سرکاری ہسپتال توجہ کے منتظر

سرکاری ہسپتال توجہ کے منتظر

گزشتہ دنوں ایک معروف سرکاری ہسپتال میں کسی مریض کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔حسب ِمعمول بے پناہ رش تھا۔مریضوں کی لمبی لمبی قطاریں بنی ہوئی تھیں۔جس جی بدولت وہ اپنی فائل اور پرچی بنوانے میں مصروف تھے۔میں نے بھی اپنے ساتھ موجود مریض کے لیے فائل بنوائی اور تقریباً سوا گھنٹے بعد معدے کے مرض میں مبتلا مریض کی فائل بنی۔ٹوکن کے لیے پھر ایک لمبی قطار کا انتظار کرنا پڑا۔ٹوکن حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر کے بارے معلومات ملی کہ وہ دس تا ساڑھے دس تک آئیں گے انتظار پھر طویل ہوگیا۔اچانک اطلاع ملی کہ ڈاکٹر صاحب آج نہیں بیٹھیں گے کیونکہ وہ ڈاکٹرز کی ہڑتال میں شامل ہیں۔سب مریضوں سے جانے کا کہہ دیا گیا کہ آپ لوگ کل آئیں۔میں بھی اپنے مریض کو لے کر واپس آگئی۔اگلے دن پھر اسی مراحل سے گزرنے کے بعد پھر اطلاع ملی کہ ڈاکٹر صاحب آج بھی ہڑتال میں شامل ہیں۔

اس لیے نہیں بیٹھیں گے۔میں اپنے مریض کو لے کر پھر مایوس آگئی۔ایک دن کے وقفے سے دوبارہ ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹر ز کی ہڑتال نے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہمارا کیا بنے گا۔دنیا ترقی کر کے کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔لیکن ہمارے ہاں ہڑتالیں،دھرنے اور کاروبار زندگی کو بند کرنے کے بے پناہ مواقع ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کی بات ماننے،مطالبات سننے کے لیے ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔قصور دونوں طرف کا ہوتا ہے۔حکمرانوں اور مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرنے والوں دونوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے کہ جو لوگ اپنے حق کے لیے سڑکوں پر آئے ہیں ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کر کے نظام زندگی کو مفلوج ہونے سے جلد از جلد بچایا جائے۔جبکہ احتجاج کرنے والوں کو بھی عوام کے دکھ،درد کا احساس کرنا چاہیے۔ہسپتال ایسی جگہ ہے جہاں زندگی اور موت کے درمیان بیماری کا مقابلہ کرنے والے دکھی لوگ مجبوری کی حالت میں آتے ہیں۔ڈاکٹرز اور انتظامیہ کے اپس کے معاملات سے انہیں کیا لینا دینا۔ڈاکٹرز بھی جو کہ مسیحا کا درجہ رکھتے ہیں انہیں احتجاج کے لیے شام میں کوئی ایک دو گھنٹے کا وقت متعین کرنا چاہیے۔وہ وقت جب ہسپتالوں میں مریضوں کے آرام کا وقت ہوتا ہے۔

پورے پورے دن کے لیے وہ بھی کئی کئی دنوں تک آفس ٹائم میں اس طرح کا رویہ کسی صورت بھی درست نہیں۔دوسری جانب حکومت جو کہ وعام کو وعدوں اور حسین خواب دکھا کر ایوان اقتدار میں داخل ہوتی ہے۔اور پھر ان کے بنیادی حقوق سے انہیں محروم کر دیتی ہے۔یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔صحت عوام کا بنیادی حق ہے۔جس پر حکمرانوں کو کسی صورت پہلو تہی نہیں برتنا چاہیے۔ڈاکٹرز کے مطالبات پر حکمران جماعت کو فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔عوام کے درد دور کرنے کے لیے حکومت کو اس نازک معاملے کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے ہمیشہ تیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔چند روز قبل مسلم لیگ (ن) نے بھی سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈی بند کرنے کے خلاف تحریک التواء پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی ہے۔گزشتہ کئی ماہ سے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار انتہائی کشیدہ نظر آرہی ہے۔لوگوں کی بے پناہ شکایات اس سلسلے میں سننے کو ملیں۔

جس پر ہم نے خود بھی کئی معروف ہسپتالوں کا دورہ کیا۔جہاں جا کر معلوم ہوا کہ حکومتی عہدے داروں کے لیے سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کر کے ان کی حالت زار ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔مشینریز بند پڑی ہیں۔ہماری آنکھوں کے سامنے ایکسیڈنٹ ہونے پر نوجوان کو ریسکیو کی گاڑی پر ہسپتال پہنچنے کے باوجود ایکسرے مشین بند ہونے پر اسے سڑک کراس کر کے خود جا کر ایکسرے کروانے پڑیاور واپس آکر ابتدائی طبی امداد دی گئی۔خون میں لت پت یونیورسٹی کے طالب علم کے اس صورتحال پر کئی کئی پوچھے گئے سوالات کے جواب ہمارے پاس کوئی نہ تھے۔حکومت کو فوری طور پر سرکاری ہسپتالوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم