذہنی طور پر اب بھی جنوبی افریقہ ہی میں ہوں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس ملک کے متعلق کئی حقائق اور معلومات میرے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں۔ میرے آنے سے دو دن پہلے جنوبی افریقہ کے عام انتخابات ہو چکے تھے اور نتائج آنے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ جیسا کہ مَیں نے جائزہ پیش کیا تھا کہ کون سی جماعت جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ اے این سی نے ایک بار پھر میدان تو مار لیا ہے، لیکن اس کا گراف بہت نیچے آیا ہے اور یہ پچھلے انتخابات میں ملنے والے 62فیصد ووٹ سے پانچ فیصد کی کمی کے ساتھ اس بار 57فیصد پر آگئی ہے اور یہ تیسرا الیکشن ہے اس جماعت کی اکثریت میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ ان کے قریب ترین حریف ڈیموکریٹک الائنس کو پسند کرنے والوں میں بھی کمی آئی ہے اور ان کی 89 سیٹوں کی تعداد کم ہو کر 84 پر، جبکہ اے این سی کی سیٹوں میں 19 کی کمی ہوئی ہے اور اس بار وہ 230 سیٹوں کے ساتھ حکومت قائم کرے گی۔ ان انتخابات میں چھوٹی جماعتوں اور گروپوں کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اکنامکس فریڈم فائٹر (EFF) اور یہ جماعت 6 فیصد سے 10 فیصد پر پہنچ کر اپنی سیٹوں میں 19 کے اضافے کے ساتھ 44 سیٹیں حاصل کر کے اسمبلی میں موجود ہے۔ 

اب چلتے ہیں جنوبی افریقہ کی مجموعی صورت حال کی طرف، گو کہ نیلسن منڈیلا نے اپنی عظیم جدوجہد سے سیاہ فاموں کو کئی لحاظ سے آزادی دلا دی تھی، اسی لیے آج حکومت بھی انہی کے پاس ہے، لیکن عملی طور پر سیاہ فام آج بھی غلام ہیں اور اس کی بڑی وجہ سیاہ فاموں کی اپنی کمزوریاں ہیں۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں کر سکتے جس میں اپنے دماغ کو استعمال کرنا پڑے،یعنی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں سے بالکل عاری ہیں، اسی لیے آج بھی ہر طرح کی مزدوری ان کے حصے میں اور ہر طرح کا کاروبار اور جاگیرداری گوروں کے پاس ہے۔ ہر گورے کے پاس ملازمت کے لیے سیاہ فام مرد و خواتین موجود ہیں۔ سیاہ فام لوگ اپنی قدیم روایات کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ جدید دنیا میں شامل ہو کر اپنی حالت بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔ آبادی کا ساٹھ فیصد ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں اور بیوروکریسی میں سیاہ فاموں کی اکثریت ہے۔ گورے صرف بڑے بڑے عہدوں پر ہی فائز ہیں۔ سیاہ فام ملازمین میں بدعنوانی بہت زیادہ ہے۔  یہی وجہ ہے کہ ملک میں جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے اور کوئی کالا، گورا یا رنگ دار خود کو محفوظ نہیں سمجھتا، لوگ اپنے گھروں پر بجلی کی کرنٹ والی تاروں سمیت کئی طرح کے حفاظتی انتظامات کے ساتھ رہتے ہیں۔ جیب میں پیسے لے کر نکلنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ جنوبی افریقہ میں نسلی اور مذہبی تعصب کو دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آج کی جدید اور تعلیم یافتہ دنیا کی سوچ بھی انتہائی قدیم ہے۔ ایک طرف دنیا کو گلوبل گاؤں کہا اور پیار و محبت کی باتیں کی جاتی ہیں تو دوسری طرف دلوں میں نفرت اور فاصلے پوری آب و تاب سے موجود ہیں۔ ہر کسی کی اپنی اپنی تہذیب ہے، اپنا مذہب اور روایات ہیں۔ یہاں تک ٹھیک ہے، لیکن دوسروں کی تہذیب، رنگ و نسل اور ان کے مذہب کو کم تر سمجھنا، ان سے نفرت کرنا، اور ان سے تعصبات کی بنیاد پر دوری رکھنا آج کی دنیا کو زیب نہیں دیتا ہے۔ 

یہ بات ہمیشہ بجا طور پر کہی جاتی رہی ہے کہ مٹھی بھر یورپین گوروں نے افریقہ کے مختلف علاقوں پر اپنا قبضہ جما کر سیاہ فاموں کو غلام بنائے رکھا ہے، لیکن اس سچ کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ اگر یہ گورے افریقہ کا رخ نہ کرتے تو ہو سکتا ہے کہ سیاہ فام آج بھی جانوروں کی کھال کی چھوٹی چھوٹی لنگوٹیاں پہنے جنگلوں میں ہوتے اور جنگلی جانوروں کا شکار ہی ان کی معیشت کا واحد ذریعہ ہوتا۔ یہ یورپین گوروں ہی کا کمال ہے کہ انہوں نے افریقہ کی تپتی ہوئی سرخ مٹی کو زرخیزی میں بدل کر جنوبی افریقہ کو ایک خوبصورت اور جدید ملک بنایا ہے۔ آج بھی 95% زرعی فارم گوروں کے قبضے میں ہیں اور وہ سونے کی کانوں کے ساتھ ساتھ کھیتوں سے بھی سونا نکال رہے ہیں۔ زرعی فارم میں کنو، مالٹا، لیموں کے بہت بڑے بڑے باغ ہیں۔ اس کے علاوہ سورج مکھی، کپاس، گندم اور مکئی کی بھی بہت بڑے پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کی ریت نما سرخ مٹی میں بہت طاقت ہے۔ جنوبی افریقہ معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ سونے کی لاتعداد کانوں کے علاوہ تانبہ، لوہا اور کوئلہ بھی بہت زیادہ نکلتا ہے۔ جنوبی افریقہ کی بجلی زیادہ تر کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے، لیکن عوام کو بہت سستے داموں مہیا کی جا رہی ہے۔ جنوبی افریقہ کے بوڑھوں کو پندرہ سو رینڈ یا بارہ ہزار روپے پنشن دی جاتی ہے(جنہوں نے کوئی کام بھی نہ کیا ہو) اور تمام بچوں کو بھی وظیفہ دیا جاتا ہے۔ سرکاری محکموں میں تنخواہیں بہت معقول ہیں، لیکن نجی کاروباری اداروں میں تنخواہ کی شرح بہت ہی کم ہے۔ مقامی کالے عام طور پر تین ہزار سے پانچ ہزار رینڈ پر مزدوری کرتے ہیں، جبکہ پاکستانی عام دکانوں وغیرہ پر اوسطاً پانچ ہزار پر کام کرتے ہیں، جو پاکستانی کرنسی میں چالیس ہزار سے کچھ زیادہ بنتے ہیں، لیکن اس تنخواہ کے ساتھ رہائش اور کھانا پینا مفت ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں کاروبار کے بہت مواقع ہیں اور چھوٹے کاروباری بھی بہت خوشحال ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن کی اکثریت کے  رہن سہن کا معیار اتنا اچھا نہیں کیونکہ وہ پیسہ کما کر پاکستان بھیج دیتے ہیں اور وہ بھی ہنڈی کے ذریعے سے۔ میرے ذہن میں جنوبی افریقہ کے حوالے سے اور بھی بہت کچھ ہے۔آج اس کو یہیں سمیٹتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم