سرکاری ہسپتالوں میں جزا و سزا کا ا نظام: ایک مشکل ٹاسک

سرکاری ہسپتالوں میں جزا و سزا کا ا نظام: ایک مشکل ٹاسک

کپتان کی یہ خوبی بے مثال ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی ایسی بات کر جاتے ہیں،جس سے کچھ دن کے لئے عوام نہال ہو جاتے ہیں،اُن کی بات پر عمل ہو نہ ہو یہ تاثر ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کپتان جی کچھ کرنا ضرور چاہتے ہیں،لیکن حالات نہیں کرنے دیتے۔ اب انہوں نے درحقیقت ایک اور چھکا لگایا ہے۔ شوکت خانم کی فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں میں جزا و سزا کا نظام رائج کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم سرکاری ہسپتالوں میں ایک ایسا انتظامی نظام لانا چاہتے ہیں،جس کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح پرائیویٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ کارکردگی پر اُن کی ترقی اور بری کارکردگی پر تنزلی یا گو شمالی ہو گی،اُسی طرح سرکاری ہسپتالوں کا نظام بھی اسی جزا و سزا کے فلسفے پر چلے گا،یعنی عمران خان نے بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی۔اب اتنا بڑا راز منکشف کرنے کے بعد کیا وہ واقعی یہ نظام سرکاری ہسپتالوں میں رائج کر پائیں گے؟……آج کل پنجاب کے ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹر پھر ہڑتال پر ہیں۔شاید وہ یہ سمجھتے رہے کہ حکومت جو نیا نظام لانا چاہتی ہے وہ ہسپتالوں کی نجکاری کا نظام ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پنجاب کے ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کی جا رہی،بلکہ اُن کا نظام تبدیل کیا جا رہا ہے۔یہ راز فاش کر کے تو انہوں نے ینگ ڈاکٹروں کو مزید چوکنا کر دیا ہے، اب تو وہ کسی صورت ہسپتالوں کو نہیں چلنے دیں گے،جب تک وزیراعظم نظام کی تبدیلی کا فیصلہ واپس نہیں لیتے،کیونکہ انہوں نے عملاً سرکاری ہسپتالوں کو ہائی جیک کر رکھا ہے اور اُن کی آڑ میں سینئر ڈاکٹروں نے اِن ہسپتالوں کو مریض پھانسنے کی شکار گاہیں بنایا ہوا ہے۔یہ حکم کیسے نافذ ہو گا اور اس نظام کو کیسے چلنے دیا جائے گا؟ یہ کپتان ہی بتا سکتے ہیں۔

