جب تیراشے شہر سے گزرتا ہوں!

جب تیراشے شہر سے گزرتا ہوں!

عبدالمجید خان میرے قرابت دار بھی ہیں اور سکول فیلو بھی۔ میٹرک کرنے کے بعد وہ تو اپنی زمینداری میں مصروف ہو گئے اور ہم نے نوکری کو پیشہ بنا لیا۔ والد مرحوم اس نوکری کو ”نکھد“ کہا کرتے تھے:

اُتّم کھیتی، مدھم بیوپار

نکھد چاکری، بھیک دوار

لیکن ہر کوئی تو زمیندارہ نہیں کر سکتا۔ یہ قانونِ فطرت ہے، کوئی یہاں، کوئی وہاں، کوئی اوپر، کوئی نیچے، کوئی بڑا، کوئی چھوٹا……میرے اور مجید خان کے درمیان کئی دلچسپیاں مشترک تھیں بالخصوص فنونِ لطیفہ کی ذیل میں تو وہ میرا مثنّیٰ تھے۔ میری طرح ان کو بھی اردو، فارسی، انگریزی سے لگاؤ ہے۔ نہ صرف اچھے شعر شناس ہیں بلکہ خود اچھے گلوکار بھی ہیں۔ ایک دن ان کا فون آیا کہ اگر ہو سکے تو ایک پرانی پاکستانی فلم ”وعدہ“ کا ایک گانا ضرور بھیجیں۔ دراصل ان کی دونوں آنکھوں میں سفید موتیا کا جب آپریشن ہوا تھا تو ان کی بینائی گھٹ کر تقریباً تیسرا حصہ رہ گئی۔ اسی سبب سے موبائل (گوگل) پر زیادہ ”دیدہ ریزی“ نہیں کرتے۔ چونکہ ان سے کافی کھل کھلا کر بات چیت کر لیتا ہوں اس لئے میں نے ان کو اس گیت کے بارے میں جو خط لکھا وہ اس لئے قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ بعض حضرات جو میری عمر اور میرے ذوق کے دمساز ہوں گے، ان کو معلوم ہوگا کہ پاکستانی فلمی گیتوں کا ایک گیت نگار ہمارے دوسرے کئی نغمہ نگاروں (مثلاً قتیل شفائی، حزیں قادری، بابا عالم سیاہ پوش اور دوسرے) کی صف میں کتنا ممتاز مقام رکھتا تھا…… اور دوسرے جس طرح نادر کاکوروی کی وہ ترجمہ شدہ نظم: ”اکثر شبِ تنہائی میں“…… جو اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتی ہے، اسی طرح اس فلمی گیت کی بھی ایک تاریخ ہے جو نغمہ نگار کے بلند مقامِ شعرگوئی کی غماز ہے۔ وہ فلمی گیت تو صرف چند شعروں کا ہے لیکن باقی نظم میں شاعر نے جن تاثرات کو شعر کے قالب میں ڈھالا ہے، وہ لائقِ صد تحسین ہے۔ شائد قارئین بھی اسے پسند کریں اس لئے مجید خان کو لکھا گیا خط اور وہ نظم حاضر ہے:

عزیزم مجید خان صاحب

السلام علیکم! اس دن آپ نے فلم ”وعدہ“ کے ایک گیت کا ذکر کیا تھا اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو اس گیت کے باقی اشعار بھیج دوں گا۔…… اس کے پیچھے ایک ذاتی کہانی بھی ہے……یہ اس فلم کا گیت ہے جو 1957ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ وہ میرے عنفوانِ شباب کا زمانہ تھا اور ایک ایسا دور تھا جس کے بارے میں کسی شاعر نے حکم لگا رکھا ہے:

محبت میں اک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر

ستاروں کی چمک سے چوٹ پڑتی ہے رگِ جاں پر

تمناؤں کی آندھیاں چلتی تھیں اور آرزوؤں کے طوفان امنڈتے رہتے تھے۔ میں گرد و پیش سے بے نیاز بس اپنی دھن میں مست رہتا تھا۔ خبر نہیں کہاں سے 10آنے اکٹھے کئے اور ”وعدہ“ دیکھنے کے لئے سنیما کا رخ کیا۔ اس میں سنتوش اور صبیحہ لیڈنگ رول میں تھے۔ میرے ذہن پر انڈین فلموں کے گانے، دھنیں، سکرپٹ، ڈائلاگ اور مناظر وغیرہ چھائے رہتے تھے۔وہ دلیپ، مینا کماری، لتا، محمد رفیع، طلعت محمود، مدھو بالا، نمی اور دوسرے درجنوں فلمی ستاروں کے عروج کا دور تھا …… اس پاکستانی فلم ”وعدہ“ میں سنتوش کمار نے گلابی رنگ کی خانہ دار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ میں نے اپنے ٹیلر ماسٹر اللہ رکھا کو لے جا کر وہ فلم دکھلائی اور کہا کہ اس طرح کی ہو بہو قمیض سی دو۔ بڑی مشکل سے کسی دکان سے وہ کپڑا ڈھونڈا اور چیک دار قمیض اور ملیشیاء (مزری) کی پینٹ سلوا کر نیچے سفید فلیٹ (پی ٹی شوز) پہنے جو میں والی بال کھیلتے ہوئے پہنا کرتا تھا۔ اس فلم کا یہ گیت:

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

دیکھتے ہی دیکھتے ایک نغمہ ء کوچہ و بازار (Street Song) بن گیا۔ شفاعت علی کی آواز میں محمد رفیع اور دوسرے ہندوستانی فلمی گلوکاروں کی سی کھنک تو نہیں تھی لیکن ایک عجیب سا درد تھا، ایک سوز تھا جو گانے کے بولوں کی مجسم عکاسی کرتا تھا اور فلم کی کہانی میں سچوایشن کا سو فی صد ترجمان تھا۔ مجھے بھی ان دنوں بڑی شدت سے کسی صبیحہ کی تلاش رہتی تھی اور گلی کی ہر نکڑ پر ایک صبیحہ نظر آیا کرتی تھی! سوچتا ہوں پاگل پن کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے۔ اس دور میں مجھے معلوم نہ تھا کہ سیف الدین سیف بھی اتنا ہی بڑا شاعر تھا جتنا بڑا ساحر لدھیانوی تھا۔ لیکن سیف کو نہ محمد رفیع میسر آیا، نہ لتا اور نہ ہی نوشاد جیسا موسیقار ملا۔ لیکن ہمارے رشید عطرے کا ان دنوں طوطی بولتا تھا۔ پھر بھی کہاں شرافت علی اور کہاں محمد رفیع صاحب؟…… لیکن عطرے نے بہت کوشش کی کہ اس گیت کی دھن میں ایسی مرکیاں ویلڈ کی جائیں جن سے تاثیر کی کیفیت میں اضافہ ہو۔ بالی وڈ میں ان دنوں دلیپ اور مدھو بالا کا معاشقہ زوروں پر تھا اور لالی وڈ میں سنتوش اور صبیحہ بھی اسی ”صراطِ مستقیم“ پر گامزن تھے۔ اول الذکر جوڑے کا انجام حزنیہ نکلا اور موخر الذکر کا طربیہ…… یہ شائد ان ایام میں فلم بینوں کی ڈیمانڈ بھی ہوتی تھی۔ انڈین فلم بین، ٹریجڈی کے رسیا تھے اور ہم پاکستانی، کامیڈی کو ترجیح دیتے تھے …… یعنی ہونہار بروا کی چکنے چکنے پات۔

خیر میں آپ کو زیادہ بور نہیں کروں گا…… ہاں ایک بات ضرور بتاؤں گا جس کا علم شائد آپ کو نہیں۔ سیف نے اس فلم ”وعدہ“ کے لئے جو گیت لکھا اس سے بہت پہلے ان کی ایک نظم منظر عام پر آ چکی تھی۔ جس کا عنوان یہی مکھڑا تھا: جب ترے شہر سے گزرتا ہوں …… کہا جاتا ہے کہ فلم کے پروڈیوسر ڈبلیو زیڈ احمد نے سیف کی اس نظم سے متاثر ہو کر ہی یہ فلم بنائی تھی۔ وہ چونکہ انڈیا سے انہی دنوں (1950ء کی دہائی کے اوائل میں) پاکستان آئے تھے اس لئے ان پر انڈین موسیقی، شاعری، اداکاری اور کہانی کی گہری چھاپ تھی۔ کہتے ہیں ”وعدہ“ کے سکرپٹ میں بھی انہوں نے طربیہ انجام (END) کو حزنیہ انجام میں تبدیل کرنے کا فیصلہ اسی سبب سے کیا تھا۔ اس فلم نے گولڈن جوبلی منائی اور برسوں تک اس کے چرچے ہوتے رہے…… تاہم سیف کی وہ نظم جس میں سے یہ گیت ”نکالا“ گیا اردو ادب میں ایک درخشاں اضافہ تھی جس میں غزل کی سی جذباتیت کا غلبہ تھا…… میں وہ نظم یہاں لکھ رہا ہوں تاکہ آپ کو سیاق و سباق کی پوری سمجھ آ سکے!

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

کس طرح روکتا ہوں اشک اپنے

کس قدر دل پہ جبر کرتا ہوں

آج بھی کار زارِ ہستی میں

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

اس قدر بھی نہیں مجھے معلوم

کس محلے میں ہے مکاں تیرا

کون سی شاخِ گل پہ رقصاں ہے

رشکِ فردوس، آشیاں تیرا

جانے کن وادیوں میں اترا ہے

غیرتِ حسن، کارواں تیرا

٭ دل بھی کرتا ہے یاد چھپ کے تجھے

٭ نام لیتی نہیں زباں تیرا

٭ کس سے پوچھوں گا میں خبر تیری

٭ کون بتلائے گا نشاں تیرا

٭ تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

٭ حالِ دل بھی نہ کہہ سکا گرچہ

٭ تو رہی مدتوں قریب مرے

کچھ تری عظمتوں کا ڈر بھی تھا

کچھ خیالات تھے عجیب مرے

آخرِ کار وہ گھڑی آئی

بارور ہو گئے رقیب مرے

٭ تو مجھے چھوڑ کر چلی بھی گئی

٭ خیر، قسمت مری، نصیب مرے

٭ اب میں کیوں تجھ کو یاد کرتا ہوں

جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں

٭ گو زمانہ تری محبت کا

٭ ایک بھولی ہوئی کہانی ہے

تیرے کوچے میں عمر بھر نہ گیا

ساری دنیا کی خاک چھانی ہے

لذّتِ وصل ہو کہ زخمِ فراق

جو بھی ہو تیری مہربانی ہے

٭ کس تمنا سے تجھ کو چاہا تھا

٭کس محبت سے ہار مانی ہے

٭اپنی قسمت پہ ناز کرتا ہوں

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

اشک پلکوں پہ آ نہیں سکتے

دل میں ہے تیری آبرو اب بھی

تجھ سے روشن ہے کائنات مری

تیرے جلو ے ہیں چار سو اب بھی

اپنے غم خانہ ء تخیل میں

تجھ سے ہوتی ہے گفتگو اب بھی

تجھ کو دیرانہ ء تصور میں

دیکھ لیتا ہوں روبرو اب بھی

اب بھی میں تجھ سے پیار کرتا ہوں

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

٭ آج بھی کار زارِ ہستی میں

٭ تو اگر ایک بار مل جائے

کسی محفل میں سامنا ہو جائے

یا سرِ رہگزار مل جائے

اک نظر دیکھ لے محبت سے

ایک لمحے کا پیار مل جائے

٭ چین آ جائے آرزوؤں کو

٭ حسرتوں کو قرار مل جائے

٭ جانے کیا کیا خیال کرتا ہوں

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

آج میں اس مقام پر ہوں جہاں

رسن و دار کی بلندی ہے

میرے اشعار کی لطافت میں

تیرے کردار کی بلندی ہے

تیری مجبوریوں کی عظمت ہے

میرے ایثار کی بلندی ہے

سب ترے دَرد کی عنائت ہے

سب ترے پیار کی بلندی ہے

تیرے غم سے نباہ کرتا ہوں

جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں

تجھ سے کوئی گلہ نہیں مجھ کو

میں تجھے بے وفا نہیں کہتا

تیرا ملنا خیال و خواب ہوا

پھر بھی ناآشنا نہیں کہتا

٭ وہ جو کہتے ہیں مجھ کو دیوانہ

٭ میں انہیں بھی بُرا نہیں کہتا

٭ ورنہ اک بے نوا، محبت میں

٭ دل کے لٹنے پہ کیا نہیں کہتا

٭ میں تو مشکل سے آہ بھرتا ہوں

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

٭ کوئی پرسانِ حال تو کہوں

٭کیسی آندھی چلی ہے تیرے بعد

٭ دن گزارا ہے کس طرح میں نے

٭ رات کیسے ڈھلی ہے تیرے بعد

شمعِ امید صرصرِ غم میں

کس بہانے جلی ہے تیرے بعد

جس میں کوئی مکیں نہ رہتا ہو

دل وہ سُونی گلی ہے تیرے بعد

٭روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

لیکن اے ساکنِ حریمِ خیال

یاد ہے دورِ کیف و کم، کہ نہیں

کہ کبھی ترے دل میں گزرا ہے

میری محرومیوں کا غم،کہ نہیں

میری بربادیوں کا سن کر حال

آنکھ تیری ہوئی ہے نم، کہ نہیں

اور اس کارزارِ ہستی میں

پھر کبھی مل سکیں گے ہم، کہ نہیں

ڈرتے ڈرتے سوال کرتا ہوں

جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں

نوٹ:اس نظم سے فلم کے پروڈیوسر(یا ڈائریکٹر) نے جن مصرعوں کو گیت کا حصہ بنایا تھا ان کے سامنے سٹار لگا دیا گیا ہے۔

مزید : رائے /کالم