خواص سے بھی تو قربانی طلب کریں

خواص سے بھی تو قربانی طلب کریں

پاکستان کو درپیش معاشی مسائل کا کوئی بامقصد حل ماہرین ابھی تک تو تلاش نہیں کر سکے ہیں۔ البتہ وہ ہی گھسا پٹا فارمولا کہ بجلی اور گیس کے نرخ بڑھا دو، مختلف عوامی ضرورتوں پر حکومت کی سبسیڈی ختم کر دی جائے، ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے وغیرہ۔ یہ وہ شرائظ ہیں جن پر عمل در آمد کی یقین دہانی کے بعد پاکستان کو قرضہ ملے گا۔ آئی ایم ایف کبھی انکار نہیں کرتا کہ قرضہ نہیں دے گا۔ اس کے ملازمین کی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ ”گاہک“ ملکوں کو گھیرے رکھے۔ امیدوں کے سہارے زندہ رکھیں۔ آئی ایم ایف کی مثال یوں ہے کہ پاکستان میں سود خور کبھی انکار نہیں کرتا ہے کہ وہ اپنی مزید رقم سود پر نہیں لگائے گا۔ اس کا تو اصرار ہوتا ہے کہ پیسہ لے جاؤ بس سود کی ادا ئیگی یقینی بناؤ۔ آئی ایم ایف کو بھی یہ ہی غرض ہوتی ہے۔ قرضہ جتنا چاہو لے لو، بس ہمارا سود ہمیں ادا کرتے رہو۔ آئی ایم ایف سے جاں خلاصی مشکل کام ہے۔ کوئی ملک یہ جسارت نہیں کرتا کہ آئی ایم ایف کو دو ٹوک الفاظ میں کہہ دے کہ ہم آپ کو سود ادا نہیں کریں گے۔ آپ کو اپنی سہولت کے مطابق قرضہ کی اصل رقم واپس کرتے رہیں گے۔ پاکستان پر جو بھی قرضہ ہے وہ ادا ہونا بظاہر مشکل ہے۔ پاکستان اپنی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ نہیں کر پاتا تب تک تو بہت مشکل ہے۔ وہ اپنی برآمدات میں اضافہ کے لئے بڑا ہدف پورا نہیں کرتا۔

جتنے اہم افراد ہیں جو کسی نہ کسی حیثیت سے حکومت، حزب اختلاف یا مالیاتی اداروں سے جڑے ہوئے ہیں، عوام کو رات دن خوفزدہ کرتے ہیں کہ مہنگائی بڑھ جائے گی، عوام کی چیخیں نکل جائیں گی، عوام کے لئے آنے والا وقت بہت سخت ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔ جب حکومت آئی ایم ایف کی شرائظ پر قرضہ حاصل کرے گی تو شرائط پر عمل در آمد کی وجہ سے تو مہنگائی میں اضافہ ضرور ہوگا۔ بس لے دے کر ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ عوام اخراجات میں کمی کریں۔ اب تو یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عوام اپنا لائف اسٹائل تبدیل کریں۔ شکر ہے کوئی یہ نہیں کہتا کہ بغیر کپڑوں کے رہا کرو۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تو ہونا تھا سو ہو گیا۔ حفیظ شیخ کا نسخہ استعمال ہو گیا۔ گزشتہ تیس سالوں میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے تیرہواں پیکیج لیا ہے۔ تیس سالوں میں پاکستان نے اپنا تو نہ کچھ کمایا اور نہ ہی کچھ کھایا۔ آئی ایم ایف سے ہٹ کر ذرا اپنے گھر کو بھی تو درست کرنے کا سو چنا ہوگا۔

پہلے سوشل میڈیا پر گردش میں ایک واقعہ پڑھتے ہیں کہ کسی زمیندار کی بھینس نے دودھ دینا بند کر دیا، زمیندار بڑا پریشان ہوا، اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا،ڈاکٹر نے ٹیکے لگائے،لیکن کوئی فرق نہ پڑا،تھک ہار کر وہ بھینس کو شاہ جی کے پاس لے گیا،شاہ جی نے دھونی رمائی، دم کیا، پھونک ماری،لیکن وہ بھی بے سود رہی، بھینس کو کوئی فرق نہ پڑا۔ اس کے بعد وہ بھینس کو کسی سیانے کے پاس لے گیا،سیانے نے دیسی ٹوٹکے لگائے، لیکن وہ بھی بیکار ثابت ہوئے، آخر میں زمیندار نے سوچاکہ شاید اس کا کھانا بڑھانے سے مسئلہ ٹھیک ہو جائے تو وہ اسے ماں جی کی خدمت میں لے گیا،ماں نے خوب کھل بنولہ کھلایا، پٹھے کھلائے، کسی چیز کی کسر نہ چھوڑی، لیکن بھینس نے دودھ دینا شروع نہ کیا۔لاچار ہو کروہ اسے قصائی کے پاس لے کر جانے لگاکہ یہ اب کسی کام کی نہیں توچلو ذبح ہی کروا لوں،راستے میں اسے ایک فقیر ملا۔ وہ بولاپریشان لگتے ہو،زمیندار نے اپنی پریشانی بیان کی، فقیر نے کہا ”تم کٹا کہاں باندھتے ہو“، زمیندار بولابھینس کی کھْرلی کے پاس۔ فقیر نے پوچھا ”کٹے کی رسی کتنی لمبی ہے؟“ زمیندار بولا ”کافی لمبی ہے“ فقیر نے قہقہہ لگایا اور بولا سارا دودھ تو کٹا چْنگ کرجاتا ہے۔ تمھیں کیا ملے گا،کٹے کو بھینس سے دور باندھو۔

پاکستان میں موجود”کٹوں“ کا حال دیکھیں۔ سب کی رسی دراز ہے۔ سب ہی دودھ چنگ کر جاتے ہیں۔ شور مہنگائی کا، سرکاری محکموں کی بد انتظامی کا، ڈالر کی قیمت میں اضافہ کا کیا جاتا ہے۔ کٹوں کی رسی کھینچ کر رکھیں دیکھیں معیشت کیسے بہتر ہوتی ہے۔ شوکت تریں ہو، شوکت عزیز ہو، حفیظ شیخ ہو،یا دیگر لوگ محکمہ خزانہ بتائے ان لوگوں کی ذات پر حکومت پاکستان کو ماہانہ خرچ کیا ہوتا تھا یا کیا ہو رہا ہے۔ حکومت نے شبر زیدی نامی صاحب کو ٹیکس جمع کرنے والے ادارے کا سربراہ بنایا ہے۔ موصوف کہتے ہیں کہ وہ بغیر تن خواہ کے کام کریں گے۔ بغیر تن خواہ کے وہ جب کام کریں گے تو خود وہ اور ان کے اہل خانہ کھائیں پیئں گے کہاں سے۔ اگر وہ اتنے ہی بڑے زمیندار ہیں تو حکومت پاکستان کو بتائیں کہ وہ پاکستان میں ٹیکس میں کتنا اضافہ کر سکیں گے؟ حکومت نے جتنی تبدیلیاں کی ہیں، نئے مقرر کر دہ لوگوں سے تحریر حاصل کی جائے کہ وہ کتنی مثبت تبدیلی کتنے عرصے میں لے آئیں گے اور وہ تبدیلی نہ لا سکے تو وہ کیا جرمانہ ادا کریں گے؟ پاکستان میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی کل تعداد 1174ہے۔ سینیٹرز 104، قومی اسمبلی ممبران 342، صوبائی اسمبلی ممبران 728۔ کل ممبران کی تعداد 1174۔ کسی نے غور کیا ہے کہ ان اراکین کی تن خواہ، مراعات، سہولتیں وغیرہ پر پاکستان کو کیا خرچ آتا ہے، وہ رقم کہاں سے کس طرح پوری ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کی 50 کمیٹیاں ہیں، اور ہر کمیٹی کا ایک چیئرمین ہے۔ہر چیئرمین کے ذاتی دفتر کی تیاری پر 1994 میں دو دو کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ہر چیئرمین ایک لاکھ سترہزار روپے ماھانہ تنخواہ لیتا ہے،اسے گریڈ 17 کا ایک سیکرٹری،گریڈ 15 کا ایک سٹینو،ایک نائب قاصد، 1300 سی سی گاڑی۔ 600 لیٹر پٹرول ماھانہ، ایک رھائش، رھائش کے سارے اخراجات بل وغیرہ اس کے علاوہ ملتے ہیں اس کے علاوہ اجلاسوں پر لگنے والے پیسے،دوسرے شہروں میں آنے جانے کے لئے ہوائی جہاز کے ٹکٹ وغیرہ۔ عوام کی خدمت کے نام پر منتخب ہونے والوں کو تن خواہیں کیوں دی جاتی ہیں۔ کیا رہائش اور کھانے پر یہ لوگ خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ ریل گاڑی سے سفر کی سہولت دی جائے۔ جب تک پاکستان معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوتا، ان سے اتنی قربانی تو حاصل کی جاسکتی ہے؟ حکومت خود ہی کہتی ہے کہ عوام کو دو سال مشکل کا سامنا رہے گا، یہ دو سال عوام سے نہیں خواص سے قربانی حاصل کی جائے۔ ان کمیٹیوں کو ختم کیا جائے، سرکاری محکموں کو ایک دوسرے میں ضم کیا جائے۔ سرکاری افسران کی تعداد کم سے کم کی جائے۔ وفاقی اور صوبائی وزراء، مشیر، معاون خصوصی کی تعداد کو مختصر کیا جائے۔ وزیراعظم یقین رکھیں کہ 47 افراد پر مشتمل کابینہ وغیرہ کی بجائے 17 افراد سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔

محتاط تخمینہ ہے کہ ان کمیٹیوں کی برائے نام کارکردگی پر ہر سال خطیر رقم خرچ ہو جاتی ہے، ان کی کارکردگی سے عوام کو کوئی فائدہ ہوا ہے تو بتائے۔ اسی طرح اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں پر پاکستان کو ہر سال کتنی خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے، کارکردگی کیا ہے۔ دولت مند، نو دولتیوں، نام نہاد بڑے خاندانوں کے یہ لوگ جس طرح جیم خانہ یا کلبوں میں جاتے ہیں اسی طرح سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں آتے ہیں، ایک دوسرے پر بے مقصد الزام تراشی کرتے ہیں، جمہویت کے نام پر اپنی تقاریر کی دھاک بٹھاتے ہیں، اور پاکستان کے خرچ پر کھانے کھاتے ہیں اور پاکستان کے خرچ پر ہی فراہم کردہ مکانات میں جا کر سو جاتے ہیں“ …… اس تماش گاہ میں عوام کو یہ نصیحت کہ وہ اخراجات میں کمی کریں، عام سی بات ہے، مہنگائی، مشکلات، مصائب، وغیرہ عوام کے لئے ہیں۔ حکومت کو نظر نہیں آتا کہ صدر پاکستان، گورنر حضرات، وزیراعظم، وزراء، وزرائے اعلیٰ، اعلیٰ عہدوں پر فائز تمام اداروں کے افسران، جب تک اپنے اخراجات میں وا ضح کمی نہیں کرتے، ایسی کمی جو عوام کو نظر بھی آئے، اس وقت تک عوام کو نصیحت کرنے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ پیٹ پر پتھر باندھنے اور کفایت شعاری کے لئے، مہنگائی برداشت کرنے، وغیرہ جیسے گھسے پٹے ”اقوال زریں“ صرف عوام کے لئے ہی کیوں ہیں۔ کیا خواص لوٹتے ہی رہیں گے؟

مزید : رائے /کالم