البتہ عوام کے نقطہ ئ نظر سے یہ ایک بہت بڑا اعلان ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں،دیکھتے ہیں کہ ان ہسپتالوں میں غفلت اور انسانی جان کی بے قدری کا عالم کیا ہے،آئے روز لواحقین دہائیاں دیتے ہیں کہ اُن کا مریض ڈاکٹروں کی غفلت اور مجرمانہ لاپروائی کی وجہ سے مر گیا، ہر طرف ہاہا کار مچتی ہے، لڑائیاں ہوتی ہیں، کبھی لواحقین اور کبھی ڈاکٹروں کے سر پھٹ جاتے ہیں، ایک انکوائری کمیٹی بنتی ہے، جو صرف وقتی اشتعال ختم کرنے کے لئے ہوتی ہے،اُس کے بعد کمیٹی کی انکوائری کا پتہ چلتا ہے اور نہ کسی کارروائی کی خبر ملتی ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہسپتالوں کی انتظامیہ ڈاکٹروں کے سامنے بے بس ہے، وہ ایک بے جان گھوڑا ہے،جس میں بھاگنا تو درکنار چلنے کی سکت بھی نہیں،یوں سرکاری ہسپتال بقول شخصے بوچڑ خانے بن گئے ہیں، جہاں لوگ مریض کو لے جاتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں،ایسے میں اس امر کی اشد ضرورت تو ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں جزا و سزا کا نظام رائج کیا جائے۔ سبھی ڈاکٹروں کو ایک ہی آنکھ سے نہ دیکھا جائے،کیونکہ یہ فطرت کے خلاف ہے، جو اچھا کام کرے، ذمہ داری نبھائے، انسانی جانوں پر سیاست نہ چمکائے، اُسے جلد ترقی بھی ملنی چاہئے اور مراعات بھی، جو اس کے برعکس کارکردگی دکھائے اُسے جوابدہی کے مرحلے سے گذارا جائے، مگر پاکستان میں ہوتا کیا ہے۔ ایک بار جو سرکاری ملازمت میں آ جاتا ہے، وہ کچھ کرے نہ کرے، ساٹھ برسوں تک قوم کے سینے پر مونگ ضرور دلتا رہتا ہے۔یہ صرف ہسپتالوں کا معاملہ نہیں، بلکہ ہر سرکاری شعبے میں یہی صورتِ حال ملے گی۔ سوائے فوج کے ہر جگہ سنیارٹی کے حساب سے ترقیاں ہوتی چلی جاتی ہیں۔بیورو کریسی نے اپنے لئے کورسز اور امتحانی نظام وضع کر رکھا ہے،مگر وہ ایسا نہیں کہ افسر کی فیلڈ میں کارکردگی یا عمومی شہرت سے منسلک ہو۔ عوام کے ساتھ وہ جو کچھ بھی کرے، کوئی گرفت نہیں۔البتہ نیپا کے کورسز اُسے پاس کرنا ضروری ہیں،جو آسانی سے پاس ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ کورسز کم اور تفریحی دورے زیادہ ہوتے ہیں۔

اس خیال کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ سرکاری ہسپتالوں کے سینئر ڈاکٹروں نے ان ہسپتالوں کی حالت بگاڑی ہے۔آپ کسی بھی بڑے شہر کے معروف پرائیویٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی فہرست چیک کریں،اُن میں سے اکثریت اُن ڈاکٹروں کی ہو گی،جو سرکاری ہسپتالوں میں سینئر پوسٹوں پر موجود ہیں۔اب یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا مفت علاج یا آپریشن کریں،جبکہ شام کو،بلکہ کئی ڈاکٹر تو دن کو بھی مہنگی فیسیں لے کر پرائیویٹ علاج کرتے ہیں۔ وہ سرکاری ہسپتالوں میں ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ مریض پرائیویٹ طور پر انہی سے علاج کرانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مَیں آپ کو ملتان کے نشتر ہسپتال کی مثال دیتا ہوں۔بہت بڑا ہسپتال ہے اور اس جیسی مشینری،آپریشن تھیٹر اور لیبارٹریاں پورے جنوبی پنجاب کے کسی پرائیویٹ ہسپتال میں بھی موجود نہیں،مگر اس کی اکثر سی ٹی سکین مشین خراب رہتی ہے،یا ایکسرے نہیں ہوتے،پتھالوجی لیب کام نہیں کرتی یا پھر ادویات نہیں ملتیں، کوئی سینئر ڈاکٹر آؤٹ ڈور وارڈ میں دستیاب نہیں ہوتا،حالانکہ سب کے نام کی تختیاں اُن کے کمروں پر لگی ہوتی ہیں۔ یہ تختیاں صرف مریض پھانسنے کا ذریعہ ہیں تاکہ وہاں سے مریض مایوس ہو کر نشتر کے سامنے یا کسی پرائیویٹ ہسپتا ل میں اُن کے حضور پیش ہو جائے۔ یہ بددیانتی کی انتہا ہے، چونکہ جس وقت کی آپ تنخواہ لیتے ہیں، وہ آپ اگر ہسپتال کو نہیں دیتے تو اپنی روزی کو حرام کرتے ہیں،مگر اتنی اخلاقیات اب اس معاشرے میں کہاں رہ گئی۔جب سے وائی ڈی اے بنی ہے، یعنی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، اِن سینئر ڈاکٹروں کی موج ہو گئی ہے۔ یہ نوجوان ڈاکٹر، جنہیں سرکاری ڈاکٹروں کے بارے میں عوام کے منفی تاثر کو زائل کرنا چاہئے تھا، معمولی معمولی باتوں پر ہڑتال کر دیتے ہیں۔سینئر ڈاکٹر جو کہ ان کے اساتذہ ہیں، انہیں سمجھانے کی بجائے خوش ہوتے ہیں کہ اُن کے پرائیویٹ کلینک اور ہسپتال مزید آباد ہو گئے ہیں۔

اب گزشتہ روز ہی نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عاشق حسین ملک کی اینٹی کرپشن عدالت سے ضمانت خارج ہوئی ہے اور وہ پولیس کے ہتھے چڑھنے سے پہلے احاطہ ئ عدالت سے فرار ہو گئے۔ یہ کیس آج سے نہیں عرصہئ دراز سے چل رہا ہے۔ شہباز شریف کے زمانے میں موصوف کو کرپشن کے الزامات پر معطل کیا گیا، تاہم تحریک انصاف کی شفاف حکومت آئی تو موصوف دوبارہ نشتر ہسپتال کے ایم ایس تعینات ہو گئے،حالانکہ کرپشن کیس بھی موجود تھا،اب عبوری ضمانت خارج ہونے پر فرار کے بعد وہ ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت لے کر پھر اسی پوسٹ پر براجمان رہیں گے۔ کیا یہ حکومت کی نااہلی، سیاسی اقربا پروری نہیں کہ ایک کرپٹ شخص کو بار بار انتظامی عہدے دے رہی ہے۔کیا ایسا شخص ایک بڑے ہسپتال کو ٹھیک کرنے کے لئے کوئی جرأت مندانہ فیصلہ کر سکتا ہے؟اگر نئے انتظامی نظام میں بھی اقربا پروری کا یہی سلسلہ جاری رہا تو کیا بہتری کی کوئی امید رکھی جا سکے گی؟بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حالت میں صحت کا سرکاری شعبہ عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔اربوں روپے کا بجٹ سرکاری ہسپتالوں کے لئے ہر سال مختص کیا جاتا ہے،مگر یہ کہاں جاتا ہے کسی کو کچھ خبر نہیں۔ادویات خریداری کی مد میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود مریضوں کو عام دوائی بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ سرکاری ادویات میڈیکل سٹوروں پر بکتی ہیں۔اب اس کی اشد ضرورت تو ہے کہ حکومت اگر ا پنی بنیادی آئینی ذمہ داری ادا کرنا چاہتی ہے کہ عوام کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرے گی تو اِن سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کرے۔ اگر اس سیکٹر کا انتظامی ڈھانچہ ٹھیک نہیں ہوتا تو آپ اسے موجودہ بجٹ سے دوگنا بجٹ بھی دیں گے تو ایک دھیلے کی بہتری نہیں آئے گی، شاید اسی لئے کپتان نے سرکاری ہسپتالوں کو درست کرنے کا بیڑہ اُٹھایا ہے،لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں،بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔سرکاری کے ساتھ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بیٹھے سرمایہ کار اور ڈاکٹر بھی نہیں چاہیں گے کہ یہ تبدیلی آئے اور سرکاری علاج گاہوں کے انتظامی معاملات جزا و سزا کے نکتے پر استوار ہوں۔ وہ تو یہی چاہیں گے، بدانظامی رہے تاکہ ان کا کاروبار چلے،لیکن غریب عوام کو اس فیصلے پر عملدرآمد سے ایک بہت بڑا ریلیف ملے گا،جن کے پاس پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے کی سرے سے استطاعت ہی موجود نہیں، اکثر کو تو گھر کا سامان بیچ کر علاج کے اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم